قیدی اور ’’قیدو‘‘!

عربی، فارسی، اردو،ہندی اور پنجابی ادب میں صیّاد (شکاری) اور صید ( شکار یا قید پرندہ) اسیر اور آسر کی اصطلاحات سے بھری پڑی ہیں ۔اردو میں قیدی کا لفظ ہے مگر قید کرنے والے کیلئے عربی اور فارسی کی طرح کا اسی جڑسے نکلا ہوا، ملتا جلتا کوئی لفظ نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ قید کرنے والے کو’ جیلر ‘کے غیر رومانوی اور غیر ادبی نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔ دراصل اہل سیاست ریاستی ٹیکسال چلانے کے ہنر میں تو یکتا ہوتے ہیں نئے لفظ بنانے اور اصطلاحات بنانے میں انہیں ادیبوں اور شاعروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیر کے مصنف وارث شاہ نے ولن کے طور پر لنگڑے’’ کیدو‘‘ کا نام امرکردیا جو رانجھے اور ہیر کے رومانس میں رکاوٹ کی علامت ہے جس طرح صیّاد اپنے صید کی آزادی میں رکاوٹ ہوتا ہے تو وارث شاہی اصطلاح کو تبدیل اور اس میں ترمیم کرتے ہوئے قیدی کوقید کرنیوالے کو ’’کیدو‘‘ کی بجائے قیدو کا لفظ بنایا جاسکتا ہے۔

علم الاعداد میں ق کو دو نقطوں سے لکھیں یاک ش سے لکھیں دونوں کے نمبر100ہی رہتے ہیں گویا کیدو لکھیں یا قیدو لکھیں علم الاعداد میں ایک برابر ہیں۔ دوسرے تحریک انصاف کے پسندیدہ حرف ع کو اگرغ میں تبدیل کردیاجائے تو ان دونوں میں نمایاں ترین فرق پڑجاتا ہے ع یعنی عین کا عدد70ہےتاہم یہ ع اگرغین ہوجائے تو اسے1000کی قدر مل جاتی ہے۔ اسیر، اسیری اور آسر ایک ہی جڑ سے ہیں اسی طرح صیّاد اور صَید بھی ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔ علم الاعداد اور وارث شاہی روایت میں کیدو اور قیدو میں کوئی بڑا فرق نہیںقید، قیدی اور قیدو ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔

آج کل سیاست میں قیدی اور قیدو، اسیر اور آسر، صَید اور صیّاد کا ذکر چھایا ہوا ہے حکومت صیّاد ، آسر اور قیدو قرار دی جارہی ہے اور تحریک انصاف قیدی، اسیر اورصَید کی ترجمانی کررہی ہے ،ع یعنی عمران کا مسئلہ بھی عین یعنی آنکھ ہے میرا موقف شروع سے یہی ہے کہ اس بار یہ’’ ڈیل‘‘ نہ ’’ ڈھیل‘‘ دونوں طرف سے اپنی اپنی سیاسی تدبیر ہے جو کارفرما ہے۔ قیدو چاہتا ہے کہ عین کے بہانے سیاست نہ چمکے اور نہ ہی ہمدردی جھلکے جبکہ قیدی کا خاندان چاہتا ہے کہ عین کے بہانے تحریک چل پڑے اور حکومت پر دباؤ پڑے۔ اب تک کے حالات اور عمل دونوں کے اسی رویے کو ثابت کررہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سب سے زیادہ رونے دھونے والے ہی حادثوں کے اصل گناہ گار نکلتے ہیں اس لئے بعض اوقات آہ وزاری تدبیر ہوتی ہے مقصد اس سے تقدیر بنانا ہوتی ہے۔ وراثتی سیاست بھٹو خاندان اور شریف خاندان کو راس آتی ہےتو عمران کاخاندان اس کی آس کیوں نہ لگائے؟پرانے خاندانوں کووراثت راس آنے کی روایت پرانی ہے نیا عمرانی خاندان آس تو لگائے گا۔ وراثت کون چھوڑتا ہے چاہے جائیداد کی ہو یا سیاست کی؟ جیسے حکومت چھوڑنا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے وراثت چھوڑنا ناممکن ترین عمل ہوتا ہے۔

ڈیل کے حوالے سے ہر فریق کی خواہش ہوتی ہے کہ وُہ مکمل فتح یاب ٹھہرے لیکن وہ ڈیل جس میں ایک فریق مکمل جیت جائے اور دوسرا مکمل ہار جائے تو وُہ ڈیل معتبر اور مستقل نہیں ٹھہرتی ،ڈیل وہی کامیاب ہوتی ہے جس میں دونوں متحارب فریقوں کا جہاںکچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا ہے وہاں اس میں تھوڑا تھوڑا نقصان بھی ہوتا ہے۔ آئیڈیلزم سے ہٹ کر ڈیل کا دوسرا بنیادی نکتہ طاقتور اور کمزور کا فرق ہوتا ہے، طاقتور کو کسی بھی مصالحت میںUpper handیا بالا دستی حاصل ہوتی ہے جبکہ کمزور فریق زیردست کی حیثیت رکھتا ہے۔

طاقتور اور کمزورکے مابین ڈیل لازماً طاقتور کے زیادہ حق میں اور تھوڑی خلاف ہوتی ہے جبکہ کمزور کو ڈیل میں بہت کم ملتا ہے اور بہت زیادہ دینا پڑتا ہے۔ فرض کریں حکومت اور تحریک انصاف میں ڈیل کی کوئی بھی بات ہوگی تو بر سر اقتدار حکومت کو اس ڈیل میں بالا دستی اور تحریک انصاف کو زیردستی ہوگی ڈیل چونکہ حکومت کی مجبوری نہیں تحریک انصاف کی زیادہ مجبوری ہے تو اسلئے اسے جھکنا بھی پڑئیگا، پہلے دن سے حکومت کی آفر ہے کہ آپ موجودہ نظام کو قبول کرلیں اور خاموش بیٹھ جائیں تو آپ کو بنی گالہ منتقل کیا جاسکتا ہے، دو مذاکرات کاروں گنڈاپور، اور امریکی وفد کو عمران خان کی ابتدا میں حمایت حاصل تھی مگر بیل اس لئے منڈھے نہ چڑھ سکی کہ خان صاحب، انکی بہنیں اور یوٹیوبرز کی اندرونی خواہش یہی ہے کہ جیل سے باہر آتے ہی تختہ سے تخت تک کا سفر شروع ہوجائے حکومت بھی تجربہ کاروں کے ہاتھ میں ہے وہ اناڑی ہیں نہ عارضی کھلاڑی وُہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کو تیار نہیں۔ یہ وہ اندرونی کہانی ہے جسکی وجہ سے ایک کے’’ سرنڈر‘‘ اور دوسرے کے ’’ونڈر‘‘ کی خواہش کی جاتی ہے عملی حقائق سے ماورا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ عمران فوراً حکومت اور مقتدرہ کوزیر کرنے کی بجائے خود زیر ہوجائیں تو ڈیل ہوسکتی ہے یا حکومت کیلئے کوئی ناگزیر مجبوری بن جائے،اس پر اتنابیرونی یا اندرونی دباو پڑجائے کہ جھکنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہ رہے ،تب بھی ڈیل ہو سکتی ہے ۔ فی الحال دونوں طرف ایسا نہ کوئی عندیہ ہے اور نہ ہی اسکا فوری امکان ہے۔

اسیر اور آسر ، صَید اور صیّاد اور قیدی او ر قیدو کے حوالے سے اصل مسئلہ تحریک انصاف کا تخیلاتی نظریہ ہےجو صرف اور صرف مقبولیت پر مبنی ہے جبکہ2024ء سےپہلے ہی عاجزنے سیکورٹی اسٹیٹ پاکستان کی تلخ حقیقت ’’قبولیت‘‘ کا ذکر کیا تھا اور میرے انصافی یوٹیوبر دوست ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گئے تھے اب اسی قبولیت سے ڈیل ہو یا رابطے کا شائبہ بھی پیدا ہو تو وُہ بغلیں بجا کر انقلاب کی کامیابی کی نوید دینا شروع کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انقلاب کے بعد فرانس کی طرح ٹکٹکیاں لگانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں انہیں عمران کے جیل سے باہر آنے کا نقصان ہی نقصان ہے اور جیل میں رہنے کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ وُہ اپنے فائدے کے خلاف کیوں جائیں انکا موقف قابل فہم ہےلیکن یہ سراسر مفاداتی ہے اور حقیقتاً عمران خان کے ذاتی مفاد کے سراسر خلاف ہے۔

ذاتی طور میں تاریخ، ادب ،صحافت، قانون و اخلاقیات کا ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناطے صیّاد کے ساتھ نہیں صَید کے ساتھ ہوں قیدو کا ساتھی نہیں قیدی کا ہمدرد ہوں مجھے آسر نہیں اسیر مظلوم لگتے ہیں۔ ہندوستان و پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہل ادب و صحافت کیلئےصیّاد، آسر اور قیدو کا استعارہ رقیب اور صَید، قیدی یا اسیرکی اصطلاح محبوب کیلئے استعمال ہوتی رہی ہے اسی اثر کے تحت پرندوں کا شوق ہونے کے باوجود میرے پالتو پرندوں میں سے کوئی بھی صَید یا قید نہیں سب آزاد گھومتے پھرتے اور کھاتے پیتے ہیں مگر کیا کریں دنیا کوئی ہماری مرضی سے تھوڑی چلتی ہے گھڑی ہماری خواہشات کی پابند کہاں زمانہ اور وقت چلتے ہوئے ہماری رائے کب لیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صیّاد کیوںصَید کو آزاد کر کے اپنے لیے مسائل پیدا کر ےکہ قیدی کو چھوڑ کر خود تکلیف کا اسیر ہو جائے ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیتے اور عقاب، مقبولیت کے گھوڑے پر سوار معقولیت کی دیوار پھلانگ کر ٹریک سے باہر نکل چکے ہیں گھوڑوں کی ریس ٹریک کے اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔ اقتدار کی لڑائی اندرون ملک لڑنا پڑتی ہے بیرون ملک نہیں۔ جدوجہد سڑکوں پر جیت پاتی ہے، کی بورڈ کے ذریعے نہیں۔ حقائق کا ادراک کسی بھی طرف نہیں۔ لڑائی جھگڑے، ہارحیت کے بعد بھی مذاکرات اور مصالحت ہی ہونی ہے تو جلد کرلیں ملک کا اسی میں بھلا ہے۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے