جامعۃ الشیخ یحییٰ المدنی زمانی مدت کے اعتبار سے نوپا سہی، مگر علمی کارناموں کے اعتبار سے ایک بڑا باوقار ادارہ ہے!
استاد جی مولانا حسین قاسم رحمہ اللہ اس کے ذیلی شعبے "مؤسسۃ احیاء اللغۃ العربیہ ” کے امین عام اور روح رواں تھے، ملک بھر میں اس کی سرگرمیوں کی چلت پھرت، اس کی جانداری اور اس کی اثر افرینی بڑی حد تک استاد جی رحمہ اللہ کی جہد مسلسل کی مرہون منت تھی، وہ دن رات عربی کے نشر واشاعت کےلیے کڑھتے رہتے تھے، عربی کے ساتھ ان کی سچی محبت کا قصہ درحقیقت طولانی ہے ، جس کے بیان کےلیے ایک مستقل تحریر درکار ہے، فی الحال اتنا سمجھ لیں کہ عربی زبان ان کا اوڑھنا بچھونا، ان کی فکر کا محور اور ان کی روح کی غذا تھی!
موسسہ احیاء اللغۃ العربیہ کے پلیٹ فارم سے استاد جی نےعربی کے کام کو ملک بھر میں پھیلایا، سال میں دو تین "منتديات” منعقد کرتے تھے، جن میں شہر بھر سے عربی ادب کے کبار فضلاء کو بلاتے تھے، اس کے علاوہ مسابقات اور تدریبی دورے برائے اساتذہ، برائے طلبہ، برائے عوام، اور اس نوعیت کے متنوع، پہلو دار سرگرمیاں اس پلیٹ فارم سے جاری رکھتے تھے، ان سب میں بنیادی محنت، منصوبہ بندی، دوڑ دھوپ، اور فکری راہنمائی استاد جی کی ہی ہوتی تھی! چونکہ اول روز سے اس کی سرگرمیوں میں اور پھر ہر منتدی اور مسابقے کے حوالے سے مشورے اور اپنی اراء استاد جی عموما بندہ کے ساتھ شئیر کرتے تھے، اس لیے بندہ کو علم ہے کہ اس حوالے سے استاد کی کتنی محنت، جانفشانی اور جان گدازی کتنی تھی؟!
نہایت مسرت ہوئی جب چند دن قبل جامعۃ الشیخ کے انتطامیہ کی جانب سے استاد جی کے علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے "یادگاری مجلس” میں شرکت کا دعوت نامہ ملا، اپنے محسنین کے خدمات کا اعتراف اور ان کی شخصیت کو خراج عقیدت ان کی روح سے وفاداری ہوتی ہے.
چنانچہ آج کی رات وہاں کے انتظامیہ نے وہ خوبصورت مجلس سجائی تھی، جس میں شہر بھر سے استاد جی کے تلامذہ، متعلقین واحباب کو بلایا تھا، مولانا شاہ حکیم مظہر صاحب مدظلہم، جو استاد جی کے شیخ السلوک بھی ہیں، ان کے استاد جی کے حق میں گرانقدر کلمات سننے کا موقع ملا، جامعہ بنوریہ کے رئیسس مفتی نعمان نعیم صاحب نے گفتگو فرمائی، ان کے علاوہ شیخ شفیق الرحمان بستوی، شیخ عبد اللطیف معتصم طالقانی، شیخ یوسف المدنی، شیخ قاضی اسامہ، شیخ محمود تونسی، بھائی مولانا عبد الوھاب دیروی اور بندہ نے بھی عربی میں استاد جی کی شخصیت پر چند کلمات عرض کیے!
حقیقت یہ ہے کہ استاد جی کی شخصیت پر گفتگو میرے لیے اس اعتبار سے نہایت مشکل تھی، کہ کم وبیش پندرہ سالہ ان کے ساتھ بسرہوئے، پھر وہ بھی بحیثیت شاگرد، بحیثیت نیازمند اور بحیثیت قربت پانے والے کے، ایسے میں ان کی شخصیت پر گفتگو آسان نہ تھی، بہر حال، موضوع کی مناسب سے چند کلمات ادا کیے، بقیہ ان کی شخصیت پر عربی میں قدرے مفصل لکھا ہے، جو "الفجر” میں انشاءاللہ تعالی شائع ہوگی!
بہت خوشی ہوئی کہ جامعۃ الشیخ کے حضرات نے اتنی قلیل مدت میں استاد جی کے حوالے اس خوبصورت یادگاری مجلس کا اہتمام کیا تھا، استاد جی کے ساتھ گزرے لمحات کی یادیں تازہ ہوئیں ، نیز ان کی شخصیت، خدمات اور علمی کارناموں کو خراج تحسین پیش کرتے دیکھ دل کو ایک گونہ طمانینت حاصل ہوئی!
جامعۃ الشیخ نے اس کے ساتھ ساتھ ان کی یاد میں عربی مجلہ "الفجر” کے خاص عدد کی اشاعت کا بھی فیصلہ کیا ہے، جو ایک نہایت عمدہ اور بامعنی اقدام ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کاوشوں کو شعف قبولیت عطا فرمائے ، استاد جی کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور ان کے علمی فیض کو جاری وساری رکھے!