امریکہ ڈائری: آخری قسط

امریکہ میں مختلف مواقع پر مجھے واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، ڈلاس، ہوسٹن، ورجینیا، نیو جرسی، میری لینڈ، پنسلوانیا اور جارجیا جیسے شہروں اور ریاستوں میں گھومنے اور امریکہ دیکھنے کا موقع ملا۔

میری لینڈ: یہ ریاست اپنی خوبصورت ساحلی پٹی (Chesapeake Bay) کی وجہ سے مشہور ہے اور تاریخی طور پر اسے "Old Line State” کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی فوج نے امریکی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

پنسلوانیا: یہ امریکہ کی ایک تاریخی ریاست ہے جہاں 1776 میں امریکہ کی آزادی کا اعلان نامہ دستخط ہوا تھا، اور اس کا جغرافیہ پہاڑوں، گھنے جنگلات اور زرخیز میدانوں پر مشتمل ہے۔

میری لینڈ میں وقار خان کے ساتھ، جو ایک انتہائی مہمان نواز انسان ہیں، وقت گزارنے کا موقع ملا۔ وہ عرصہ دراز سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کے والد صاحب دہائیوں پہلے امریکہ منتقل ہوئے تھے اور اب وقار خان اور ان کا پورا خاندان وہاں آباد ہے۔ ان کا خاندان امریکہ میں مکمل امیگریشن قوانین کے ساتھ منتقل ہوا تھا۔ وقار خان بہت سارے کاروبار کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے گیس اسٹیشنز سے لے کر لیدر کی جیکٹس اور دیگر سامان تک کا کاروبار کیا ہوا ہے۔ آج کل ایک اسٹور کھولا ہے جہاں مختلف قسم کی چھوٹی موٹی اشیاء سے لے کر تمباکو کی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔

ایک انتہائی خوبصورت علاقے میں ان کا گھر ہے۔ گجرات والی روایت جو پاکستان میں چلتی آرہی ہے، اسی تہذیب کے ساتھ بالٹیمور میں بھی رہتے ہیں۔ گھر کا بیسمنٹ مہمان خانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بڑی GMC گاڑی چلاتے ہیں۔ کرکٹ دیکھنے کے بہت شوقین ہیں اور شاعری سننے اور پڑھنے کے دلدادہ۔ کھلے ڈلے دل کے آدمی ہیں اور جہاں کہیں بھی جاتے ہیں اپنے ساتھ دوستوں کا ایک پورا گروپ ساتھ لیے ہوتے ہیں۔ مہمان نوازی میں کوئی ثانی نہیں، جہاں بیٹھتے ہیں یار دوست اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ میرے لیے بالکل بھائیوں کی طرح احساس رکھتے ہیں۔ مجھے کہتے ہیں: "رحیم شاہ، آپ آتے ہو تو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ گھر میں کوئی مہمان آیا ہوا ہے، آپ گھر کے ایک فرد کی طرح ہیں۔”

اپنے پیسوں پر جا کر انڈیا کے خلاف اقوام متحدہ کی بلڈنگز کے باہر لوگ کھڑے کر کے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے ہیں۔ اب بھی پاکستان کے ساتھ بہت سی محبت رکھتے ہیں۔ گجرات کے انتہائی باعزت اور شریف خاندان کے ساتھ تعلق ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کئی سالوں سے جانتے ہیں۔ بالٹیمور میں رہتے ہیں، بہت کم پاکستان آتے ہیں مگر مجال ہے جو آج تک انہوں نے ایک بھی ذاتی کام کے لیے کبھی فون کیا ہو۔ جب بھی رابطہ کرتے ہیں تو کسی غریب شخص یا ضرورت مند کی حاجت پوری کرنے کے لیے ریکویسٹ کرتے ہیں۔ کبھی کسی کے میٹر کا مسئلہ، کبھی کسی کی کوئی اور حاجت روائی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی اپنی ذات کے لیے انہوں نے منہ سے ایک بار بھی کوئی بات کہی ہو۔ مجھے ایسے سچے اور کھرے لوگ دل سے عزیز ہوتے ہیں جن کی ساری زندگی محض اس بابت میں گزرتی ہے کہ لوگوں کی حاجت روائی ہو سکے، اور یہ بات اللہ کے دربار میں دنیا اور آخرت میں وزنی ہوتی ہے۔ الحمدللہ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ایسے محترم لوگوں سے ملوایا۔

وقار بھائی نے پنسلوانیا اور میری لینڈ کے بہت ہی خوبصورت علاقے گھمائے۔ ان کے ساتھ گھومتے ہوئے ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔ وقار خان جیسے لوگ اصل میں پاکستان کے سفیر ہیں اور پاکستان کی مٹی کے ہیرے ہیں جو اپنی ضروریات اور خواہشوں کو پرے رکھ کر ملک اور اپنے ہم وطنوں کے کام آتے ہیں۔ آپ اندازہ کیجیے، 5 سالوں میں کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ ایک مرتبہ بھی وقار خان نے اپنے لیے کچھ کہا ہو، ان کا دل صرف گجرات کے لوگوں کے لیے دھڑکتا ہے، اور جس سنجیدگی کے ساتھ وہ اپنے ہم وطنوں کے گیس کے میٹر تک کے کام کو فالو اپ کرتے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔ اللہ ان کی یہ کاوشیں اور انسانی خدمت کا جذبہ اور پاکستان سے محبت و لگاؤ کو تادیر اور ساری زندگی قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

وہ سیاسی طور پر ایک متحرک دماغ کے آدمی ہیں، مگر امریکی سیاست سے زیادہ وہ پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مختلف پاکستان نژاد ریسٹورنٹس میں کھانے کے حلقوں میں خوب سیاسی سوالات پوچھتے ہیں۔ پاکستان کے حالات پر کڑھتے رہتے ہیں مگر صرف کڑھتے نہیں بلکہ عملاً کچھ کر گزرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں: "امریکہ میں بیٹھ کر بھی جتنا ہو سکتا ہے حق کا ساتھ اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔” پاکستانی کمیونٹی جو امریکہ میں رہتی ہے ان کی سب سے اچھی خاصیت یہی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی قدرتی آفت آئے تو بھی سب سے پہلے اور کبھی کوئی سیاسی تبدیلی آئے تب بھی اپنا حصہ ڈالے بغیر رہ نہیں پاتے۔ اکثر میں نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور باقی خبروں کی وجہ سے ڈسٹرب بھی رہتے ہیں۔ میں جب بھی جاتا ہوں پوری کوشش کرتا ہوں کہ ان کو بتاؤں کہ پاکستان اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہے۔ بدقسمتی سے اچھی خبریں نشر نہیں ہوتیں۔ کاش ہمارے اندر اچھی خبروں کے پھیلاؤ کی تہذیب کا بھی کچھ تھوڑا بہت اثر چل پائے۔ اب اتنے بڑے پاکستان میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہی ہوگا۔ اپنے ملک کی مثبت چیزوں کو بھی تو ہمیں آگے لے کر جانا اور دنیا کو دکھانا ضروری ہے۔

امریکہ ڈائری کی یہ آخری قسط ہے۔ میں اس کو تکمیل تک پہنچانے سے پہلے کچھ مشاہدات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میں نے امریکہ میں کیا سیکھا؟ ایک شخص جس کی بیٹی معذور ہے، ریاست نے اس کو سب سہولیات میسر کی ہیں بلکہ کچھ ضروری اخراجات بھی۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ وہاں چاہے معذور ہو یا پھر صحت مند، سب کی قدر و منزلت انسانیت کی بنیاد پر منحصر ہے۔ ہمارے معاشرے میں معذور افراد کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح میں نے امریکہ میں سیکھا کہ جتنا کام کریں گے آپ کو اتنی ہی اجرت ملے گی۔ کیا یہ ہمارے ملک میں ہوتا ہے؟ میں نے امریکہ میں دیکھا کہ ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے، ہمیں دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑانے سے فرصت نہیں ملتی۔ وہاں نظام مضبوط ہے جبکہ ہم نے نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ آن لائن فراڈ سے لے کر مذہبی، سیاسی اور معاشی دائروں میں ہر طرح سے دھوکہ دہی کا جو رواج ہم نے قائم فرمایا ہے، یہ عیب ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر کے چھوڑے گا۔ آئیے ذرا سوچ لیں اور یہ ٹھان لیں کہ ہم من حیث القوم دنیا میں کچھ نہ کچھ نیا اور بہتر کر کے رہیں گے۔ یقین کریں اللہ ہماری تقدیر بدل دے گا۔

ہم میں سے ہر ایک شخص جس کو موقع ملے وہ امریکہ جانا چاہتا ہے، مگر یہ نہیں سوچتا کہ ہم کیوں نہ اپنے ملک کو ایسا بنائیں کہ امریکہ والے سوچیں کہ پاکستان جائیں۔ نہ تو امریکہ میں کوئی اور زمین یا آسمان ہے، نہ ہی کسی اور سیارے کے درخت، پانی، بادل یا ستارے۔ امریکہ اگر دنیا بھر میں land of opportunity اور dream بنا ہوا ہے تو وہ اس وجہ سے کہ وہاں کے لوگوں نے محنت سے اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ نظامِ زندگی ایسا بنایا ہے کہ لوگوں کو بروقت انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات مل سکیں، نہ کہ ہمارے ملک کی طرح اس کے لیے کرپشن کرنی پڑے۔ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے ملک میں 99 فیصد کرپشن اس لیے ہوتی ہے کہ بنیادی سہولیات سے خود کو اور اپنے گھر والوں کو آراستہ کیا جا سکے؟ مثلاً بیمار ہوں تو اچھے ہسپتال میں علاج ہو، باوجود اس کے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تمام سہولیات ہوتی ہیں مگر ایم آر آئی اور ایکس رے مشین کو اس لیے خراب قرار دیا جاتا ہے کہ وہی ڈاکٹر باہر پرائیویٹ سینٹرز سے پیسے بنا سکے۔ یہ محض اتفاق نہیں، ہمارا قومی طریقہ کار بن چکا ہے کہ اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہم دوسروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی بات امریکہ میں نہیں ہے، وہاں سب کو بنیادی حقوق مہیا کرنا ایک قومی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔

میرا دل کڑھتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ پاکستانی باوجود اس کے کہ ایک جنت نظیر ملک اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے، ہم اس ملک کو امریکہ نہ بنا سکے۔ آئیے مل کر ایسا کچھ کریں کہ لوگ پاکستان آئیں۔ آئیے اپنی سہولت کے لیے کسی کا حق نہ ماریں۔ اس رویے میں بالآخر خود ہمارا ہی نقصان ہے۔ آئیے وقار خان سے سیکھتے ہیں کہ جو لوگوں سے تعلق اس بنیاد پر نہیں بناتے کہ اپنا ذاتی کام نکال سکیں، بلکہ امریکہ میں رہتے ہوئے یہ فکر کرتے ہیں کہ گجرات میں کسی کا گیس یا بجلی کا میٹر لگ جائے تاکہ وہ سکون سے زندگی بسر کر سکے۔ امریکہ میں رہنا سب کو اچھا لگتا ہے، مگر پاکستان میں امریکہ والی پُرآسائش زندگی کے لیے پاکستان کی خدمت کو کوئی تیار نہیں۔ ہم نے مل کر پاکستان کو امریکہ بنانا ہے، یہ ناممکن نہیں، بس اپنے ساتھ دوسرے کے حقوق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کی چمک وہاں کے نظام سے ہے، اور نظام انسانوں سے بنتا ہے۔ جب تک ہم ‘میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں’ کی سوچ سے نکل کر ‘مجھے اپنا حصہ ڈالنا ہے’ کی راہ اختیار نہیں کریں گے، تب تک تبدیلی خواب ہی رہے گی۔ وقار خان جیسے لوگ جو سمندر پار بیٹھ کر بھی اپنے گاؤں کے گیس میٹر کی فکر کرتے ہیں، وہ دراصل ہمیں سبق دیتے ہیں کہ وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں، بلکہ عملی خدمات کا نام ہے۔ اگر ہر پاکستانی اپنے دائرہ اختیار میں ایمانداری اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے لگے، تو وہ دن دور نہیں جب ہماری مٹی بھی سونا اگلے گی اور ہمیں کسی دوسرے ملک کی مثال نہیں دینی پڑے گی۔

تمام تعریفیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے جس نے اپنی توفیق سے دو لفظ لکھنے کی صلاحیت سے فیضیاب کیا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے