زندگی کے طوفانوں میں جب کوئی اکیلی ماں اپنے بچوں کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتی ہے، تو اس کے قدموں میں صرف چلنے کی جستجو نہیں ہوتی، بلکہ راستے بنانے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ صائمہ بتول کی کہانی محض ایک کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ عزم، لگن اور بے مثال جذبے کی تاریخ ہے۔
پڑھیے ایک خصوصی تحریر
صائمہ بتول: بیڈمنٹن اور اسلام آباد میں لڑکیوں اور نوجوانوں کی نمو کا ایک نیا تصور لے کر کام کر رہی ہیں –
صائمہ بتول نے اپنی انتھک محنت اور جذبے سے اسلام آباد میں بیڈمنٹن کے کھیل کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر ایئر بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں بلکہ ایک بہترین ٹرینر بھی ہیں جو کم عمر بچے/بچیوں اور نوجوان خاتون/مرد کھلاڑیوں کو چیمپئن بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کا نام اس کھیل سے رغبت رکھنے والوں کے لیے اجنبی نہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں بیڈمنٹن کی دنیا میں ایک نام نمایاں طور پر اپنے آپ کو ان لوگوں اور شعبوں سے بھی متعارف کروایا ہے جو اس کھیل کی دنیا سے بہت دور ہیں یا ہوگئے – ان میں سے ایک میں بھی ہوں – میں تو صائمہ کو ایک بے باک شاعرہ اور سفاک حد تک حقیقت پسند خاتون کی حیثیت سے کچھ کچھ جان پائی تھی- پھر ان کا یہ روپ یہ ٹیلنٹ بھی منکشف ہوا – بڑا ہی اچھا لگا۔
ایک سفر، بے شمار کردار: اکیلی ماں سے کامیاب خاتون تک
زندگی نے صائمہ بتول کو بہت سی آزمائشوں سے گزارا۔ ایک اکیلی ماں کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ خود کو بھی تراشا، نکھارا اور بلندیوں تک پہنچایا۔ وکیل کی حیثیت سے تعلیم حاصل کرنے والی صائمہ نے اپنی صلاحیتوں کو مختلف شعبوں میں آزمایا اور ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا۔
وہ پاکستان کی پہلی ویٹرن خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی ہیں، ایک فارنزک ٹرینر ہیں، اور ایک قابل ٹیک رائٹر بھی۔ یہ محض شناختیں نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد کی کہانی کے ابواب ہیں۔ ہر کردار میں انہوں نے اپنے آپ کو ثابت کیا اور دوسروں کے لیے راہ روشن کی۔
ایک منفرد شخصیت: شاعرہ، حقیقت پسند اور کھلاڑی
صائمہ بتول کی شخصیت کی جھلکیاں ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہیں۔ ایک بے باک شاعرہ کے طور پر وہ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں، اور ایک سفاک حد تک حقیقت پسند خاتون کے طور پر زندگی کی سختیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ یہ دونوں پہلو ان کی طاقت ہیں جو انہیں ہر چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
قانون سے کھیل تک: جذبے کو پیشہ بنانے کی داستان
قانون کی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود، انہوں نے اپنے جذبے کو پیشہ بنایا اور بیڈمنٹن کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ بطور پاکستانی خاتون ایئر بیڈمنٹن پلیئر اور ٹرینر، وہ نوجوان کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیتوں سے آگاہ کراتی ہیں اور انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں۔
ان کی تربیتی تکنیک منفرد ہیں۔ وہ ہر کھلاڑی کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانتی ہیں اور انہیں اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچنے میں مدد کرتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف کھیل سکھانا نہیں بلکہ کھلاڑیوں میں خود اعتمادی، نظم و ضبط اور مقابلے کی روح پیدا کرنا ہے۔
چھٹا بہار بیڈمنٹن ٹورنامنٹ ٢٠٢٦: محنت کا ثمر
ان دنوں صائمہ شہر اقتدار میں چھٹا بہار بیڈمنٹن ٹورنامنٹ ٢٠٢٦ منعقد کروا رہی ہیں۔ ان تھک محنت کا ثمر چھٹے بہار بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ تین روزہ (١٣ سے ١٥ فروری ٢٠٢٦) شاندار ایونٹ اسلام آباد میں بیڈمنٹن کے فروغ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔
صائمہ بتول کا وژن: کھیلوں میں خواتین کی سربلندی
صائمہ بتول کا بنیادی مقصد پاکستان میں ایئر بیڈمنٹن کے کھیل کو بلند کرنا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان، خاص طور پر لڑکیاں، اس کھیل کی طرف راغب ہوں۔ ان کی تربیتی تکنیک میں جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی پر بھی زور دیا جاتا ہے۔
وہ ہر سطح کے کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں – چاہے وہ ابتدائی ہوں یا تجربہ کار۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر کھلاڑی میں چیمپئن بننے کی صلاحیت ہوتی ہے، بس ضرورت ہے صحیح رہنمائی اور مسلسل محنت کی۔
اسلام آباد کی بیڈمنٹن کمیونٹی: صائمہ کی میراث
صائمہ بتول نے اسلام آباد میں بیڈمنٹن کمیونٹی کو نہ صرف بڑھایا ہے بلکہ اسے مضبوط بھی بنایا ہے۔ ان کی محنت سے متعدد نوجوان کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ چھٹا بہار ٹورنامنٹ ان کی کاوشوں کا ثبوت ہے جہاں مختلف عمر کے کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
جب کوئی کورٹ پر شٹل کاک کو اڑاتا ہے، تو اس میں صائمہ بتول کی محنت کی جھلک ہوتی ہے۔ جب کوئی نوجوان کھلاڑی میڈل جیتتا ہے، تو اس میں ان کی تربیت کا عکس ہوتا ہے۔ یہ صرف کھیل نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے جو صائمہ نے شروع کی ہے۔
تحریک اور پیغام: ہر خواب ممکن ہے
بلا شبہ صائمہ بتول کی کہانی ہر اس شخص کے لیے اور خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کے لیے تحریک ہے جو اپنے جذبے کو پیشہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عزم اور محنت سے کوئی بھی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ان کا سفر ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک فرد اپنی محنت اور لگن سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ایک اکیلی ماں سے لے کر قوم کی فخر تک، فارنزک ٹرینر سے لے کر ویٹرن بیڈمنٹن چیمپئن تک، ٹیک رائٹر سے لے کر شاعرہ تک – ہر کردار میں صائمہ بتول نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی اور عظمت حاصل کی۔
جب حوصلہ بلند ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں-