مدارس کے انتظامی نظام میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا مؤثر کردار

ہم گزشتہ نشست میں مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے گفتگو کر چکے ہیں۔ اس تسلسل میں اب ہم مدارس کے انتظامی نظام اور اس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے کردار پر چند اہم گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان ایک منظم اور باوقار تعلیمی بورڈ ہے جو عرصۂ دراز سے مدارسِ دینیہ کے امتحانی نظام کو نہایت شفافیت، دیانت اور نظم و ضبط کے ساتھ چلا رہا ہے۔ اس کے امتحانات کی شفافیت اور تنظیمی معیار کا اعتراف نہ صرف ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ الحمدللہ، اس ادارے نے اپنے امتحانی نظام پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔

تاہم موجودہ صورتحال میں وفاق کا کردار زیادہ تر امتحانات تک محدود ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ جس طرح وفاق امتحانی نظام میں معیار اور شفافیت کا علمبردار ہے، اسی طرح وہ مدارس کے انتظامی و تعلیمی نظام میں بھی مرحلہ وار بہتری لانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔

مالی تعاون اور تنخواہوں کا نظام:

وفاق المدارس امتحانات، رجسٹریشن، اسناد اور دیگر انتظامی امور کے لیے ایک مخصوص فیس وصول کرتا ہے، جو بلاشبہ ضروری اخراجات کی مد میں ہوتی ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اسی نظام کو وسعت دیتے ہوئے فیس میں معمولی اضافہ یا کوئی متبادل مالی حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ وفاق المدارس مدارس کے اساتذہ کو براہِ راست تنخواہ دینے کا نظام قائم کر سکے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ اقدام تدریجی اور مرحلہ وار ہونا چاہیے۔ مدارس کو ان کے حجم اور استعداد کے مطابق تقسیم کیا جائے—بڑے مدارس، متوسط مدارس اور چھوٹے مدارس کی الگ درجہ بندی ہو۔ پہلے مرحلے میں کم از کم دو اہم مناصب کی تنخواہیں وفاق المدارس کی طرف سے ادا کی جائیں:

شیخ الحدیث
ناظمِ تعلیمات

اگر ان کلیدی عہدوں کی تنخواہ براہِ راست وفاق المدارس ادا کرے گا تو اس کے کئی مثبت نتائج سامنے آئیں گے:

مدارس کے انتظامی معاملات میں شفافیت بڑھے گی۔
اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ممکنہ ناانصافیوں میں کمی آئے گی۔
مالی بے ضابطگیوں اور داخلی تنازعات کا سدباب ہوگا۔
وفاق المدارس کو تعلیمی و انتظامی معیار بہتر بنانے میں عملی کردار ادا کرنے کا جواز اور موقع ملے گا۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ جب تک وفاق مدارس کو مالی طور پر سہارا نہیں دے گا، اس وقت تک مدارس کی انتظامیہ اس کی مؤثر مداخلت یا نگرانی کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گی۔ مالی شراکت داری دراصل اعتماد اور اصلاح کا پہلا دروازہ ہے۔

اصلاح اور استحکام کی جانب ایک قدم

یہ تمام تجاویز تنقید یا اعتراض کی بنیاد پر نہیں بلکہ خیرخواہی، نیک نیتی اور دینی حمیت کے جذبے سے پیش کی جا رہی ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ مدارسِ دینیہ کا نظام مزید مستحکم، منظم اور شفاف ہو۔ اساتذہ مطمئن ہوں، انتظامیہ جوابدہ ہو اور طلبہ کو اعلیٰ معیار کی تعلیم میسر آئے۔

اگر وفاق المدارس العربیہ پاکستان امتحانات کی طرح انتظامی و تعلیمی میدان میں بھی مرحلہ وار اصلاحی کردار ادا کرے تو یقیناً مدارس کا نظام ایک نئی مضبوطی اور وقار کے ساتھ ابھرے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دینی اداروں کو استحکام، اخلاص اور برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے