امین مغل کے نام ایک خط

استاد من، برادر بزرگ، پروفیسر امین صاحب مغل، عالم ہمہ داں، تفقہ فی العصر، تفقہ فی السان، تفقہ فی الادب۔حضرت بعد ایک طویل مدت کے اگلے روز فون پر آپ کی شفیق آواز گوش نواز ہوئی۔ آپ غالباً شفا خانے میں تھے۔ جس آواز نے عشرہ در عشرہ آئندگاں کو تاریخ کے پیچاک کا درس دیا تھا، سیاست کے پیچ و خم سجھائے تھے، معیشت کی حرکیات سے آگہی بخشی تھی، حرف اور معنی کا رشتہ ہائے آہن سمجھایا تھا، مکالمے کے آداب سکھائے تھے، افتادگان خاک کے دکھوں سے آشنائی بخشی تھی، صاحبان اختیار کی چیرہ دستیوں سے شناسا کیا تھا، ان سانسوں میں دوہری دھار کے خنجر کی کشاکش کے آثار محسوس کر کے دل ڈوب گیا۔ بے اختیار خواہش ہوئی کہ قلم اٹھا کر آپ سے اس خطہ رنگ و نور، اس شہر بے بدل کا احوال بیان کیا جائے جسے آپ نے 1984 ءکے حزنیہ برس میں خیر باد کہا تھا۔ اس سے پہلے کہ زبانِ عرض خواہ خاموش ہو جائے اور گوش سماعت بے ارتعاش ہو جائیں، اس سے پہلے کہ ہماری وحشت وقت کی تہ دار چٹانوں میں بے زبانی کی تصویر بن جائے، اس سے پہلے کہ احمد مشتاق کے اوراق خزانی پکار اٹھیں ’جان امید وارِ من، وقت بہت گزر گیا‘۔ ابھی مہلت ہے کہ بتوں سے التفات نگار سحر کی بات کہہ لی جائے۔

بھائی امین مغل، تاریخ کے جس موڑ پر آپ نے وادی غربت میں قدم رکھا تھا، وہ لاہور اب غبار وقت میں اوجھل ہو چکا۔ اسے اب شہر کون کہے گا۔ عسکری بستیوں نے چہار سمت سے شہر باکمال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ پربت پر چھاؤنی چھائی ہے۔ خواہی اسے کیمپ کہیے، خواہی پڑاؤ، شہر تو کنکریٹ کے سنگی جنگلوں تلے کسی اجتماعی قبر کی طرح مدفون ہے۔ جس نگر میں آپ نے شاکر علی، امانت علی، جیلانی کامران، انتظار حسین اور خالد محبوب کے چہچہے سنے تھے، وہ اب ایک بے جان قالب ہے۔ غربت نے چہار سو سے اور ہر معنی میں ہم پر یورش کی ہے۔ رکیے، احوال دل کو لگام دے کر قدم بقدم بیان کرتا ہوں۔حضرت آپ نے1984ءمیں رخت سفر باندھا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں برگد کا وہ پرانا پیڑ جس کے نیچے آپ اور پروفیسر عزیز الدین احمد آہنی سلاسل میں جکڑے لائے گئے تھے۔ وقت کی آندھی میں کٹ کر آدھا رہ گیا۔ اس کے نیچے کرسی بچھائے سیاسی قیدیوں کے مسیحا چوہدری اصغر خادم بھی اوجھل ہو گئے۔

تب نظام تعلیم پر اشتیاق حسین قریشی، ملک عمر حیات اور محمود اعظم فاروقی کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ آپ کی مدت العمر کمائی طلبا میں سیاسی شعور کی آبیاری تھی۔ اس برس طلبا یونینز پر پابندی سے وہ چشمہ ہی خشک ہو گیا جس سے امکان کا غنچہ کھلنا تھا۔ تب پاکستان کی کل آبادی ساڑھے آٹھ کروڑ اور شرح خواندگی 26 فیصد تھی۔ گویا ناخواندہ آبادی چھ کروڑ تھی۔ اس تاریک برس کے اختتام پر آمر نے ایک مضحکہ خیز ریفرنڈم اور پھر غیر جماعتی انتخابات کا اہتمام کیا۔ سیاسی جماعتوں کی عدم موجودگی میں فرقے، ذات برادری اور دولت کے بل پر انتخاب لڑا گیا۔ لسانی جماعتوں، فرقہ وارانہ تنظیموں اور نیم جرائم پیشہ جتھوں نے سیاسی عمل پر قبضہ کر لیا۔ زبان، عقیدے اور جرم کی بنیاد پر سیاسی مکالمہ نہیں ہو سکتا، نفرت کی دیواریں اٹھائی جاتی ہیں۔

اگست 1988ءمیں آمریت کی طویل رات ختم ہوتے ہوتے انتقال اقتدار کی بجائے شراکت اقتدار کا تصور متعارف کرا گئی۔ دستور میں 58 ٹو بی کی بارودی سرنگ بچھا گئی۔ اگلے گیارہ برس کمزور سیاسی حکومتوں اور طاقتور مقتدرہ میں آنکھ مچولی جاری رہی۔ یہ تماشا اکتوبر 1999میں ختم ہوا تو قوم کی کنپٹی پر پھر سے بندوق کی نالی رکھ دی گئی۔ اگلے نو برس کھلی زور آوری اور جمہوری قوتوں کی رکتی ہوئی سانسوں کی کشمکش سے عبارت تھے۔ آمریت قوم کے ہر شہری کے خلاف جرم مسلسل کا نام ہے جہاں بند دیواروں کے پیچھے قوم کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے۔ سیاسی قیادت کو یہ اعزاز البتہ حاصل رہا کہ اس نے بدترین حالات میں ہتھیار نہیں ڈالے۔ تیس سال سے مسلط کردہ جہادی بیانیے نیز خود تراشیدہ تاریخ کے بونسائی پیڑ کی چھاؤں میں زیر زمین جمہوری آرزوؤں کی جڑیں زندہ رکھیں۔ 2006 میں میثاق جمہوریت 90ء کی دہائی میں دست و گریبان سیاسی قوتوں میں وسیع تر مفاہمت کا اعلان تھا جس کی قیمت قوم نے محترمہ بینظیر بھٹو کے لہو کی صورت میں ادا کی۔

یہ نادیدہ قوتوں کا جمہوریت کے کچے قلعے پر کاری حملہ تھا۔ اس دوران تبدیلی کے ٹروجن ہارس سے شہر پناہ پر حملہ کیا گیا اور قوم کے جسد اجتماعی سے سیاسی شعور کی شریانیں کھینچ کر کچرا کنڈی پر پھینک دی گئیں۔ تازہ احوال یہ ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں اختیار اور فیصلہ سازی کا توازن تہ و بالا کر دیا گیا ہے۔ ہائبرڈ نظام قوم پر مسلط ہے جو جمہوریت ہے اور نہ آمریت۔ ملکی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جس میں دس کروڑ مکمل ناخواندہ ہیں۔ باقی آبادی تلقین زدہ نظام تعلیم کے سائے میں عملی طور پر ناخواندہ ہے۔ کل ملکی بجٹ کا 47 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔

قرضوں پر اٹھنے والے اخراجات دفاعی بجٹ سے تین گنا بڑھ چکے ہیں۔ دفاعی بجٹ کی بحث متروک ہو چکی کیونکہ ریاستی قوت اور پیوستہ معاشی مفادات میں گٹھ جوڑ نے ہشت پا کی طرح قوم پر پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ سرکاری خوان نعمت کے پروردہ پیشوا عدالت عظمیٰ میں گھس کر من مانے فیصلے لکھواتے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب شہریوں کو ماورائے عدالت قتل نہ کیا جائے۔ آخری خبر یہ ہے کہ اجتماعی شعور میں لہو کی وہ بوند مفقود ہو چکی جسے سیاسی شعور کہتے ہیں۔ قبلہ گاہی آپ وطن سے دور سہی، ہمارے لیے آپ کا سبوچہ غنیمت ہے کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدْو۔ آپ بھلے ہم سے دور سہی لیکن قانون کی بالادستی میں سانس لے رہے ہیں۔ از براہ خدا اپنی صحت کا خیال رکھیں اور مقامی کونسل کی طرف سے اپنی خدمت پر مامور بچیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگانے سے گریز فرمائیں۔ وقت سے لڑنا ہم فانی انسانوں کے بس سے پرے ہے۔ بھلے وہ انسان امین مغل جیسا توانا اور ساونت ذہن ہی کیوں نہ ہو۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے