یہ ڈائیلاگ ایک ویڈیو کلپ میں کسی سے سنا، اور پھر بہت سے بونوں کو دیکھا جو چھوٹے چھوٹے لوگوں سے الجھتے ہیں انہیں زک کرتے اور ان کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔ بڑے لوگ چھوٹوں سے نہیں الجھتے نہ ہی ان کے دشمن ہوتے ہیں مگر بہت چھوٹے لوگ یعنی بونے قسم کے لوگ عام اور معمولی لوگوں سے الجھے کر خود کو مزید چھوٹا کر دیتے ہیں۔
یہ ایک مختصر جملہ ہے، مگر اپنے اندر انسانی نفسیات کا ایک گہرا اور تلخ سچ سموئے ہوئے ہے۔ زندگی کے سفر میں بارہا یہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ اصل بلندی رکھنے والے لوگ اپنی بلندی کے وقار کو مجروح نہیں کرتے۔ وہ راستہ دیتے ہیں، سہارا دیتے ہیں، اور اگر اختلاف بھی ہو تو اسے ظرف اور حکمت کے دائرے میں رکھتے ہیں۔ ان کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری معرکوں سے خود کو دور رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس، وہ لوگ جو خود اندر سے کمزور، غیر مطمئن اور احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، وہ اپنے جیسے یا اپنے سے کمزور لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو بلند محسوس کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ اس عمل سے اپنی پستی کو مزید نمایاں کر دیتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی فریب ہے، جس میں انسان دوسروں کی تحقیر کو اپنی برتری کا زینہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
بڑے لوگوں کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ معاف کر دیتے ہیں، نظر انداز کر دیتے ہیں، اور اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری کاموں پر صرف کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر چھوٹی بات کا جواب دینا اپنی عظمت کو چھوٹا کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ چھوٹے لوگ ہر بات کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، ہر اختلاف کو جنگ سمجھتے ہیں، اور ہر عام انسان کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل بلندی اس کے عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے ظرف، برداشت اور رویے سے ناپی جاتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، وہی دراصل بڑا ہوتا ہے، اور جو دوسروں کے راستے میں کانٹے بچھاتا ہے، وہ اپنی تمام تر ظاہری بڑائی کے باوجود اندر سے چھوٹا ہی رہتا ہے۔
زندگی ہمیں یہ سبق بار بار دیتی ہے کہ بڑا بننے کے لیے بڑا دل رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ قامت کی بلندی نہیں، ظرف کی بلندی ہی انسان کو واقعی بڑا بناتی ہے۔
آئیے! عہد کیجے کہ استقبال رمضان کے ذیل میں آپ چھوٹے نہیں بڑے بنیں گے۔ میں عہد کرتا ہوں کہ میں اپنے لیول میں چھوٹا نہیں بنوں گا، آپ بھی ارادہ فرمادیجے کہ آج سے آپ بڑا بنیں گے۔