آج میری پیاری نانی جان، رقیبُ النسا، کی چوتھی برسی ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے، مگر کچھ شخصیات وقت کے دھندلکوں میں گم نہیں ہوتیں۔ وہ صرف رشتے نہیں ہوتیں، وہ کردار سازی کرتی ہیں، حوصلہ دیتی ہیں اور انسان کی پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتی ہیں۔ میری نانی بھی ایسی ہی ایک غیر معمولی مگر بظاہر “عام” عورت تھیں۔
ہم اکثر اپنے پیاروں پر اُس وقت قلم اٹھاتے ہیں جب وہ دنیاوی کامیابیوں کے کسی پیمانے پر نمایاں ہوں، مگر کم ہی لوگ اُن غیر معمولی “عام” عورتوں اور مردوں کو یاد کرتے ہیں جو بغیر کسی عہدے، اعزاز یا شہرت کے بے شمار دلوں کو چھو جاتے ہیں۔ میری نانی ایسی ہی ایک خاموش مگر اثر انگیز ہستی تھیں۔
انہوں نے میرے غیر روایتی فیصلوں میں میرا ساتھ دیا خصوصاً ۱۹۹۵ء میں، جب میں نے پی ٹی وی پر اینکر بننے کا سفر شروع کیا۔ وہ میرا پروگرام باقاعدگی سے دیکھتیں، محبت اور تنقید کے توازن کے ساتھ رائے دیتیں اور مشکل وقت میں مسکرا کر کہتیں: “Damn care”۔ یہ دو لفظ میرے لیے ڈھال بن جاتے تھے۔
پچیس برس کی عمر میں، ایک ارینجڈ میرج کے تناظر میں، میں نے ایسے رویّوں اور تشدد کا سامنا کیا جنہیں ہمارے معاشرے میں اکثر معمول سمجھ لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں مجھے سنگل ماں کے طور پر زندگی کا نیا باب شروع کرنا پڑا۔ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ وہ ابتدا ہی سے اس فیصلے کی حامی تھیں انہوں نے گھر کو بچانے کے لیے ہمیشہ صبر کی تلقین کی۔ لیکن جب فیصلہ ناگزیر ہوگیا تو انہوں نے مجھے کبھی بھی سماجی داغ کا احساس نہیں دلایا۔ ان کی خاموش قبولیت اور غیر مشروط محبت میرے لیے سہارا بنی۔
میری برداشت، میرا حوصلہ اور درد کو جینے کا سلیقہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے پیارے مرحوم ابو جان اور میری نانی کے توسط سے عطا کیا۔
بطورِ ایک بہاری خاتون، میری نانی نے صرف ایک نہیں بلکہ دو ہجرتوں کا کرب سہا پہلے بھارت سے مشرقی پاکستان، اور پھر مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان۔ وہ اپنے بچپن کی گلیوں، اپنے والد اور بھارت میں رہ جانے والی بہنوں کو بڑے پیار سے یاد کرتی تھیں۔ جدائی کا دکھ ان کی آواز میں کبھی کبھی لرزتا تھا، مگر پاکستان سے ان کی محبت کبھی متزلزل نہ ہوئی۔
برقع اوڑھے وہ تحریکِ پاکستان میں شریک رہیں، مسلم لیگ کو ووٹ دیا، آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کے ساتھ خدمت انجام دی اور ڈھاکہ میں محترمہ فاطمہ جناح کے استقبال کی کمیٹی کا حصہ بھی رہیں۔ مگر ان کی زندگی روایت کی جامد تصویر نہیں تھی۔ وقت کے ساتھ انہوں نے برقع ترک کرنے کا فیصلہ بھی کیا یہ ان کا ذاتی، باشعور اور باوقار فیصلہ تھا۔ انہوں نے اپنی شناخت کو جمود کا قیدی نہیں بنایا۔ ان کے لیے حیا اور خود اعتمادی کا تعلق لباس سے زیادہ کردار سے تھا۔ یہ ان کے خاموش مگر گہرے اختیار (empowerment) کا اظہار تھا۔ آخری عمر تک وہ اپنا ووٹ ضرور کاسٹ کرتی تھیں اور ملکی سیاست پر بے لاگ تبصرے بھی کیا کرتی تھیں۔
جب والد پولیس میں ہوں، والدہ جاگیردارنی ہوں اور شجرۂ نسب تغلق دور کے چیف آف دی آرمی اسٹاف ”ملک ابراہیم“ سے ہوتا ہوا مولا علی کرم اللہ وجہہ جیسے شجاعت اور فراست کے پیکر تک جا پہنچے، تو ایسی بنیادوں پر ایک مضبوط، باوقار اور دردمند عورت کی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔
انہوں نے طویل عمر پائی، بے شمار صعوبتیں برداشت کیں، ہجرت کا صدمہ جھیلا، مگر کبھی خودترسی کا شکار نہ ہوئیں۔ بہت سی ہمت، کٹھن حالات میں بھی خوش رہنے کی صلاحیت اور فضول لوگوں اور گفتگو کو نظر انداز کرنے کا ہنر میں نے انہی سے سیکھا۔ ان کا خاندانی پس منظر مضبوط تھا، مگر اصل طاقت ان کے کردار میں تھی، نسب میں نہیں۔
میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ ایک ایسی زبردست فیمنسٹ میری نانی تھیں بغیر کسی نعرے کے، بغیر کسی لیبل کے۔ انہوں نے کبھی خود کو کم تر نہیں سمجھا، کبھی حالات کے آگے ہار نہیں مانی اور کبھی اپنی تکلیف کو اپنی شناخت نہیں بنایا۔

میری زندگی کی جدوجہد میں، میں نے کئی معروف فیمینسٹ خواتین و حضرات اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی تنگ نظری، مخالفت، حسد اور مسوجنی کو دیکھا، بھگتا اور سہا، مگر میں ٹوٹی نہیں—کیونکہ میرے اندر میری نانی کا حوصلہ زندہ تھا۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری شخصیت کی بنیادوں میں اگر استقامت ہے، اگر وقار ہے، اگر درد کو جینے کا سلیقہ ہے تو وہ میری نانی جان، رقیبُ النسا، کی تربیت کا فیض ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اُن جیسا ظرف، حوصلہ اور وقار عطا کرے۔ آمین۔