مدراس میں رائج نظام ونصاب تعلیم کے موضوع پر اپنے ساتھیوں کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے، خیر خواہی اور دردمندی کے جذبے کے ساتھ کچھ معروضات پیش کی، وہ حاضر خدمت ہیں۔
جس طرح دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تقرری سے قبل ان کی باقاعدہ تربیت، نفسیاتی رہنمائی اور تدریسی مہارتوں کی آبیاری کی جاتی ہے، اسی طرح ہمارے مدارسِ عربیہ میں بھی اس امر کو منظم، لازمی اور اصولی بنایا جائے۔
مدارس ہمارے دین، تہذیب اور علمی وراثت کے امین ہیں۔ یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ کل کے ایمہ ، خطباء، مفتیانِ کرام اور دینی رہنما ہوتے ہیں۔ جب ذمہ داری اتنی عظیم ہو تو اساتذہ کی تیاری بھی اسی معیار کی ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے اکثر مدارس میں تقرری کے وقت علمی سند کو تو دیکھا جاتا ہے، مگر تدریسی صلاحیت، نفسیاتی فہم اور کلاس مینجمنٹ کی مہارت کو باقاعدہ جانچنے اور نکھارنے کا نظام موجود نہیں ہوتا۔ چند اداروں میں اصول و ضوابط ضرور ہیں، اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی جانب سے “تدریب المعلمین” کے نام سے مختصر ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، لیکن ان کا دورانیہ، وسعت اور عملی افادیت صوبہ بھر کے ہزاروں مدرسین کے لیے ناکافی ہے۔
میری گزارش یہ ہے کہ ہر نئے استاد کے لیے کم از کم چالیس روزہ تربیتی کورس لازمی قرار دیا جائے۔ ادارہ تقرری ضرور کرے، مگر تدریسی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل استاد اس جامع تربیت سے گزرے۔ اس تربیت میں درسِ نظامی کی کتب کی عملی تدریس، سبق کی تیاری، وقت کی درست تقسیم، طلبہ کی نفسیات، امتحانی نظام، اور جدید تدریسی اسالیب شامل ہوں۔ محض تقاریر پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ عملی مشق، نمونہ تدریس اور باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ استاد میدانِ عمل میں اترنے سے پہلے پوری طرح تیار ہو۔
اسی طرح ہر صوبے کے دارالحکومت میں مستقل تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں اساتذہ کو ان کے تدریسی درجے (ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ، عالمیہ وغیرہ) کے مطابق مخصوص تربیت دی جائے۔ ہر کتاب کے لیے طریقۂ تدریس پر رہنما اصول مرتب کیے جائیں تاکہ تدریس محض روایت نہ رہے بلکہ ایک منظم اور بامقصد عمل بن جائے۔
اساتذہ کی معاشی حالت بھی تعلیمی معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کم از کم تنخواہ کا باقاعدہ تعین ہو اور تجربہ و صلاحیت کے مطابق اسکیل یا گریڈ سسٹم وضع کیا جائے۔ ایک مطمئن اور باوقار معلم ہی پوری دلجمعی سے اپنی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔
مزید برآں، مدارس کے نظماء اور منتظمین کے لیے بھی انتظامی و مینجمنٹ تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ادارہ جاتی منصوبہ بندی، مالی شفافیت، طلبہ نظم و ضبط، ابلاغی مہارت اور تنازعات کے حل جیسے امور میں رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ انتظامی ڈھانچہ بھی مضبوط ہو۔
اگر ہم اپنے اساتذہ کو منظم تربیت، مناسب معاوضہ اور واضح اصول فراہم کریں تو ہمارے مدارس علمی و تربیتی اعتبار سے مزید مستحکم ہوں گے۔ ایک تربیت یافتہ معلم ہی باصلاحیت اور متوازن طلبہ تیار کر سکتا ہے، اور یہی ہمارے مدارس کا اصل سرمایہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، بصیرت اور عملی اقدام کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔