یہاں میری ملاقات ڈاکٹر کامران قدیر فرام راولپنڈی سے ہوئی، وہ باڈی بلڈر تھا اور بلا کا ذہین و شاطر، وہ اور ظہیرالدین بابر فرام گوجرانوالہ روم میٹ تھے، کامران بندے کو باتوں میں الجھا کر رکھ دیتا تھا، رات کو ہم اس کے کمرے میں جمع ہوتے، ٹارگٹ ہمیشہ نیا بندہ ہوتا، سب دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے، کامران چادر اوڑھ کر چڑیل کا واقعہ سنانا شروع کرتا، "اندھیری رات، بارش زوروں پر، ہر طرف ہُو کا عالم، ایک لڑکا بائیک پر سوار قبرستان کے پاس سے گذر رہا ہے، بائیک پنکچر ہو جاتی ہے اور لڑکا پریشان، ڈر کے مارے اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، اتنے میں ایک لڑکی آتی ہے اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کرتی ہے، لڑکا پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تجسس میں مبتلا ہو کر وہ اسے آوازیں دیتا ہے لیکن جواب ندارد، اب بارش تیز ہو گئی ہے، لڑکا اسے کہتا ہے اپنا نام تو بتا ؤ، تم ہو کون؟
بجلی کڑکتی ہے، لڑکی پیچھے مڑتی ہے، اس کے سامنے والے دانتوں سے خون ٹپک رہا ہے، ہائے اللہ وہ ایک خونخوار چڑیل ہے.” یہاں تک کہانی میں اچھا خاصہ سسپنس پیدا ہو چکا ہوتا تھا، سب دم سادھے خاموش، ہمہ تن گوش ہوتے، کسی کے سانس کی آواز بھی نہ آتی، جب چڑیل کے پیچھے مڑ کر نام بتانے والا مرحلہ آتا، عین اسی لمحے بجلی والے سوئچ کے پاس بیٹھا بندہ ہاتھ بڑھا کر بلب بجھا دیتا، کمرے میں گھپ اندھیرا چھا جاتا، انتہائی سرعت سے کامران پیچھے مڑ کر نئے بندے پر چادر پھینک کر بولتا "میرا نام کالی ماتا ہے آج تیرا خون پی کر 100 شکار پورے کرنے کا جشن مناؤں گی.
” کمرے میں ہڑبونگ مچ جاتی، نیا بندہ چیختا، ہاتھ پاؤں مارتا، پریشان ہوتا، دھکے مار کر کامران کو ہٹانے کی کوشش کرتا لیکن کامران میں سرکاری سانڈ جیسی طاقت تھی، وہ نووارد کو زور سے جکڑ لیتا، پھر جب لائٹ آن کرتے تو نووارد کے اوسان خطا ہوتے، جب معاملہ سمجھ آتا تو وہ بھی ہنسی میں شامل ہو جاتا، جب پہلے دن میری باری آئی، لائٹ بند ہوئی، میرے دماغ میں کھٹکا ہوا اور میں کرسی سے نیچے کھسک گیا، کامران نے مجھ پر جست لگائی اور کرسی سمیت سیدھا دیوار سے جا ٹکرایا، ہنس ہنس کر دوہرے ہوئے، کامران سے میری دوستی اتنی بڑھی کہ ہم لازم و ملزوم ہوگئے، اسی طرح ہر روز نیا بندہ گھیر کر لاتے اور اس کی فولنگ کرتے، بعد میں پورا ہوسٹل کامران کو پیر اور مجھے مرید پکارنے لگا تھا، ہم دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم تھے، مل کر بہت پنگے کرتے تھے.
ہمیں آئے ہوئے لگ بھگ دو مہینے ہو چکے تھے اور تب بھی رشین زبان برائے نام معلوم تھی، ایک دن ہم دونوں دریا کنارے ٹہلتے ہوئے منڈیر پر بیٹھ گئے، میں منڈیر پر کامران کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اور کامران شرارت کے طور پر میرے سر کے بالوں کی جوئیں تلاش کرنے لگا، اتنے میں وہاں سے ماشا گذری، بولی "ты гей?”، سمجھ نہ آئی کہ لڑکی کیا بول رہی ہے، جب اس نے اشارے سے سمجھایا کیا تم لوگ انگریزی والے "گے ” ہو، تو میرے تن بدن میں ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا اور فورا اُٹھ کر بیٹھ گیا، مجھے اٹھتے دیکھ کر باقی راہگیر بھی کھل کر ہنسے، یہ ہمارا ماشا سے پہلا تعارف تھا، یہ بہت خوب صورت رشین لڑکی تھی، یوں سمجھ لیں کہ مدھو بالا کا بچپن، بہت باتونی اور شرارتوں میں ایک نمبر کی استانی، اس سے ہماری دوستی لمبے عرصہ تک چلی، ہم نے مل کر پانچ چھ رشین لڑکیوں کا ایک گروپ بنایا اور بہت شرارتیں کرتے تھے.
میاں افنان شریف جیسا مہا جُگت باز اور فی البدیہہ جواب دینے والا پورے ہوسٹل میں کوئی نہ تھا، عالم ارواح سے جب روحیں زمین پر اتاری گئی تھیں تو ہم دونوں کی رُوحیں بھی اکٹھی ہوں گی، افنان بھی اولڈ راوین تھا، ہم دونوں ایک ہی گورنمنٹ کالج لاہور سے پڑھے تھے، وہ باڈی بلڈنگ کرتا تھا، دوسروں کو دکھا دکھا کر دودھ کا پیکٹ ایک سانس میں غٹک لیتا اور مجال ہے جو کسی کو پیکٹ چھونے بھی دیتا، ہم دونوں کی بہت گاڑھی چھینتی تھی، بات کو گھمانا اس پر ختم تھا، ہم دونوں پلان کرکے شرارتیں کرتے لیکن افنان ہر مرتبہ مجھے پکڑوا دیتا اور خود مکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتا، تب افنان کے بال بہت خوب صورت تھے، سب سے پہلے یہی گنجا ہوا تھا، شائد اس کی دوستی کا اثر تھا کہ مجھے بھی تین سال پہلے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروانا پڑا تھا۔
ایک دن کمروں کی صفائی چیک کرنے والی کمیٹی کا راؤنڈ شروع ہوا، کوریڈور میں سے آوازیں آنا شروع ہوئیں، کمرے کی صفائی والی میری باری تھی لیکن بھول گیا تھا، خطرہ بھانپ کر آناً فاناً کمرے میں موجود کوڑا جمع کرکے ایک بیگ میں ڈالا، بیرونی کھڑکی کھولی اور بازو گھما کر باہر پھینک دیا لیکن قسمت کی ستم ظریفی کہ عین اسی لمحے دروازہ کھلا، مدنی، صفائی کمیٹی کے ممبرز بشمول افنان کو دروازہ کھول کر اندر لا رہا تھا، کوڑے کا بیگ باہر پھینکنے کا منظر سب نے دیکھ لیا، میں ہکا بکا رہ گیا، افنان تسلی دیتے بولا "پریشان ہونے کی ضرورت نہیں.” مدنی نے ان سب کو فانٹا کے گلاس بھر بھر کر پلائے، کمرے کی صفائی کے تین نمبر ہمیں ملے اور ہمارا کمرہ پاس ہوگیا.
صفائی کمیٹی گرمجوشی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہوگئی، آدھے گھنٹے بعد افنان ہمراہ صفائی کمیٹی کے ممبران آن دھمکے "ہوسٹل کی رشین کمانڈنٹ نے تم کو نیچے بلایا ہے.” معاملہ گڑ بڑ محسوس ہوا، میں ان کے ساتھ جانے سے انکاری، مذاکرات، گفت و شنید ناکام ہوئی، افنان کے لقمہ دینے پر صفائی کمیٹی والوں نے ڈنڈا ڈولی کرکے مجھے اٹھایا، دو نے بازووں سے پکڑا اور دو نے ٹانگوں سے اٹھایا اور پانچویں فلور سے نیچے زمینی فلور پر ہوسٹل کمانڈنٹ کے روبرو پیش کر دیا، وہ بہت چنگھاڑی، ایک ہزار تنگے جرمانہ ہوا.
ایک آئٹم ثناء اللہ ماسکو سے سیمی پلاٹنسک منتقل ہوا، ڈراؤنی شکل، کالا بھجنگ رنگ، ریلوے گارڈ کی سیٹی جیسا ناک، ڈھیلے ڈھالے باہر کو لٹکے موٹے ہونٹ، چارلی چپلن جیسی چال، بلا وجہ ہر بات میں دخل اندازی کرتا اور سب اس سے تنگ تھے، اسے نعمان طاہر کے ساتھ بطور روم میٹ کمرہ ملا، یوں وہ میرا پڑوسی بن گیا اور میس میں بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگیا، دور حاضر کے پکوان کے نام پر اس نے جو الم غلم ہمیں کھلایا، روز قیامت اس کا حساب ہوگا.
ہم نے ایک شرارت کرنے کا فیصلہ کیا، ثناء اللہ کو شرارت سمجھائی، اغلام بازی کا شوقین ایک افغانی ہوسٹل کے باہر ہی مل گیا، اس کے سامنے بڑی تعریفیں کیں کہ موسکو سے دودھ کے رنگ جیسا لڑکا آیا ہے، جب اس کی رال ٹپکنے لگی تو اسے ثناء اللہ کے کمرے میں لے گئے، حسب پروگرام وہ پیٹھ دروازے کی طرف کرکے پڑھ رہا تھا، اسے آوازیں دیں "خان صاحب تم سے ملنے آئے ہیں، تمہاری خدمت کرنا چاہتے ہیں.” جواب نہ آیا تو خان صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا "ماڑا اماری طرف دیکھو، ام تم سے ملنے آئی ہے.” منت سماجت کرکے جب ثناء اللہ نے رُخ پھیرا تو خان صاحب کا غصہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا اور ہم سب نے وہاں سے دوڑ لگا دی.
ایک دن افنان اور میں پروگرام بنا کر ہوسٹل کے باہر تھڑے پر بیٹھے تھے، میں افنان کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ رہا تھا، پروگرام یہ تھا کہ جو بھی آئے گا، اس کو افنان گھیرے گا، ہم دونوں اس کے ہاتھ پکڑ کر ہاتھ کی لکیریں دیکھیں گے، اور پھر اس کے ہاتھ پر کھنگار پھینکیں گے، اتنے میں ثناء اللہ عرف چاند گاڑی آیا، اس کو افنان نے گھیرا ڈالا، اس کا ہاتھ تھام کر لکیریں دیکھیں اور مستقبل کی نشاندہی کی، افنان نے مجھے اشارہ کیا، میں نے ایک بڑا کھنگار ثناء اللہ کے ہاتھ پر تھوک دیا جبکہ افنان نے منہ بند رکھا، ثناء اللہ نے غصے سے میری طرف دیکھا، معاملہ خراب ہو گیا تھا، افنان نے مجھے پھر پھنسا دیا تھا، لہذا میں نے دریا کی طرف دوڑ لگا دی.
لڑکے عجیب و غریب شرارتیں کرتے تھے، ٹوائلٹ کے آدھے دروازے کی وجہ سے اندر کموڈ پر بیٹھے فـرد کی ٹانگیں باہر سے نظر آتی تھیں، رفع حاجت کے بعد پچھواڑا صاف کرنے کیلئے پانی کی بوتل ساتھ لے کر جانا پڑتی تھی، عبدالرحمن اور زاہد عمران ان بوتلوں میں گرم پانی بھر دیا کرتے تھے، جو بندہ بھی رفع حاجت کے بعد اس بوتل کا پانی استعمال کرتا، ایک اونچی "آہ” کی آواز گونجتی، یا بعض اوقات ٹوائلٹ میں موجود بوتلیں غائب کر دیتے تھے، رفع حاجت کے بعد یہ ایک وکھری ٹائپ کا سیاپا ہوتا تھا کہ ٹانگیں پھیلا کر الٹے ترچھے کھڑے ہو کر کموڈ کے پانی سے چُلو بھر بھر کر پچھواڑا صاف کرو۔