رمضان کا اصل تعارف یہی ہے کہ یہ ایک مکمل ٹریننگز اور روحانی انٹرن شپ کا مہینہ ہے، اور اس پوری ٹریننگز کا بنیادی مقصد تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘ (سورۃ البقرہ: 183)۔ اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی عملی ٹریننگ ہے جو انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتی ہے۔ گویا رمضان ایک سالانہ انٹرن شپ ہے جس میں انسان اپنے رب کے سامنے اپنی عملی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ٹریننگز لیتا ہے۔
تقویٰ دراصل ایسا خوف ہے جس میں محبت بھی شامل ہو، ایسا احساسِ جواب دہی جو انسان کو اپنی حالت بدلنے پر مجبور کر دے۔ ہر خوف تقویٰ نہیں ہوتا۔ ایک خوف وہ ہے جس میں ڈر تو ہوتا ہے مگر انسان اپنی حالت تبدیل نہیں کرتا، جیسے سامنے شیر ہو اور آپ شیشے کے محفوظ کمرے میں کھڑے ہوں، دل میں خوف ہوگا مگر عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک خوف علم کا ہوتا ہے؛ جس کے پاس جتنا زیادہ شعور ہو، اس کے اندر اتنا ہی زیادہ احتساب کا احساس ہوتا ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نماز میں اللہ کے خوف اور آخرت کے تصور سے رو لیا کرو، اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی کیفیت ہی بنا لیا کرو۔ ایک خوف اچانک ہوتا ہے جو جلدی آتا اور جلدی ختم ہو جاتا ہے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے مہمانوں کے سامنے بھنا ہوا بچھڑا رکھا اور انہوں نے نہ کھایا تو آپ کو خوف محسوس ہوا، مگر جب معلوم ہوا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں تو خوف ختم ہو گیا۔ ایک خوف مایوسی اور شرمندگی کا ہوتا ہے، جیسے نتیجہ خراب آئے اور والدین سے دستخط کروانے ہوں تو ان کی ناراضی کا ڈر ہو۔ اور ایک خوف وہ ہے جس میں دل حلق تک آ جاتا ہے، جیسے نتیجہ آنے سے پہلے کی گھبراہٹ، اور قرآن قیامت کے دن کا یہی منظر بیان کرتا ہے کہ اس دن دل گلے تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن تقویٰ ان سب سے مختلف ہے؛ یہ ایسا خوف ہے جو انسان کو گناہ سے روکے اور اللہ کی محبت میں اس کی زندگی بدل دے۔ رمضان اسی تقویٰ کی ٹریننگز ہے۔
اسی لیے رمضان کو ہم ایک مکمل ٹریننگ پروگرام کہہ سکتے ہیں۔ یہ صرف کھانے یا سونے کا مہینہ نہیں بلکہ عملی انٹرن شپ کا زمانہ ہے جس میں انسان پورے سال کا محاسبہ کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ گویا ماحول کو بھی ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ انسان کے لیے اس انٹرن شپ میں کامیاب ہونا آسان ہو جائے۔
رمضان کی مثال ایسے ہے جیسے آپ کے گھر ایک مہمان آئے، وہ خاموشی سے آپ کا گھر صاف کر دے، اسے نیا بنا دے، اگر دوا کی ضرورت ہو تو لے آئے، اور جب تک وہ موجود ہو آپ کو اس کی قدر مکمل طور پر محسوس نہ ہو، لیکن جب وہ چلا جائے تو اس کی کمی شدت سے محسوس ہو۔ رمضان بھی ایسا ہی مہمان ہے جو سال میں ایک بار آتا ہے، دلوں کی گندگی صاف کرتا ہے، روح کی بیماریوں کا علاج کرتا ہے اور پھر رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کی آمد رحمت ہے اور اس کی رخصتی ہمارے لیے امتحان کہ ہم نے اس ٹریننگز اور انٹرن شپ سے کیا سیکھا۔
یہ مہینہ تبدیلی کا مہینہ ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پچھلے رمضان میں میرا اللہ سے تعلق کیسا تھا اور اب کیسا ہے۔ کیا میری نیتیں خالص ہوئیں؟ کیا میں صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے عمل کر رہا ہوں یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے؟ انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ جسے خوش کرنے کے لیے وہ اللہ کو ناراض کر رہا ہے، اس شخص کا دل بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے رمضان ہمیں اپنی نیتوں کو درست کرنے کی عملی ٹریننگز دیتا ہے۔
یہ ٹریننگز اسی وقت کامیاب ہوگی جب ہم پہلے سے منصوبہ بندی کریں۔ اگر کسی بازار یا بڑے تجارتی مرکز میں ننانوے فیصد سیل ہو، یعنی سو روپے کی چیز ایک روپے میں مل رہی ہو، تو کوئی عقل مند شخص ایسا موقع ضائع نہیں کرے گا۔ رمضان میں بھی نیکیوں کی ایسی ہی سیل لگی ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اس مہینے میں نفل کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص محروم رہ گیا جس پر رمضان آیا اور اس کی مغفرت نہ ہو سکی (سنن ترمذی)۔ گویا یہ نفع اور نقصان کا معاملہ ہے؛ جو اس سیل سے فائدہ اٹھا لے وہ کامیاب، اور جو غفلت کرے وہ خسارے میں۔
رمضان میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور ایک رات ایسی رکھی گئی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان کو موقع ملے کہ وہ توبہ کرے۔ توبہ کا مطلب پلٹ کر واپس اپنے گھر آنا ہے، اور جو اپنے گھر واپس آتے ہیں اللہ انہیں خوش آمدید کہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بے شک میں توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں (سورۃ البقرہ: 222)۔ گویا جب بندہ سچے دل سے لوٹتا ہے تو اللہ اسے رد نہیں کرتا بلکہ اپنی رحمت میں جگہ دیتا ہے۔ اس لیے رمضان صرف عبادت کا نہیں بلکہ واپسی کا مہینہ ہے، دل صاف کرنے کا مہینہ ہے، اپنی انٹرن شپ کو کامیاب بنانے کا مہینہ ہے۔
جب پورا معاشرہ ایک ساتھ روزہ رکھتا ہے، ایک ساتھ افطار کرتا ہے اور ایک ساتھ عبادت میں کھڑا ہوتا ہے تو ایک اجتماعی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ دل نرم ہوتے ہیں، سخاوت بڑھتی ہے، لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ یوں رمضان فرد کو بھی بدلتا ہے اور ماحول کو بھی۔ مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم رمضان کے بعد واقعی بدلے؟ کیا ہمارا کردار بہتر ہوا؟ کیا ہماری سوچ میں پختگی آئی؟ کیا ہماری شخصیت میں عاجزی پیدا ہوئی؟ کیا اللہ سے ہمارا تعلق مضبوط ہوا؟ اگر ہاں، تو یہی تقویٰ کی کامیابی ہے۔ اگر نہیں، تو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم نے اس ٹریننگز اور انٹرن شپ سے پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔
رمضان ایک قیمتی مہمان ہے، ایک مکمل ٹریننگز اور انٹرن شپ کا مہینہ ہے، اور تقویٰ اس کی منزل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اسے سنجیدگی، اخلاص اور تیاری کے ساتھ قبول کریں، اپنی عادات درست کریں، اپنی نیتوں کو پاک کریں اور اسے اس طرح رخصت کریں کہ یہ مہینہ ہمیں پہلے سے بہتر انسان بنا کر جائے۔