حیرت ہے واضح احکامات کے باوجود درخت کاٹے جارہے ہیں: لاہور ہائیکورٹ برہم

لاہور ہائیکورٹ نے واضح احکامات کے باوجود درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کی روک تھام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے پی ایچ اے کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایڈووکیٹ جنرل کو 16 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

عدالت نے درختوں کی کٹائی سے متعلق پالیسی بنانے کیلئے پی ایچ اے سے رپورٹ بھی طلب کی اور کہا کہ حیرت ہے واضح احکامات کے باوجود درخت کاٹے جارہے ہیں، پی ایچ اے کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے ۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی ایک تاریخی ادارہ ہے، وہاں میاواکی طرز پر جنگل لگایا جائے، یہ ایسا کام ہے جس سے آئندہ نسلوں کا فائدہ ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے