چوہدری فضل محمد 1913 تا 1999، خدمتِ عامہ کے لیے وقف ایک زندگی

یہ تحریر میرے والد محترم چوہدری فضل محمد کی یاد میں لکھی جا رہی ہے، جن کی پوری زندگی خاموش، مسلسل اور بے لوث خدمت سے عبارت تھی۔ کئی دہائیوں تک انہوں نے سرائیکی وسیب کے عوام کی فلاح کے لیے خود کو وقف کیے رکھا، خصوصاً تپِ دق جیسے مہلک مرض کے خلاف جدوجہد میں وہ ایک روشن مثال بنے۔ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک میں انہوں نے انسانی خدمت کا وہ چراغ جلایا جو آج بھی روشنی دے رہا ہے۔ وہ 8 فروری 1999 کو اپنی جنم بھومی بھکر میں 86 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

چوہدری فضل محمد اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے قیامِ پاکستان سے پہلے کی سیاسی کشمکش، ہجرت اور قربانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کی فکری تشکیل تحریکِ پاکستان کے نظریات اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت کے زیرِ اثر ہوئی۔ وہ فخر اور یقین کے ساتھ بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے فیصل آباد میں مسلم لیگ کے ایک جلسے میں قائداعظم کو قریب سے دیکھا اور ان کی تقریر سنی۔ یہ منظر ان کی زندگی کے آخری دنوں تک ان کے حافظے میں تازہ رہا۔

1913 میں مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیارپور میں ایک سادہ پنجابی گھرانے میں ان کی پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، بعد ازاں لائل پور، موجودہ فیصل آباد، منتقل ہوگئے۔ 1933 میں گوگیرہ سے میٹرک کیا اور چک جھمرہ میں کوآپریٹو کمیشن کے ایک ادارے میں اسسٹنٹ منیجر مقرر ہوئے۔ یہیں سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا جو نظم و ضبط اور عوامی رابطے پر مبنی تھی۔

1940 میں انہوں نے انجمنِ اسلامیہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس کے نائب صدر زہیر نیاز بیگی تھے، جو بعد میں پنجاب مسلم لیگ کے صوبائی پروپیگنڈا سیکرٹری بنے۔ اس انجمن نے تحریکِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور 1943 میں ایک اہم پاکستان کانفرنس کا انعقاد کیا، جس نے خطے میں سیاسی شعور کو مہمیز دی۔

اسی دور کی نمایاں شخصیات میں ڈاکٹر محمد عظیم خان نیازی شامل تھے، جو ایک باوقار معالج تھے۔ ان کے صاحبزادے ظفراللہ اور فیض اللہ چوہدری فضل محمد کے قریبی دوست تھے۔ انہی کی ترغیب پر وہ 1951 میں میانوالی ضلع کی ایک دور افتادہ تحصیل بھکر منتقل ہوئے۔ انہوں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دیا، زرعی زمین خریدی اور مقامی پٹرولیم کاروبار میں سرمایہ کاری کی۔ ڈاکٹر نیازی کی دیانت اور طبّی خدمات کا ذکر وہ ہمیشہ احترام سے کیا کرتے تھے۔

1959 میں بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں انہوں نے ایک بااثر زمیندار کو شکست دے کر سٹی کونسل کی نشست جیتی۔ یہ ان کا ایسے سیاسی ماحول میں ابھار تھا جہاں جاگیردارانہ اثر و رسوخ غالب تھا۔ وہ اپنے قریبی دوست مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ نواب آف کالا باغ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے اور بعد ازاں نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میں پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے پنجاب صدر بنے۔ 1970 کے انتخابی جلسے کی ایک یاد آج بھی ذہن میں محفوظ ہے، جب انہوں نے بھکر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات پر مدلل گفتگو کی۔

بعد ازاں پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث انہوں نے مرکزی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔ 1969 میں تھل کسان پارٹی کے قیام میں کردار ادا کیا اور نائب صدر منتخب ہوئے۔ تھل کے عوام کے حقوق، خصوصاً آبپاشی اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر انہوں نے بھرپور آواز اٹھائی۔ 1970 کی دہائی کے اواخر میں صحت کی خرابی کے باعث عملی سیاست سے الگ ہوئے، تاہم عوامی شخصیات سے ان کا تعلق برقرار رہا۔

سیاست سے ہٹ کر بھی وہ بھکر کی سماجی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ رہے۔ سالانہ میلہ منعقد کرواتے، سرائیکی گلوکاروں کو مدعو کرتے۔ وہ ٹینس کے اچھے کھلاڑی تھے اور ریلوے کلب کے مستقل رکن رہے۔ ان کا یقین تھا کہ معاشرتی زندگی صرف سیاست سے نہیں بلکہ ثقافتی اور سماجی روابط سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔

1980 کی دہائی کے وسط سے ان کی زندگی کا وہ دور شروع ہوا جسے وہ سب سے بامعنی سمجھتے تھے۔ زکوٰۃ و عشر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے خود کو مکمل طور پر فلاحی کاموں کے لیے وقف کردیا، خصوصاً تپِ دق کے خلاف مہم میں۔ اپریل 1985 میں انہوں نے پنجاب اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کی بھکر شاخ قائم کی۔ 1955 میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس تنظیم کی شہرت پہلے ہی مسلم تھی۔ میاں فضلِ احمد کی حوصلہ افزائی بھی انہیں حاصل رہی، جنہوں نے فیصل آباد میں اس کی شاخ قائم کی تھی۔

1986 میں وہ بھکر شاخ کے صدر منتخب ہوئے اور وفات تک اسی منصب سے وابستہ رہے۔ انہوں نے چندہ جمع کرنے کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ لندن میں مقیم ان کے بڑے صاحبزادے سالانہ معاونت کرتے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور لاہور ہیڈکوارٹر سے بھی تعاون ملتا۔ پرانے سول ہسپتال میں قائم دفتر میں ادویات، ایکسرے اور علاج مفت فراہم کیا جاتا تھا۔ بعد میں غریب خواتین کے لیے سلائی مشینوں اور مشترکہ ورک اسپیس کا انتظام کیا گیا تاکہ وہ باعزت روزگار کما سکیں۔

1985 سے 1999 کے درمیان تقریباً تین ہزار مریض صحت یاب ہوئے۔ 1998 کے اختتام تک ڈیڑھ سو مریض زیرِ علاج تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1994 میں انہیں سرگودھا ڈویژن کا نائب صدر مقرر کیا گیا اور 1996 میں آل پاکستان آرٹسٹس اکیڈمی نے انہیں بہترین سماجی کارکن کا ایوارڈ دیا۔

ہر روز صبح سے دوپہر تک وہ اپنے سادہ سے دفتر میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر کے نیچے بیٹھ کر فائلیں دیکھتے، مریضوں کے کیسوں پر گفتگو کرتے اور وسائل کا انتظام کرتے۔ وہ شہرت کے طلبگار نہ تھے۔ آخری دن بھی وہ چیکوں پر دستخط اور کاغذات کی ترتیب میں مصروف رہے۔ دوپہر کو گھر لوٹے تو دہلیز پر ہی گر پڑے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

چوہدری فضل محمد جیسے لوگ اس ملک میں خاموشی سے خدمت انجام دیتے ہیں۔ ان کا نام شاید شہ سرخیوں میں نہ آئے، مگر ان کا اثر باقی رہتا ہے۔ ایسے ہی بے لوث اور مستقل مزاج انسانوں کی بدولت پاکستان نے بارہا آزمائشوں کا سامنا کیا اور سنبھلا۔ بھکر میں ان کے دونوں فلاحی منصوبے آج بھی جاری ہیں۔ یہ تحریر اس لیے کہ خدمت کے لیے وقف ایک زندگی کو یاد رکھا جائے اور اس کا احترام کیا جائے۔

مصنف شعبۂ سیاست و بین الاقوامی تعلقات، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ایمیریٹس ہیں۔ وہ سابق رکن پلاننگ کمیشن، سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے قائداعظم فیلو رہ چکے ہیں۔ ان سے رابطہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر @ahmadishtiaq کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے