ریاست کی ساکھ نعروں، اشتہارات اور اعداد و شمار سے نہیں، عمل اور ترجیحات سے پرکھی جاتی ہے۔ جب باجوڑ کی ننھی نفیسہ کیلئے صوبے کے پاس کرائیو ریسپیٹیٹ (پلازمہ) دستیاب نہ ہو اور نفیسہ تڑپ تڑپ کر مر جائے ، کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے ، لیکن عمران خان (سزا یافتہ قیدی) کی آنکھ خراب ہو جائے تو صوبہ (خیبر پختونخواہ) ہِل جائے ، صوبائی حکومت احتجاج کیلئے نکل پڑے اور نظام چند گھنٹوں میں حرکت میں آ جائے ، تو یہ محض تفاوت نہیں ، یہ انصاف سے عاری ریاستی ترجیحات کا کھلا اعتراف ہے۔
عمران خان جس جماعت کے بانی ہیں وہ جماعت 13 سال سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں اقتدار سنبھالے ہوئے اور آج اس جماعت کے پاس دکھانے کیلئے صرف صحت کارڈ ہے ، جس صحت کارڈ (یا صحت کارڈ پلس) کو عوامی فلاح کا "سنگ میل” قرار دیا جاتا ہے۔ دعویٰ ہے کہ ہر شہری کو معیاری علاج مفت ملے گا۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ دیہی علاقوں میں ہسپتال تو ہیں ماہر ڈاکٹر نہیں، مشینری خراب پڑی ہے، ادائیگیوں میں تاخیر سے نجی ہسپتال مریضوں کو انکار کر دیتے ہیں، ایمرجنسی میں خون یا پلازما تک دستیاب نہیں ہوتا۔ سوات میں دل کے مریضوں کو صحت کارڈ پر علاج سے انکار کی متعدد رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ باجوڑ جیسے دور دراز علاقوں میں بچیوں اور بچوں کی اموات کی وجوہات میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی شامل رہی ہے ، یہ کوئی انفرادی واقعات نہیں، اس نظام کی مستقل ناکامی ہے۔ جس نظام کو شفاف بنانے کے دعویدار حکمران عوامی مسائل کے بجائے مقدس سیاسی شخصیت کے گرد گھومتی سیاست پر صوبائی وسائل نچھاور کر رہے ہیں۔
جس صحت کارڈ کی تشہیر کر کے احسان جتایا جاتا ہے وہ اگر واقعی موثر ہوتا تو دیہی مزدور کو سیاسی سفارش کی ضرورت نہ پڑتی، اور ایک بچی کو ہسپتال اور شہر بدل بدل کر بھی بروقت علاج نہ ملنے پر جان سے ہاتھ دھونا نہ پڑتے۔ اسے محض "انتظامی کمی” نہیں کہنا چاہئے یہ صوبائی پالیسیوں کی ناکامی اور ترجیحات کا الٹ پلٹ ہے۔
اصل اور بنیادی سوال: برابری کہاں ہے؟
حالیہ دنوں میں ایک زیر حراست سیاسی رہنما (سابق وزیراعظم) کی آنکھ کی بیماری پر پورا نظام متحرک ہو گیا۔ ہیڈیالہ جیل میں آنکھ کی سلٹ لیمپ مشین، او سی ٹی اسکین مشین اور بھاری ایمبولینس فوری پہنچائی گئی۔ ایلئا انجیکشن کی ایک خوراک دی جا چکی، دوسری 25 فروری کو شیڈول، خون کی نالیوں کی تصویر کشی (اینجیوگرام) اور ممکنہ لیزر علاج کی تیاریاں۔ اگر ضرورت پڑی تو "خصوصی طبی ادارے” میں منتقلی کا فیصلہ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر فوری معائنہ، ماہرین کی ٹیمیں، حتیٰ کہ خاندان کو آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ سب قانونی ذمہ داری ہے ، اور درست بھی۔
مگر سوال یہ ہے کہ: کیا یہ سہولیات سب قیدیوں کو میسر ہیں؟ اگر نہیں تو پھر کسی خاص کو بھی میسر نہیں ہونی چاہئے۔
انسانی حقوق واچ کی 2023 کی جامع رپورٹ "سب کے لیے ایک خواب: پاکستان کی جیلوں میں صحت کا بحران” (55 صفحات پر مشتمل) واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے جیل نظام میں طبی سہولیات کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ 88,000 سے زائد قیدیوں (اب 2024-2025 میں 102,000 سے زیادہ تک پہنچ چکے) میں سے اکثریت زیر التوا مقدمات کے قیدی ہیں، جیلوں میں جہاں 100 قیدیوں کی گننجائش ہے وہاں 152 قیدی موجود ہیں (کچھ سیلوں میں 3 کی جگہ 15 قیدی)۔ اس سے بیماریاں (ٹی بی، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی، جلدی امراض) تیزی سے پھیلتی ہیں، بنیادی ادویات نہیں ملتیں، ہسپتال ریفرل کے لیے ہفتوں/مہینوں انتظار، اور ایمرجنسی میں اموات عام ہیں۔ رپورٹ میں لاہور کیمپ جیل میں دسمبر 2021 میں 12 دنوں میں 6 قیدیوں کی اموات کا ذکر موجود ہے وجہ سردی میں گرم کپڑوں کی کمی اور طبی امداد نہ ملنا بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی 2023 انسانی حقوق رپورٹ بھی جیلوں کو "سخت اور جان لیوا” قرار دیتی ہے: گنجائش سے زیادہ قیدی، ناکافی خوراک، پانی، صفائی، حرارت/ہوا کی آمدورفت، اور طبی دیکھ بھال۔ غذائی قلت، دائمی امراض، اور بدسلوکی عام مسائل ہیں۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی 2024-2025 رپورٹس (جیل ڈیٹا رپورٹ) کے مطابق پنجاب میں 70,000 سے زائد قیدیوں پر صرف 110 ڈاکٹرز، 1,457 سنگین مریض (272 ایچ آئی وی/ایڈز، 517 ہیپاٹائٹس سی، 460 ذیابیطس)۔ قیدیوں کو صفائی، بستر، صاف پانی اور مناسب خوراک تک نہیں ملتی ، خاندانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
عام قیدی ، دیہی مزدور، گمنام شہری آنکھ کے علاج کے لیے مہینوں انتظار کرتا ہے، جبکہ ایک سیاسی شخصیت کے معاملے پر جیل میں ہی جدید مشینری اور ماہرین کی ٹیم پہنچ جاتی ہے۔ یہ فرق قانون کی کتاب میں نہیں لکھا، مگر عمل میں کھلا نظر آتا ہے ، اور عام آدمی کا منہ چڑاتا ہے۔
اصول صرف دو ہو سکتے ہیں:
ہر قیدی کو وہی فوری، معیاری اور جدید علاج ملے جو سیاسی شخصیت کو مل رہا ہے ، مشینری، انجیکشنز، اسپتال منتقلی، سب کچھ (جیسے انسانی حقوق واچ تجویز کرتی ہے: تمام جیلوں میں مکمل طبی عملہ، دوائیوں کی دکان، ہسپتال اور سامان)۔
یا پھر کسی کو بھی قانون سے بڑھ کر فوقیت نہ دی جائے۔
کسی کی صحت کی مخالفت غیر انسانی ہے ہر جان قیمتی ہے۔ مگر جب ایک سابق وزیراعظم کی آنکھ پر پورا نظام چند دنوں میں حرکت میں آ جائے، اور ایک عام قیدی یا دیہی بچے کی جان پر نظام "انتظامی مسائل” کا بہانہ بنائے، تو یہ برابری نہیں ، وہ تماشا ہے جو ہم بد قسمت پاکستانی پچہتر سال سے دیکھ رہے ہیں۔
ریاست کا اصل امتحان یہ ہیکہ ریاست طاقتور کے لیے نہیں، کمزور کے لیے کیا کرتی ہے؟
صرف صحت کارڈ ، جسکی برائے سیاسی کریڈٹ تشہیر پر اربوں روپے خرچ ہوگئے ، اس کارڈ کی تلخ حقیقت سے ناواقفیت بھی ایک مسئلا ہے۔ اب عوام کو تھوڑا مختلف شعور تلاشنا ہوگا کہ کامیابی کا معیار بجٹ کے اعداد یا اشتہاری مہم نہیں۔ چند سوالات اور انکے جوابات ہیں۔
کون دے گا ان سوالات کا جواب‘ صوبائی حکومت دھرنے دیے بیٹھی ہے ، شعور پوچھتا ہے:
کیا دیہی اضلاع میں رہنے والے شہری بروقت ماہر ڈاکٹر تک پہنچ سکتے ہیں؟
کیا ایمرجنسی میں خون، پلازما ،ضروری ویکسین یا ادویات فوری دستیاب ہیں؟
خراب مشینری کی مرمت دنوں میں ہوتی ہے یا مہینوں اور سالوں میں؟
کیا غریب کو علاج کے لیے سفارش یا رشوت کی ضرورت نہیں پڑتی؟
جب تک ان سوالوں کے جواب "ہاں” نہ ہوں، تب تک ایک شخصیت کے علاج پر سیاسی شور عوامی محرومیوں کا مداوا نہیں کر سکتا۔
قانونی برابری تقریر ، نعرہ یا محض لفظوں کا ہیر پھیر نہیں انصاف کا تقاضا ہے۔ اگر ایک آنکھ کی تکلیف پر مشینیں جیل لے جائی جا سکتی ہیں، تو ایک عام بچے کی جان یا عام قیدی کی بیماری کیلئے کیوں نہیں؟ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا: اصولوں پر چلے گی یا دوغلی سیاست اور دباؤ پر؟ کیونکہ تاریخ نعروں اور اعداد کو نہیں ، انصاف اور برابری کو یاد رکھتی ہے۔ اگر برابری نہ رہی تو ریاست کی ساکھ بھی نہیں رہے گی۔