عزت مآب ایئر چیف سے گزارش ہے کہ اس پہلو پر نوٹس لیں۔
آج صبح اپنے پسندیدہ ٹی وی چینل جیو نیوز کے بلیٹن میں راشد منہاس، نشانِ حیدر کے یوم شہادت پر پیش کی گئی خبر نہایت محتاط تھی۔ غدار کا ذکر غائب تھا۔ میں اس نسل سے ہوں جس نے جونیئر اسکول کے نصاب میں کم سن شہید کے عنوان سے پورا چیپٹر حفظ کیا تھا، اور ٹین ایج میں پی ٹی وی کے سنہرے دور میں نشانِ حیدر سیریز کے ہر ایپیسوڈ کو بغور دیکھا، بشمول راشد منہاس پر مبنی ڈرامائی تشکیل کو۔
ہم بھی اپنے عہد کے لبرل اور ماڈرن تھے (اور اب بھی ہیں)، ضیاء کی ظلمت میں بھی بے دھڑک تبصرے کرتے تھے، جینز پہناوا تھا، لیکن شہیدوں پر کبھی کرش وغیرہ نہیں ہوا۔ ہم ان کو بہت احترام اور عقیدت سے دیکھتے تھے۔ یہ سب آج بہت دکھ کے ساتھ یاد آ رہا ہے۔
آج کی نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد وطن پرستی کو فرسودہ فیشن سمجھتی ہے۔ تھوڑی سی تبدیلی حالیہ آپریشن بنیان المرصوص کے حوالے سے پاکستان کی شاندار کامیابی پر دیکھنے کو ملی، لیکن مجھ جیسوں کو پھر بھی پریشانی رہی۔ ہم امن پسند ہیں، لیکن ملکی حمیت کی سودے بازی کے قائل نہیں۔ ہم جنگ کو جنگ کہتے ہیں، اس میں کچھ بھی رنگین نہیں ہوتا، نہ ہی پس منظر میں بگّا صاحب کے لہو گرمانے والے گانے یا مقبول ترانے بجتے ہیں۔ اس میں لق و دق صحرا ہے، پتھریلے میدان ہیں، سفّاک سمندر ہے، اور ساکت لامحدود آسمان ہے۔
ہم بہت سارے سماجی ترقی کے خرچوں کو نظرانداز کر کے دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہیں، اور ہمارے جوان اپنے لہو کی سرخی سے اس بے رنگ منظرنامے میں جرات اور قربانی کے رنگ بھرتے ہیں۔ بہت سا ایثار اور بہت سی قربانی نظر نہیں آتی، مگر یہ وطن کو محفوظ رکھتی ہیں۔
(فلسطین میں 2022 میں بالغ خواندگی تقریباً 87٪ تھی، لیکن دفاع کے لیے وسائل محدود تھے۔ نتیجہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ یہ مشکل فیصلے ہیں۔)
راشد منہاس کی قربانی
ابھی تو صرف راشد منہاس پر بات کرنی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں 20 اگست 1971 کا دن ایک سنہری باب کی مانند ہے، جب نوجوان پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے اپنے تربیتی طیارے کو دشمن (انڈیا) کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی۔
ان کی قربانی نہ صرف فوجی بہادری کی علامت ہے بلکہ قوم کی وفاداری اور حب الوطنی کی زندہ مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمارے تعلیمی نصاب، پی ٹی وی کے ڈراموں، اور عوامی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے۔
راشد منہاس نے اپنے طیارے کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے طیارے کو زمین پر گرا دیا، جس کے نتیجے میں ان کی شہادت ہوئی۔ یہ کہانی ہمارے قومی ہیرو کی قربانی کو اجاگر کرتی ہے۔
جیو نیوز کے بلیٹن میں راشد منہاس کی قربانی پر بات کی گئی، لیکن بنگالی فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان کی غداری اور EPR (East Pakistan Regiment) کے سازشی کردار کا ذکر نہیں کیا گیا، جو اس واقعے کا ایک اہم پہلو ہے۔ یہ خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کچھ میڈیا ادارے تاریخ کے اس پہلو کو نظرانداز کر رہے ہیں، حالانکہ BBC اردو نے آج واضح کیپشن کے ساتھ تفصیلی کوریج دی ہے:
BBC اردو کیپشن:
"1971 کی جنگ: وہ پائلٹ جس نے راشد منہاس کا طیارہ ہائی جیک کیا” — یہ واضح کرتی ہے کہ BBC نے واقعے کا اہم پہلو تفصیل سے پیش کیا۔
تاریخی تصدیق اور عوامی رائے
ریٹائرڈ گروپ کیپٹن آنجہانی سیسل چوہدری کے مطابق، حادثے کی جگہ پر تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ طیارہ زمین پر پہلے ٹکرایا، جس سے راشد منہاس کی فوری شہادت ہوئی۔ مطیع الرحمان کا جسم کچھ فاصلے پر پایا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ طیارے سے باہر گر گئے تھے۔
سیسل چوہدری، پاکستان ایئر فورس کے ایک مایاناز جنگی ہیرو، نے حادثے کی جگہ پر تحقیق اور رپورٹ تیار کی تھی۔ ان کی رپورٹ کے مطابق شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ راشد منہاس نے اپنے طیارے کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی۔
عزت مآب ایئر چیف سے گزارش
ہمیں امن کی ضرورت ہے، لیکن امن سچائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اس پہلو کو نظرانداز کریں گے تو نہ صرف راشد منہاس کی قربانی کی قدر کم ہوگی بلکہ قوم کی حب الوطنی اور قربانی کے جذبے پر بھی اثر پڑے گا۔ عزت مآب ایئر چیف سے گزارش ہے کہ نوٹس لیں۔ میڈیا میں غدار عناصر اور EPR کی سازش کا ذکر غائب نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی شاندار کامیابی اور قربانی کے واقعات کو مکمل حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے۔
میری سمجھ میں یہ کوتاہی بالکل نہیں آتی۔ کچھ اور ٹی وی چینلز بھی دیکھے — غدار کا ذکر نہیں — شہید نے تو ملک کو بچایا مگر کس کے شر سے بچایا اس کا ذکر بھی تو ضروری تھا۔ یہ معمولی غلطی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش سے ازسرِنو دوستی کریں مگر کڑوے سچ کو اپنا کر — سب کچھ جان کر — ہضم کر کے — غلطیوں سے سیکھ کر — پرچم لہرانے والوں اور پرچم جلانے والوں کا فرق جان کر — نہ کہ جان بوجھ کر بھول کر۔
کڑوا سچ یہ ہے کہ مسلمان بنگالی مکتی باہنی نے پاکستان کو متحد رکھنے والوں کی، جن کو عرفِ عام میں "بہاری” کہا جاتا ہے، نسل کشی کی اور جن کی پانچویں نسل 1971 کے بعد سے کیمپ نما اذیت خانوں میں بنگلہ دیش میں سڑ رہی ہے اور پاکستان ان کو اپنانے پر تیار نہیں۔
کڑوا سچ یہ ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان میں پوسٹڈ سینکڑوں پاکستانی فوجیوں اور ان کی فیملیز کا غدّار بنگالی فوجیوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل ہوا۔
کڑوا سچ یہ ہے کہ غدّار بنگالی فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان کی میّت کو بنگلہ دیش لے جایا گیا اور اعلیٰ ترین فوجی اعزاز سے نوازا گیا۔
کڑوے سچ کی فہرست بہت طویل ہے۔ اس دوستی کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
حوالہ جات:
BBC اردو کی تفصیلی کوریج
ریٹائرڈ گروپ کیپٹن سیسل چوہدری کی تصدیق
پاکستانی تعلیمی نصاب
پی ٹی وی کی "نشانِ حیدر” سیریز
اضافی وضاحت:
پاکستانی فوج میں "ریجمنٹ” اور "رائفلز” دونوں اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ "ریجمنٹ” ایک فوجی یونٹ کو ظاہر کرتی ہے جو مخصوص جنگی مہارتوں کے ساتھ تربیت یافتہ ہوتی ہے، جیسے کہ پنجاب ریجمنٹ۔ "رائفلز” بھی ایک فوجی یونٹ کو ظاہر کرتی ہے، لیکن یہ خاص طور پر ہلکی انفنٹری یونٹوں کو ظاہر کرتی ہے جو زیادہ متحرک اور تیز رفتار ہوتی ہیں، جیسے کہ شوال رائفلز۔ لہٰذا، دونوں اصطلاحات مختلف یونٹوں کی خصوصیات اور مہارتوں کو ظاہر کرتی ہیں۔