مہنگائی میں دم توڑتی زندگی

کہتے ہیں انسان بھوک سے نہیں مرتا، مایوسی سے مرتا ہے اور آج کا پاکستانی بھوک سے زیادہ مایوس ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں روٹی جتنی مہنگی ہوئی ہے، امید اتنی ہی سستی ہوگئی ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ“مشکل وقت ہے، گزر جائے گا”، مگر اب لوگ کہتے ہیں“یہ وقت نہیں، قیامت ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی۔”

مہنگائی نے زندگی کا مفہوم ہی بدل دیا ہے۔ پہلے لوگ کماتے تھے تاکہ جئیں، اب لوگ جیتے ہیں تاکہ کمائیں۔ آٹا، چینی، گھی، دال، بجلی، گیس سب دشمن بن چکے ہیں۔ بازار میں چیزوں کے دام سن کر لگتا ہے جیسے دکاندار نرخ نہیں بتا رہا، سزا سنا رہا ہے۔ عوام تنگ آچکی ہے، مگر حکمران شاید اب بھی آنکھوں پر غفلت کی پٹی باندھے بیٹھے ہیں۔ میں کل لاہور کے نشتر بازار میں ایک دکاندار سے بات کر رہا تھا۔ کہنے لگا،“صاحب، اب تو لوگ خریداری نہیں کرتے، صرف پوچھنے آتے ہیں۔ قیمت سن کر مسکرا دیتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔”اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک بے بسی چھپی تھی، جو شاید آج ہر شہری کے چہرے کا تاثر بن چکی ہے۔ افراطِ زر کی شرح کاغذوں میں 28 فیصد لکھی ہے، مگر حقیقت میں یہ لوگوں کی زندگیوں میں سو فیصد گھس چکی ہے۔ کسی کا بچہ اسکول نہیں جا رہا، کسی کی دوائی بند ہوگئی ہے، کسی کے گھر میں چولہا ٹھنڈا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے اثرات اب اشیاء پر نہیں، انسانوں پر پڑ رہے ہیں۔

”ہنستی بستیاں اداس ہیں، اور لوگ زندہ ہیں مگر زندگی جی نہیں رہے“۔

پنجاب حکومت کا حال بھی دیکھ لیجیے۔ ایسے وقت میں جب ملک کی معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہو، حکومت نے کروڑوں روپے لگا کر ایک نیا جہاز خرید لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز سرکاری دوروں کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا سفر ہے جو زمین پر رہ کر نہیں کیا جا سکتا؟ عوام کے پاس پیٹرول کے لیے پیسے نہیں، مگر حکمرانوں کے پاس آسمان چھونے کا شوق باقی ہے۔ یہ جہاز شاید حکمرانوں کی ترجیحات کا بہترین استعارہ بن گیا ہے، عوام زمین پر پیس رہے ہیں اور حکومت فضا میں پرواز کر رہی ہے۔ مہنگائی صرف اشیاء کی نہیں، احساسات کی بھی ہوگئی ہے۔ لوگ اب مسکرانے سے بھی کتراتے ہیں کیونکہ خوشی مہنگی پڑتی ہے۔ ایک ماں نے کہا،“جب بجلی کا بل آتا ہے تو دل چاہتا ہے پنکھا بند کر دوں، مگر بچوں کا پسینہ نہیں دیکھ سکتی۔”یہ ایک جملہ دراصل پچیس کروڑ لوگوں کے دل کی آواز ہے۔

ہم کب تک دوسروں کے فیصلوں کے نتیجے بھگتتے رہیں گے؟ کبھی ڈالر کے پیچھے معیشت رکتی ہے، کبھی آئی ایم ایف کے حکم پر روپے کی قدر گرتی ہے۔ نتیجہ ایک عوام کی چیخیں۔ ملک کے اربوں ڈالر قرضوں کی مد میں نکل رہے ہیں، لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ عوام کو سہولتوں کے بدلے میں کیا ملا؟ نہ روزگار، نہ سکون، نہ امید۔ یہ وقت صرف حکومت کے امتحان کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا ہے۔ کیونکہ اگر عوام نے بھی اپنا حق مانگنا چھوڑ دیا تو پھر حکمرانوں کی غلطیاں جرم نہیں، روایت بن جائیں گی۔ ہمیں اپنی غلط ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ حکومتی سطح پر کفایت شعاری، احتساب، اور شفافیت کے بغیر نہ معیشت سنبھلے گی نہ قوم۔ صرف بیانات سے ملک نہیں سنبھلتے، کردار سے سنبھلتے ہیں اور افسوس کہ کردار کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

کل نشترکالونی سٹاپ پر ایک مزدور ملا۔ چہرے پر دھول، آنکھوں میں زندگی کی شکست۔ میں نے پوچھا،“کہاں جا رہے ہو؟”بولا،“فیصل آباد مزدوری کے لیے، شاید دو دن کا کام مل جائے تو بچوں کو دال کھلا سکوں۔”میں نے کہا،“اور اگر کام نہ ملا؟”مسکرا کر بولا،“پھر کل روٹی نہیں، تسلی کھائیں گے۔”وہ چلا گیا، مگر میرے دل پر وہ ایک فقرہ لکھ گیا“صاحب، اب تسلی بھی بھوک مٹاتی ہے۔”یہ وہ جملہ ہے جو پاکستان کے ہر غریب کے لبوں پر ہے۔ ہم بھوک سے نہیں، وعدوں کے بوجھ تلے مر رہے ہیں۔ یہ ملک قدرتی وسائل سے مالامال ہے، مگر نیت کی برکت سے خالی۔ زمین زرخیز ہے، لیکن پالیسیاں بنجر۔ حکمران اگر چاہیں تو ایک فیصلے سے بہت کچھ بدل سکتے ہیں، مگر صرف وہی بدلے گا جس کا ارادہ بدلنے کا ہوگا۔

دنیا کے کئی ملک ہم سے بھی بدحال تھے۔ لیکن انہوں نے ایک اصول اپنایا دیانت۔ اگر نیت سچی ہو تو خالی خزانے بھی مالا مال ہو جاتے ہیں، اور اگر نیت خراب ہو تو سونا بھی مٹی بن جاتا ہے۔ یہی فرق ہے ترقی یافتہ دنیا اور ہمارے بیچ۔ وہاں حکومت عوام کے لیے سوچتی ہے، یہاں عوام حکومت کے لیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواب دیکھنا چھوڑ کر حقیقت میں جینا سیکھیں۔ حکمران یاد رکھیں، عوام کا صبر اللہ کے بعد سب سے مضبوط دیوار ہے، مگر جب یہ دیوار گر جائے تو ایوان بھی سلامت نہیں رہتے۔ اگر آج بھی اصلاح نہ کی گئی تو تاریخ میں یہی لکھا جائے گا۔

”یہ وہ قوم تھی جو مہنگائی میں زندہ رہی، مگر آخرکار امید میں مر گئی“۔

*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے