پشاور کی ایک وڈیو سامنے آئی۔دو لوگ بندوقیں لہراتے ہوئے بیچ چوراہے پر آئے۔تسلی سے پوری فیملی کوخون میں نہلایا اطمینان سے آگے بڑھ گئے۔کیوں؟ ان میں سے ایک شخص نے بدتمیزی کی تھی۔پھرایک وڈیوآئی۔ایک شخص نے مسجد کے دروازے پردوسرے شخص کو ماردیا۔کیوں؟چپل پرہونے والاجھگڑا غیرت کا مسئلہ بن گیا۔چھ دن پہلے ایک اور وڈیوآئی۔ایک شخص دوسرے شخص کوگولی مارنے کیلئےاسکی گاڑی پرچڑھ گیا۔دوسرے نےپہلے گولی چلادی تو یہ شخص وہیں ڈھیر ہوگیا۔وہیں کھڑےایک تیسرےشخص نے گولی چلاکر اس دوسرے کو قتل کردیا۔یہ تیسرا اب جیل میں ہے۔کیوں؟ زمین کا ایک ٹکڑا زندگی سے زیادہ قیمتی ہوگیا تھا۔ان وڈیوز سے بمشکل دھیان بٹاہی تھا کہ ایک وڈیو اور آگئی۔سوات کا ایک روشن فکر شاعر اور ایکٹوسٹ عطااللہ جان ایڈوکیٹ زخمی حالت میں سڑک کے کنارے پڑا ہے۔وہ مدد کا منتظر ہےکوئی مدد کو نہیں آرہا۔لوگ اسکی بے بسی کو فلمانے میں مصروف ہیں۔ایک نوجوان بندوق اٹھائے چلا آتا ہے۔عطااللہ جان کے سینے میں تین گولیاں اتار کر جیل پہنچ جاتا ہے۔کیوں؟ دس روپے پر کچھ بچے جھگڑ گئے تھے۔معاملہ بڑوں تک پہنچا توخون خرابے میں بدل گیا۔
عطااللہ جان کی بے بسی مار گئی۔پشتون وطن کے ہی کچھ مشران یاد آنے لگے جنہیں غیرت کھاگئی۔عبداللطیف آفریدی خدائی خدمتگار تحریک اور نیپ کے زمانے کےآدمی تھے۔باچا خان کے سپاہی اور عاصمہ جہانگیر کے ساتھی تھے۔سپریم کورٹ بارکے صدر رہ چکے تھے۔ ایوب سے مشرف تک ہرآمر سے بھڑے۔وکلا تحریک میں ایک بکتر بند گاڑی دانستہ ان پرچڑھادی گئی۔انکے دونوں پاؤں ٹوٹ گئے مگر گرے وہ پھربھی نہیں۔کبھی نہ گرنے والے اس شخص کو پشاور ہائیکورٹ کے احاطے میں ایک جوان نے گولی مار کرہمیشہ کیلئے گرا دیا۔ کیوں؟گھریلو جھگڑا۔پشتو گلوکارہ غزالہ جاوید بھی یاد آئیں۔انہیں انکے غیرت مند ساتھی نےبیغیرتی کی وجہ سے قتل کردیا۔ گلہ من وزیر بھی یاد آیا۔پشتون وطن میں جنم لینے والی سیاسی تحریکوں کا وہ حبیب جالب تھا۔اس سے زیادہ تعلیم یافتہ پختونوں نے اسے یہاں اسلام آباد میں گھیر کر قتل کردیا۔کیوں؟ گاؤں کی سطح پر ہونے والے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کی تقریب میں دونوں کے بیچ طنزیہ جملوں کا تبادلہ ہوگیا تھا۔حیراں ہوں، دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔
دل دماغ مسلسل جل بھن رہے تھے کہ خان کاسٹ والے سہیل اصغر خان نے آوازدیدی۔آؤ پوڈکاسٹ میں غیرت کا رونا رو لیتے ہیں۔ لمحہ ضائع کیے بغیر پہنچا۔کچھ اور نہیں تودل کا غبار نکل جائے گا۔یہ غبار پشتو زبان میں نکالا کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے۔مگر اب سوچتا ہوں کہ کیوں؟ گھر کی بات گھر میں ہی کیوں رہے۔بحث کایہ دائرہ وسیع کیوں نہ ہو۔کیا مزاحمت فقط کسی حریف کا پیچھا کرتے رہنے کا نام ہے۔کیا خود احتسابی مزاحمت کے زمرے میں نہیں آتی۔جن میں خود احتسابی کا فطری چلن موجود نہ ہو کیا انہیں مزاحمت کا لفظ بھی زبان پہ رکھنا چاہیے؟پشتونوں میں وہ تمام مسئلے موجودہیں جوقبائل میں موجود ہوتے ہیں۔اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسئلے موجود ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ مسئلے کی نشاندہی کرنے والا خود کار میکنزم موجود نہیں ہے۔
خود احتسابی کا چلن موجود نہیں ہے۔نرگسیت اس درجے پر پہنچ گئی ہے کہ قوم پرستی اور نسل پرستی کا فرق ہی ختم ہوگیا ہے۔پھر ایک غضب مظلومیت کے اس کارڈ نے ڈھا رکھا ہے جو نائن الیون کے بعد پشتون تحریکوں میں بجا طور پر درآیا تھا۔اس کارڈ کو اتنا چارج کیا گیا کہ اب مظلومیت گالی،گولی اور تشدد کا لائسنس بن گئی ہے۔ہم گالی دیں گے، اونچی آوازمیں بات کریں گے،اپنے ہی بزرگوں کی داڑھیاں نوچیں گے، شرفا کے دامن سے الجھیں گے اور جشن کا مذاق اڑائیں گے۔یہ سب اس لیے کریں گے کہ ہم لاڈلے مظلوم ہیں۔ہم حتمی ہیں ہم قطعی ہیں ہم تنقید سے بالاتر ہوگئے ہیں۔اب ہم پر باہر سے کوئی تنقید کرسکتا ہے نہ اندر سے کوئی بات کر سکتا ہے۔ ہم نے دنیا کو تہذیب سکھائی ہے، کوئی ہمیں تہذیب کیسے سکھا سکتا ہے۔
پشتونوں کی سرزمین سے غیرت کا بیج اکھاڑ پھینکنے کیلئے باچا خان نےگاؤں گاؤں جوتیاں چٹخائی تھیں۔اس سے بہت فرق پڑا۔بات مگر آگے بڑھنے کی بجائے آٹھ پتھر پیچھے چلی گئی۔غیرت کا یہ جرثومہ اب ثقافتی سرطان میں بدل گیا ہے۔فکرمندی کی بجائے سرطان کو قبولیت سے نوازا جارہا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اپنے غلط پر ناخواندہ لوگوں کا کوئی ٹولہ اصرار کررہا ہے۔یہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جو دلیل کی دنیا میں منفرد سی چاند ماری کررہے ہیں۔اس بات پر کہیں بے چینی نہیں دیکھی گئی کہ پختونخوا کی جامعات میں ہر طرح کے جشن پر پابندی لگا دی گئی ہے۔عورتوں کا عملی کردارصفر کے قریب پہنچادیا گیا ہے۔ذرا سا منہ پھیرنے پرخواجہ سراؤں کوقتل کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔کہیں کوئی اضطراب نظر نہیں آرہا۔روشن فکرسیاسی جماعتوں سے کچھ امید تھی مگر فکری طور پر انہوں نے شدت پسند بیانیے کے آگے سرنڈر کردیا ہے۔ایک لیڈر کے پیروکار طالبان کے ہراچھے برے کا دفاع کیے جارہے ہیں دوسرے لیڈر کے پیروکار کم عمر بچی کے نکاح کو اپنی ثقافت کہہ رہے ہیں۔روشن فکر جماعت کے لوگ صوابی میں ایک ایسے ایس ایچ او کے حق میں نکل آئے ہیں جو تحفظ دینے کی بجائے عورتوں پر طالبان کی شریعت لاگو کرنا چاہتا ہے۔ جو رہ گئے ہیں وہ تماشے کیلئے اپنے محلے میں بختی رخمان جیسے دیوانے ڈھونڈ رہے ہیں۔
قامہ! دی جولئی تہ وگورہ۔غیرت کا کاروبار بہت ہوگیا۔اس غیرت نے تمہیں کچھ نہیں دیا۔عام حالات میں اس غیرت نے تمہارے اپنے گھر اجاڑے ہیں۔غیر معمولی حالات میں یہ عالمی اور مقامی طاقتوں کیلئے ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئی ہے جس کا کبھی کرایہ بھی نہیں ملا۔آج بھی کسی نے کام نکالنا ہو تو تمہیں غیرت مند قوم کہہ دیتا ہے۔تم ہتھے سے اکھڑ جاتے ہو۔غیرت کی نامعلوم سی شاہراہ پر بیٹھ کرخود پر زندگی کا دروازہ بند کردیتے ہو۔خدا کرے ہمارے جیتے جی وہ دن آئے جب تم غیرت کے واہمے سے باہر آؤ۔کبھی جان سکو کہ ’بیغیرتی‘ اور ’سمجھوتہ‘ کتنے اہم عناصر ہیں۔شملے کو ذرا سا گراکر دیکھو۔دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہاکر دیکھو۔زندگی سے بات کرو۔زندگی پر تمہارا بھی اتنا حق ہے جتنا کسی اور کا ہے۔
بشکریہ جنگ