جو حق کو حق نہ کہہ سکے وہ اہلِ حق نہیں
زباں اگر سچ سے خالی ہو تو پھر وہ حق نہیں
(آمنہ درانی)
کسی بھی معاشرے میں استاد جہاں اہم کردار ادا کرتا ہے وہیں ایک لکھاری کا کردار بھی کم نہیں ہوتا۔ لکھاری لوگوں کی سوچ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی بہترین ترجمانی صرف ایک سچا اور دیانت دار قلم کار ہی کر سکتا ہے لیکن جب یہی لکھاری اپناقلم بیچ دیتا ہے تو وہ معاشرے میں فسادات، غلط فہمیاں اور انتشار پھیلانے کا سبب بن جاتا ہے۔
گویا اگر صحافی اپنے فرائض سے غافل ہو کر اغیار کی خوشنودی کے لیے قلم اٹھائے تو وہ اپنے ہی معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔
بعض اوقات کسی معاشرے میں ایک لکھاری کے لیے جینا آسان نہیں ہوتا کیونکہ قدم قدم پر اسے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ تو صرف لکھتا ہے۔ گویا ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کو وہ عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ اصل میں مستحق ہوتے ہیں۔
ایک لکھاری جب بغیر کسی مالی لالچ کے اپنے خیالات، جذبات اور معاشرتی تبدیلی کے لیے قلم اٹھاتا ہے تو یہ اس کا خالص جذبہ ہی ہوتا ہے جو اسے مثبت انداز میں اپنے خیالات پیش کرنے کا حوصلہ دیتا ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہر وہ چیز جو مفت میں دستیاب ہو اس کی قدر نہیں کی جاتی۔
جب کوئی لکھاری بہترین انداز میں تحریر کرتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کے بجائے لوگ اس پر تنقید برائے تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسے یہ سننے کو بھی ملتا ہے کہ یہ تحریر اس کی اپنی نہیں بلکہ کہیں سے چرا لی گئی ہے یا کسی اور نے لکھ کر دی ہے۔
وہ معاشرہ جہاں لوگوں کی سوچ اس قدر چھوٹی ہو کہ وہ اچھا کام کرنے والے کو سراہنے کے بجائے اس کاحوصلہ گرانےکی کوشش کی جاۓ وہاں ہم کیسے یہ تصور کر سکتے ہیں کہ وہ معاشرہ واقعی مہذب ہے۔
بعض لکھاری حوصلہ ہار کر قلم توڑ دیتے ہیں گویا لوگ جو اینٹیں ان پر پھینکتے ہیں وہی اینٹیں جمع کر کے اپنے گرد ایک حصار تعمیر کر لیتے ہیں جس سے وہ باہر نکلنا پسند نہیں کرتے لیکن کچھ لکھاری حوصلے اور ہمت والے ہوتے ہیں وہ انہیں اینٹوں سے اپنے لیے سیڑھیاں بناتے ہوۓ آگے بڑھ جاتے ہیں اور ہر منفی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں …….
کیونکہ وہ جان جاتے ہیں کہ وہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور جو لوگ ان کی سوچ، فہم اور ادراک کی سطح تک نہیں پہنچ سکتے وہ بے جا تنقید کے ذریعے انہیں گرانے کی ہی کوشش کریں گے۔
کسی بھی لکھاری کی رہنمائی کرنا تو کوئی پسند نہیں کرتا لیکن اگر اس کی تحریر میں اگر خوبصورتی اور معیار نظر آ جائے جو دیگر تحریروں میں دکھائی نہیں دیتا تو لوگ اسے سراہنے کے بجائے بے جا تنقید کا نشانہ بنا کر دوسرے لکھاریوں کی نظر میں گرانے کی ہر کوشش کرتے ہیں اور اکثر کامیاب بھی ہو جا تے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں تحقیق کی عادت کم اور سنی سنائی باتوں پر یقین زیادہ کیا جاتا ہے۔
لوگ خود مشاہدہ کر کے رائے قائم کرنے کے بجائے دوسروں کی باتوں پر ہی اپنی سوچ قائم کر لیتے ہیں جو دراصل اندھی تقلید ہے ۔ جس معاشرے میں اندھی تقلید عام ہو جائے وہاں باشعور انسان کی قدر نہیں ہوتی ہے۔
سچ تحریرکرنا اور جو محسوس کرنا وہی بیان کرنا بعض اوقات اتنا آسان نہیں ہوتا یہ آپ کی مشکلات میں بے جا اضافہ کر دیتا ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص حق بات کرتا ہے یا کسی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو اسے مخالفت، تنقید اور حتیٰ کہ بےعزتی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ سچ آئینہ ہوتا ہے اور ہر شخص آئینہ دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
لکھاری کو یاد رکھنا چاہیےکہ؛
سچ وقتی طور پر تکلیف دے سکتا ہے مگر اس کا انجام وقار ہوتا ہے اورمخالفت اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ آپ نے کوئی اہم بات چھیڑ دی ہے۔
اگر ہم سچائی کے اظہار سے محض اس لیے گریز کریں کہ کہیں ہمیں مشکلات نہ اٹھانی پڑیں تو معاشرے میں بہت سی اصلاحات کبھی بھی ممکن نہ ہوں گی اس لیے ضروری ہے کہ دانش، حکمت اور حوصلے کے ساتھ حق کا ساتھ دیا جائےکیونکہ تبدیلی ہمیشہ جرات سے جنم لیتی ہے۔ بطورِ لکھاری ہمارافرض محض الفاظ کو سجا دینا نہیں بلکہ سچائی کو دیانت داری کے ساتھ بیان کرنا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ حق کی بات قلم بند کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا اعتراضات اٹھتے ہیں، کبھی نیت پر سوال کیے جاتے ہیں اور کبھی خاموش کر دینے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ مگر اگر قلم خوف کے آگے جھک جائے تو پھر لفظ اپنی حرمت کھو دیتے ہیں۔
لکھاری کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب وہ مخالفت اور بے جا تنقید کے باوجود اپنے ضمیر کی آواز کو ترجیح دے۔ مشکلات وقتی ہو سکتی ہیں مگر سچائی پر مبنی تحریر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ اس لیے ایک قلم کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکمت، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ سچ کا ساتھ دے کیونکہ معاشرے کی فکری سمت کا تعین اکثر انہی لفظوں سے ہوتا ہے جو کاغذ پر اترتے ہیں۔
اہلِ قلم پر لازم ہے کہ وہ قلم کو ذاتی مفادات کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت سمجھیں۔ قلم کی سیاہی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر تاریخ ہمیشہ سچ لکھنے والوں کو زندہ رکھتی ہے۔ حق کے لیے اٹھایا گیا قلم کبھی ضائع نہیں جاتا۔
قلم جب بکتا ہے تو الفاظ مر جاتے ہیں اور جب حق کے لیے اٹھتا ہے تو قومیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم قلم کو تجارت کاذریعہ بنائیں گے یا عبادت کا۔۔۔۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ آنے والی نسلیں ہمیں کس نام سے یاد کریں گی؟ حق کے علمبردار کے طور پر یا مفاد کے ترجمان کے طور پر؟
قلم محض الفاظ لکھنے کا ذریعہ نہیں یہ قوموں کی تقدیر رقم کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اگر اہلِ قلم سچائی کو شعار بنا لیں تو معاشرہ خود بخود سنورنے لگتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قلم کو ضمیر کی آواز بنایا جائےنہ کہ خواہشات کا غلام۔