آج سے تقریباً دس برس پہلے کی بات ہے، میری معروف کامیڈین فرید خان صاحب سے فون پر بات ہوئی تھی۔ اُن کی کال آئی، میں نے کال اٹینڈ کی تو سلام دعا کے بعد انہوں نے مجھے کراچی آنے کی دعوت بھی دی۔ یہ وہ وقت تھا جب فرید خان صاحب کینسر جیسے موذی مرض سے گزر رہے تھے اور بہت پریشان تھے۔ انہوں نے ایک جملہ کہا تھا:
"ریحان صاحب! یاد رکھیے گا، ہنسانے والوں کو بعد میں رونا پڑتا ہے۔”
بعد ازاں واقعی میں نے اس جملے کے تناظر میں کئی کامیڈین کو آخری وقت میں روتے ہوئے دیکھا۔ میں کس کس کا نام لوں؟ ببو برال ہو یا سکندر صنم، کامیڈی کنگ عمر شریف ہوں یا لکی ڈئیر، طارق ٹیڈی ہو یا فرید خان، فلم اسٹار لہری ہوں یا رنگیلا بقول فرید خان، ہنسانے والوں کا اختتام اکثر رونے پر ہی ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں جب انڈیا کے مشہور و معروف اداکار راج پال یادیو (جو خاص طور پر اپنے مزاحیہ کرداروں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں) کے بارے میں یہ خبر سننے کو ملی کہ انہیں چیک باؤنس کیس کے سلسلے میں جیل بھیج دیا گیا ہے، تو یقین جانیے بڑا رنج ہوا۔ جس کو بھی یہ خبر معلوم ہوئی وہ افسردہ ہوا، خاص طور پر جب راج پال یادیو کی دکھ بھری پوسٹ دیکھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا:
"میرے پاس پیسے بھی نہیں ہیں اور نہ کوئی دوست ہے۔”
راج پال کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایسی سرخیاں بٹوریں کہ یہ پوسٹ راتوں رات وائرل ہو گئی۔ راج پال کے مداح بالی وڈ کو برا بھلا کہنے لگے۔ یوٹیوبرز اور موٹیویشنل اسپیکرز کو بھی بھاشن دینے کا موقع مل گیا کہ دیکھا، اچھے وقت میں سب ساتھ دیتے ہیں اور برے وقت میں کوئی ساتھی نہیں ہوتا۔ لوگ اکشے کمار اور سلمان خان کو بھی آڑے ہاتھوں لینے لگے کہ انہوں نے راج پال کے ساتھ کتنا کام کیا ہے مگر اب کوئی اس کا ساتھ نہیں دے رہا۔
دراصل ہم ایشیا کے لوگ بہت جذباتی ہیں۔ باتیں بنانا تو ہمیں خوب آتا ہے لیکن ہم حقیقت جاننا ہی نہیں چاہتے۔ خبروں کے مطابق راج پال نے 2010ء میں ایک فلم بنانے کی منصوبہ بندی شروع کی اور پانچ کروڑ کا قرض لے لیا۔ بدقسمتی سے فلم چل نہ سکی اور چیک باؤنس ہو گیا۔ آخرکار قرض نو کروڑ تک پہنچ گیا اور راج پال دیوالیہ ہو گئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راج پال ایک اچھے اداکار ہیں، اہم اور بڑی فلموں میں بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ اگر ان کی فیس سپر اسٹار جیسی نہیں تو ان سے کچھ کم ضرور ہوگی۔ پھر تقریباً پندرہ برس تک وہ یہ قرض کیوں نہ اتار سکے؟ تیس سال کے فلمی کیریئر میں انہوں نے تقریباً دو سو فلموں میں اداکاری کی۔ تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس کیس میں ان کی کچھ نہ کچھ کوتاہی ضرور نظر آتی ہے۔
اکثر اداکاروں کو ان کا لاابالی پن اور عیاشی لے ڈوبتی ہے۔ مہنگے شوق، پارٹیوں میں جانا، پینا پلانا، مہنگے کپڑے اور جوتے پہننا، دوستیاں اور پرتعیش طرزِ زندگی بھی انسان کو اس حال تک پہنچا دیتی ہے۔ مانا کہ راج پال یادیو لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہیں، ان کی اداکاری قابلِ تعریف ہے۔ ان کے ڈائیلاگ سن کر بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے اور ان کے جملے بچے بچے کو یاد ہیں۔ وہ پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں میں مقبول ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ انہوں نے اپنے پاؤں چادر دیکھ کر نہیں پھیلائے۔
ایک وقت تھا جب نوازالدین صدیقی ان کے کمرے میں رہا کرتے تھے۔ کھانے کا انتظام بھی اکثر راج ہی کیا کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا، دونوں اداکاروں نے کامیابی حاصل کی اور خوب پیسہ کمایا۔ نوازالدین صدیقی نے اپنا شاندار محل نما گھر بنا لیا اور زندگی کامیابی سے گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے دوست راج پال، جنہوں نے پیسے کی قدر نہیں کی، آج دنیا کے سامنے تماشا بنے ہوئے ہیں۔
سنا ہے کہ اداکار سلمان خان، اجے دیوگن، میکا سنگھ اور سونو سود کے علاوہ کچھ سیاسی لوگوں نے بھی مل کر راج پال کی مدد کی ہے یا کر رہے ہیں۔ بہت سے اداکار تو سرخیوں میں آنے کے لیے صرف پیشکش اور اعلان ہی کر رہے ہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عملی طور پر کس نے کتنی مدد کی۔ البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ آخر کوئی کب تک کسی کی مدد کرتا رہے؟
سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ کیوں اپنی محنت کی کمائی کسی غیر ذمہ دار شخص پر خرچ کریں؟ یہ باتیں کہنے میں تو اچھی لگتی ہیں کہ بالی وڈ والے کیوں راج پال کی مدد نہیں کر رہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے دوست کو چائے پلانے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔
یہ تو پھر فلم نگری ہے میاں! یاد کیجیے، ہمارے کتنے اداکار کسمپرسی کی زندگی گزار کر رخصت ہو گئے۔ لہری صاحب نے آخری وقت میں بہت مشکل سے گزارا۔ مجھے یاد ہے کہ "عینک والا جن” کی بل بتوڑی نصرت آرا حکومت سے اپیل کرتی رہیں۔ ابھی پی ٹی وی کے ڈرامے "سونا چاندی” کی عابدہ بیگ صاحبہ بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
اداکاروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے حکومت کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانی چاہیے۔ اس کے علاوہ فلاحی اداروں کو بھی اس حوالے سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر جب تک اداکار خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوگا، پیسے جمع نہیں کرے گا، اپنا مستقبل محفوظ نہیں بنائے گا اور اپنی عیاشیوں کو کم نہیں کرے گا، تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو آج راج پال یادیو کا ہو رہا ہے۔
یاد رکھیے، دنیا ہنسانے والے کو پسند کرتی ہے، رونے والے کو نہیں۔