ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر اور عوامی مقامات کا عدم تحفظ

ملک ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کی زد میں ہے اور عوامی مقامات غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ خوف کی فضا نے شہری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور لوگ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور تفریحی مقامات پر جاتے ہوئے بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

چند روز قبل اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ درجنوں بے گناہ افراد شہید اور زخمی ہوئے، اور کئی گھرانوں کے چراغ گل ہو گئے۔ اس سانحے نے نہ صرف خاندانوں کو اجاڑا بلکہ اجتماعی قومی شعور کو بھی زخمی کر دیا۔

اسلام آباد کی تاریخ میں اس نوعیت کا اتنا بڑا دھماکہ پہلے کم ہی دیکھنے میں آیا، مگر یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک کے دیگر شہروں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں اس سے بھی بڑے سانحات رونما ہوتے رہے ہیں۔ وہاں ہزاروں خاندان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

دہشت گرد نیٹ ورکس کی یہ کارروائیاں محض چند جانیں لینے تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کا اصل ہدف ریاست کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام ریاست سے بدظن ہوں، سرمایہ کاری رکے، اور ملک معاشی و سیاسی بحرانوں میں الجھ جائے۔

یہ ایک منظم سازش ہے جس کے ذریعے خوف کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب عبادت گاہیں محفوظ نہ رہیں، جب اسپتال اور عدالتیں خطرے میں ہوں، تو عوام کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں اور یہی دہشت گردوں کا مقصد ہوتا ہے۔

ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ لہٰذا بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ وقتی اقدامات کے بجائے مستقل اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

عوامی مقامات اور مذہبی عبادت گاہوں میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس چیکنگ کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔ اسپتال، عدالتیں، میٹرو اسٹیشنز، الیکٹرک بسیں اور پارکس جیسے مقامات پر داخلی نگرانی کے مؤثر انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں سکیورٹی کے نام پر اکثر نمائشی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بظاہر مشینیں نصب ہوتی ہیں مگر ان کی فعالیت اور مؤثریت پر سوالیہ نشان قائم رہتا ہے۔

مجھے 2013 کا ایک واقعہ یاد آتا ہے جب نشتر ہال میں عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہو رہی تھی جس میں موسیقی کا پروگرام بھی شامل تھا۔ میں ایک سینئر شاعر کے ہمراہ وہاں پہنچا۔

جب ہم سکیورٹی دروازے سے گزرے تو اسکینر مشین نے کوئی الارم نہیں دیا۔ میرے ساتھ موجود شاعر نے فوراً تعینات پولیس اہلکار سے کہا کہ آپ خراب مشین پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

اہلکار حیران رہ گیا کیونکہ اس شاعر کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ موجود تھا۔ اس واقعے نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ اگر چیکنگ کا نظام محض رسمی ہو تو کوئی بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔
ان دنوں پشاور میں ہر طرف دھماکوں کی خبریں آ رہی تھیں اور حالات نہایت سنگین تھے۔ ایسے میں سکیورٹی کی اس کمزوری نے ہمیں مزید فکرمند کر دیا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ سکیورٹی کو سنجیدگی سے لیا جائے محض خانہ پُری نہ کی جائے۔ جدید آلات کی باقاعدہ جانچ، اہلکاروں کی تربیت اور احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے۔

اب وقت محض مذمتی بیانات کا نہیں بلکہ فیصلہ کن اقدامات کا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں بلکہ نظم، حکمت اور سنجیدہ منصوبہ بندی سے جیتی جاتی ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ سکیورٹی نظام کو روایتی طریقوں سے نکال کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔

عوامی مقامات پر صرف واک تھرو گیٹس نصب کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی باقاعدہ ٹیکنیکل جانچ، روزانہ کی بنیاد پر فنکشنل ٹیسٹنگ اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا نظام بنایا جائے۔ سی سی ٹی وی کیمرے محض دیواروں کی زینت نہ ہوں بلکہ مرکزی کنٹرول روم سے منسلک ہوں جہاں تربیت یافتہ عملہ چوبیس گھنٹے نگرانی کرے۔

ہر بڑے شہر میں “ریپڈ رسپانس یونٹ” قائم کیے جائیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند منٹوں میں موقع پر پہنچ سکیں۔ میٹرو اسٹیشنز، الیکٹرک بسوں اور پارکوں میں اسمارٹ کارڈ یا ڈیجیٹل انٹری سسٹم متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ مشکوک سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ رہے۔

مذہبی عبادت گاہوں، اسپتالوں اور عدالتوں میں بائیومیٹرک یا کم از کم مؤثر فزیکل چیکنگ کا نظام بنایا جائے۔ داخلی راستوں کو محدود اور منظم کیا جائے، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کو جدید اسکریننگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی عملی تربیت دی جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینا بھی ناگزیر ہے۔ محلوں اور مساجد کی سطح پر رضاکارانہ سکیورٹی کمیٹیاں بنائی جائیں جو مقامی پولیس کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ مشکوک حرکات کی فوری اطلاع دینے کا باقاعدہ اور محفوظ نظام قائم کیا جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ سکیورٹی کو وقتی ردعمل کے بجائے مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ریاستی ادارے، سکیورٹی فورسز اور عوام ایک صفحے پر ہوں۔

اگر ہم نے سکیورٹی کو سنجیدگی، دیانت اور جدید حکمت عملی کے ساتھ مضبوط کر لیا تو دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار خوف خود بخود ٹوٹ جائے گا۔ اور جب خوف ٹوٹتا ہے تو قومیں مضبوط ہوتی ہیں، ریاستیں مستحکم ہوتی ہیں اور مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے