افتخار عارف: حیات، فن اور فکری جہات

عہدِ حاضر کی اُردو شاعری میں افتخار عارف کا نام فکری سنجیدگی، تہذیبی شعور اور علامتی گہرائی کے حوالے سے ایک منفرد اور معتبر مقام رکھتا ہے۔ زیرِ نظر مطالعے کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ افتخار عارف کی شاعری کو محض مذہبی یا جذباتی حوالوں تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایک مربوط فکری بیانیے کے طور پر دیکھا جائے۔ ان کے کلام میں روایت اور جدیدیت باہم متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ اور تکمیلی صورت میں جلوہ گر ہیں۔ اردو شاعری کی روایت کلاسیکی دبستانوں سے جدید رجحانات تک ایک مسلسل ارتقائی سفر میں رہی ہے۔

اس سفر میں بعض شعرا ایسے سامنے آئے جنہوں نے محض اظہارِ ذات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فکر و شعور کی سمت بھی متعین کی۔ افتخار عارف اسی روایت کے معتبر نمائندہ ہیں۔ ان کی شاعری میں ماضی کی تہذیبی یادداشت، حال کا اضطراب اور مستقبل کی امید ایک ہی شعری نظام میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ یہی جامعیت اور فکری ہمہ گیری انہیں اپنے معاصرین سے ممتاز کرتی ہے۔ افتخار عارف کے کلام میں فرد اور معاشرہ، روایت اور جدت، امید اور مایوسی سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی خصوصیت ان کے شعری جہان کو اردو ادب کے بڑے بیانیے کا لازمی حصہ بنا دیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کا نام عہدِ حاضر کی اردو شاعری میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

افتخار حسین عارف 21 مارچ 1944ء کو لکھنؤ (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ کی وہ ادبی و تہذیبی فضا، جو برصغیر کی علمی و شعری روایت کا مرکز سمجھی جاتی ہے، ان کی شخصیت اور فکر کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بی اے کا امتحان یونیورسٹی آف لکھنؤ سے پاس کیا، جس میں سوشیالوجی، سنسکرت اور انگریزی جیسے مضامین شامل تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اسی جامعہ سے ایم اے ایس کا امتحان بھی کامیابی سے مکمل کیا۔ 1965ء میں وہ کراچی آ گئے۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران ہی ان کا رجحان شاعری کی طرف نمایاں ہو چکا تھا۔ مطالعے کی وسعت، فکری سنجیدگی اور تہذیبی شعور نے انہیں جلد ہی ادبی حلقوں میں ممتاز مقام عطا کیا۔ اس ہجرت کو وہ اپنی زندگی کا ایک "بابرکت” قدم قرار دیتے ہیں۔ بعد ازاں، انہوں نے نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیا مینجمنٹ کا ایک مختصر کورس بھی کیا۔

افتخار عارف کی شادی 22 اکتوبر 1967ء کو کراچی میں محترمہ ریحانہ سے ہوئی، جو ان کی والدہ کی خالہ زاد بہن کی بیٹی تھیں۔ ان کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئے، جن کی پرورش نہایت عمدگی اور محبت سے کی گئی۔
کراچی میں انہوں نے ریڈیو پاکستان اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن سے وابستگی اختیار کی، جہاں معروف پروگرام کسوٹی میں عبیداللہ بیگ کے ساتھ ان کی شرکت نے انہیں عوامی سطح پر پہچان بخشی۔ بعد ازاں وہ لندن منتقل ہوئے اور تقریباً تیرہ برس وہاں مقیم رہے۔ اس دوران انہوں نے بی سی سی آئی بینک لندن اور اردو مرکز سے وابستگی اختیار کی، جس نے نہ صرف ان کی عملی زندگی کو وسعت دی بلکہ ان کے تخلیقی شعور کو بھی عالمی تناظر عطا کیا۔ مغربی دنیا کے ادبی و فکری ماحول سے براہِ راست تعلق نے ان کی شاعری کو بین الاقوامی جہت عطا کی۔ جلاوطنی، ہجرت اور وطن کی یاد کے تجربات ان کے کلام میں بار بار جلوہ گر ہوتے ہیں، اور یہی تجربات ان کی شاعری کو داخلی کرب اور خارجی وسعت دونوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا، جن میں نشان امتیاز، ہلال امتیاز، ستارۂ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی شامل ہیں۔ وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز اور قومی زبان اتھارٹی کے سربراہ بھی رہے، جہاں انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔اسی طرح پاکستان رائٹرز گلڈ سے وابستگی کے ذریعے اردو ادب کے فروغ میں حصہ لیا بیرونِ ملک قیام کے دوران اردو زبان و ادب کی ترویج میں ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں .

افتخار عارف کے شعری ارتقا کو مجموعی طور پر تین نمایاں مراحل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلا مرحلہ ذات اور داخلی کشمکش کا ہے، جہاں فرد کی تنہائی، وجودی سوالات اور ذاتی کرب نمایاں ہیں۔ دوسرا مرحلہ تہذیبی شعور اور اجتماعی احساس کا ہے، جس میں معاشرتی محرومی، تہذیبی زوال اور اجتماعی کرب کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تیسرا مرحلہ روحانی علامتوں اور فکری توازن کا ہے، جہاں مذہبی و تاریخی تلمیحات اخلاقی استقامت اور انسانی وقار کی علامت بن جاتی ہیں۔

افتخار عارف کی شخصیت اور شاعری میں مشرقی روایت کی تہذیبی یادداشت اور مغربی دنیا کے فکری امکانات کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اردو شاعری کے ایک معتبر نمائندہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ان کے کلام میں ہجرت کا دکھ، جلاوطنی کا کرب اور تہذیبی ورثے کی بازیافت ایک مربوط فکری بیانیے کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے، جو انہیں اپنے معاصرین سے الگ اور نمایاں کرتی ہے۔ ان کی شاعری کو محض جذباتی یا مذہبی حوالوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے کلام میں روایت اور جدیدیت باہم ہم آہنگ ہیں۔ ماضی کی تہذیبی یادداشت، حال کا اضطراب اور مستقبل کی امید ایک ہی شعری نظام میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔ یہی جامعیت اور فکری ہمہ گیری انہیں اردو ادب کے بڑے بیانیے کا لازمی حصہ بنا دیتی ہے۔

ان کی شاعری میں اسلامی تاریخ، کربلا، ہجرت اور صبر کے استعارے محض مذہبی حوالہ نہیں بلکہ اخلاقی قوت اور انسانی عظمت کے مظاہر ہیں۔ تاریخ ان کے ہاں ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال کا زندہ تجربہ ہے۔ ہجرت اور جلاوطنی کا دکھ، وطن سے دوری اور شناخت کا سوال ان کے کلام میں بار بار ابھرتا ہے، اور یہی تجربات ایک فکری تناؤ پیدا کرتے ہیں جسے وہ نہایت وقار اور سنجیدگی سے بیان کرتے ہیں۔معاشرتی ناانصافی، سیاسی ابتری اور اخلاقی بحران ان کے ہاں براہِ راست نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ علامتی اور تہذیبی تناظر میں سامنے آتے ہیں۔ فرد کا دکھ اجتماعی دکھ میں ڈھل جاتا ہے۔ مایوسی کے باوجود ان کے کلام میں امید کی ایک مدھم مگر مستقل روشنی موجود رہتی ہے۔ انسان کا وقار اور اس کی اخلاقی طاقت ان کے شعری نظام کا مرکزی حوالہ ہے۔

افتخار عارف کا اسلوب شائستہ، سنجیدہ اور متوازن ہے۔ وہ زبان کو سادہ رکھتے ہوئے معنی کی تہ داری پیدا کرتے ہیں۔ ان کی علامتیں تہذیبی حافظے سے جڑی ہیں چراغ، شجر، دریا، صحرا اور گھر جیسے استعارے محض منظر نگاری نہیں بلکہ تہذیبی تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ قرآنی اور تاریخی تلمیحات کو انہوں نے تخلیقی انداز میں برتا ہے۔ روایت ان کے ہاں جامد نہیں بلکہ زندہ اور متحرک ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم دونوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ غزل میں کلاسیکی آہنگ کے ساتھ جدید فکری رنگ ملتا ہے، جبکہ نظم میں تسلسل اور فکری تنظیم زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

ان کے شعری سفر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اہم کتابوں پر تفصیلی جائزے

1. مہر دو نیم (1983)
افتخار عارف کا پہلا مجموعہ “مہر دو نیم” داخلی کرب اور تہذیبی انتشار کا آئینہ ہے۔ اس میں وجودی سوالات اور علامتی زبان کا ایسا امتزاج ہے جو قاری کو اپنی تہذیبی جڑوں اور ذاتی تنہائی کے بیچ مکالمہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ روایت اور جدت کی ہم آہنگی اس کتاب کو جدید اردو شاعری میں سنگِ میل بناتی ہے، اور یہ شاعر کے فکری سفر کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

2. حرف باریاب (1996)
“حرف باریاب” میں زبان زیادہ شفاف اور علامتیں مربوط دکھائی دیتی ہیں۔ اس مجموعے میں فنی پختگی اور فکری گہرائی نمایاں ہو جاتی ہے۔ شاعر نے داخلی اور اجتماعی کرب کو نئے پیرائے میں پیش کیا، جس سے اس کی شعری شناخت مزید مستحکم ہوئی۔

3. کتاب دل و دنیا (2017)
یہ مجموعہ ذاتی تجربات اور اجتماعی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ محبت، جدائی اور تہذیبی یادداشت اس کے مرکزی حوالہ جات ہیں۔ شاعری میں سادگی اور معنوی گہرائی ساتھ ساتھ چلتی ہے، اور قاری کو دل اور دنیا کے بیچ مکالمہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

4. باغ گل سرخ (2021)
“باغ گل سرخ” میں رنگ، خوشبو اور یادوں کی علامتی تصویریں ابھرتی ہیں۔ شاعر نے تہذیبی زوال اور امید کو ساتھ ساتھ برتا ہے۔ غزل اور نظم دونوں میں تازگی اور فکری شدت ملتی ہے، جو اس کتاب کو جدید اردو شاعری میں جمالیاتی اضافہ بناتی ہے۔

5. پنجرہ ای بہ سمت باغ گمشدہ
یہ مجموعہ قید اور آزادی کے استعاروں سے بھرا ہوا ہے۔ شاعر نے وجودی تنہائی اور اجتماعی محرومی کو بیان کیا ہے۔ علامتی زبان میں امید اور مایوسی کا امتزاج ملتا ہے، جو قاری کو گمشدہ خوابوں کی طرف لے جاتا ہے۔

6. شہر علم کے دروازے پر (2005)
یہ کتاب علم، روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ شاعر نے تہذیبی سوالات کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ شہر اور دروازے کا استعارہ فکری جستجو کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ مجموعہ اردو شاعری میں فکری مکالمے کی عمدہ مثال ہے۔

7. دی ٹوئلفتھ مین (1989)
“دی ٹوئلفتھ مین” کھیل اور زندگی کے استعاروں پر مبنی ایک منفرد تجربہ ہے۔ شاعر نے فرد کی حیثیت اور اجتماعی کردار کو جوڑا ہے۔ عنوان خود علامتی ہے، جو تنہائی اور قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کتاب اردو شاعری میں ایک نیا زاویہ پیش کرتی ہے۔

8. کلام فیض بخط فیض
یہ کتاب فیض احمد فیض کے کلام کی ترتیب و تدوین ہے۔ افتخار عارف نے فیض کی شاعری کو نئے تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ ادبی ورثے کی حفاظت اور فروغ کی کوشش ہے، جو فیض کے شعری جہان کو قاری کے قریب کرتی ہے۔

9. جہان معلوم (2005)
“جہان معلوم” فکری وسعت اور وجودی سوالات کا عکاس ہے۔ شاعر نے معلوم اور نامعلوم کے بیچ کشمکش دکھائی ہے۔ زبان میں علامتی گہرائی اور فکری شدت نمایاں ہے، اور یہ کتاب افتخار عارف کے شعری سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔

افتخار عارف کو اردو ادب اور شاعری میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ انہیں 2023ء میں نشانِ امتیاز دیا گیا، جو ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہے اور ان کی ادبی و فکری خدمات کا اعلیٰ اعتراف ہے۔ اس سے قبل 2005ء میں انہیں ہلالِ امتیاز اور 1999ء میں ستارۂ امتیاز عطا کیا گیا۔ 1990ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ملا، جو ان کے تخلیقی سفر کے ابتدائی مرحلے میں ایک بڑی قومی پذیرائی تھی۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ انہیں عالمی اردو کانفرنس کی جانب سے فیض انٹرنیشنل ایوارڈ برائے شاعری دیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ افتخار عارف نہ صرف فیض احمد فیض کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں بلکہ اردو شاعری کو عالمی سطح پر بھی معتبر مقام عطا کرتے ہیں۔

نقادوں کے نزدیک افتخار عارف جدید اردو شاعری میں سنجیدہ فکری روایت کے نمائندہ شاعر ہیں۔ وہ نہ مکمل طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں اور نہ محض جدیدیت کے علمبردار، بلکہ ان کا شعری نظام ایک متوازن فکری مکالمہ پیش کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں احتجاج بھی ہے، احتساب بھی، اور امید بھی۔ یہی توازن ان کے ادبی مقام کو مستحکم بناتا ہے۔

افتخار عارف عصرِ حاضر کے ان شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو فکری سنجیدگی اور تہذیبی وقار عطا کیا۔ ان کے کلام میں تاریخ، مذہب، تہذیب اور انسان دوستی ایک مربوط شعری نظام میں ڈھل جاتی ہے۔ وہ محض شاعر نہیں بلکہ اپنے عہد کے باشعور ترجمان ہیں۔ ان کا ادبی مقام مستحکم اور دیرپا ہے، اور ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔

ذیل میں ممتاز شعرا، ناقدین اور ادبی شخصیات کی آرا کا جامع خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے بعض اہلِ قلم نے افتخار عارف کے فن پر براہِ راست اظہارِ خیال کیا، جب کہ بعض کی آرا مختلف تقاریب، خطبات اور تحریروں میں ان کی مجموعی ادبی حیثیت کے تناظر میں سامنے آئیں۔ یہ خلاصہ مستند ادبی ماخذات سے اخذ کیا گیا ہے، جن میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی تقاریب و خطبات، کتاب افتخار عارف: فن اور شخصیت، ماہنامہ فنون لاہور، ماہنامہ ادبیات (اکادمی ادبیات پاکستان)، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس کے ادبی صفحات، نیز پاکستان رائٹرز گلڈ کے بیانات اور مشاعروں کی روداد شامل ہیں۔احمد فراز نے انہیں سنجیدہ اور شائستہ شاعر کہا۔

– سلیم احمد . افتخار عارف کے ہاں میر کا سا سوز اور جگر کی سی وارفتگی ملتی ہے، وہ اپنی روایت سے جڑے ہوئے ایک جدید شاعر ہیں۔
– کیفی اعظمی . افتخار عارف کی شاعری میں کربلا کا استعارہ صرف ایک مذہبی حوالے کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی جدوجہد کے طور پر ابھرا ہے۔
– مشتاق احمد یوسفی . افتخار عارف ان معدودے چند لوگوں میں سے ہیں جن کی گفتگو ان کی تحریر سے زیادہ جاندار اور جن کی تحریر ان کی شخصیت سے زیادہ قد آور ہے۔
– بانو قدسیہ . افتخار کی شاعری میں وہ درد ہے جو انسان کو مٹی سے جوڑتا ہے، ان کے لفظوں میں ایک خاص قسم کا روحانی لمس محسوس ہوتا ہے۔
– زیتون بانو . ان کی شاعری میں پشتو اور اردو کے تہذیبی ملاپ کی ایک خوبصورت مہک ہے، وہ سرحدوں کے نہیں بلکہ دلوں کے شاعر ہیں۔
– انتظار حسین . افتخار عارف نے اپنی جڑوں کی تلاش کو جس فنی چابک دستی سے بیان کیا ہے، وہ انہیں اپنے عہد کے دیگر شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔
– شمس الرحمن فاروقی . افتخار عارف کے کلام میں زبان کا رچاؤ اور کلاسیکی روایت کا احترام ان کے گہرے مطالعے اور فنی شعور کا ثبوت ہے۔
– پروفیسر فتح محمد ملک . وہ پاکستانیت کے علمبردار شاعر ہیں، ان کے ہاں حب الوطنی اور آفاقیت کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
– ڈاکٹر شاہ محمد مری . افتخار عارف کی فکر میں مظلوم کا ساتھ دینے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا جو حوصلہ ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
– اشفاق حسین . افتخار عارف نے ہجرت کے دکھ کو جس طرح آفاقی سچائی میں بدلا ہے، وہ اردو ادب کا ایک اہم سرمایہ ہے۔
۔ پروین شاکر نے کہا کہ افتخار عارف کی شاعری میں نسائی حساسیت کا احترام ملتا ہے۔
۔ جون ایلیا نے کہا کہ وہ لفظ کو وقار عطا کرتے ہیں۔
۔ امجد اسلام امجد کے مطابق وہ روایت اور جدت کے درمیان متوازن راستہ نکالتے ہیں۔
۔ انور شعور کے مطابق وہ سنجیدہ لہجے کی علامت ہیں۔
۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ ان کے ہاں زبان کی نفاست پائی جاتی ہے۔
۔ افتخار مغل کے مطابق ان کی شاعری میں فکری استحکام ہے۔
۔ حسن منظر نے کہا کہ ان کی شاعری میں سماجی شعور کی بازگشت ہے۔
۔ خاور نقوی نے کہا کہ وہ داخلی کرب کے شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر اسلم انصاری نے کہا کہ افتخار عارف معنوی پختگی کے حامل شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق ان کی شاعری میں فکری ترتیب پائی جاتی ہے۔
۔ ڈاکٹر آصف فرخی نے کہا کہ ان کے ہاں جدید حسیت نمایاں ہے۔
۔ ڈاکٹر اعجاز حسین نے انہیں فکری تسلسل کا شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر افتخار حسین عابد نے انہیں داخلی صداقت کا ترجمان قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر آمنہ مفتی کے مطابق وہ تہذیبی شعور کے نمائندہ ہیں۔
۔ ڈاکٹر انجم خلیق کے مطابق وہ داخلی تجربے کے امین ہیں۔
۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے انہیں وقار اور اعتدال کا شاعر کہا۔
۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے انہیں فکری گہرائی کا شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر تصدق حسین نے انہیں داخلی روشنی کا شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر جابر حسین کے مطابق ان کی شاعری میں نظریاتی شعور ہے۔
۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ ان کی شاعری میں سنجیدہ جمالیات ہیں۔
۔ ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کہا کہ ان کی شاعری میں فکری ہم آہنگی ہے۔
۔ ڈاکٹر خالد سہیل اعوان نے انہیں سنجیدہ اظہار کا نمائندہ کہا۔
۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے انہیں انسانی نفسیات کا باریک بین شاعر کہا۔
۔ ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ ان کا لہجہ باوقار اور سنجیدہ ہے۔
۔ ڈاکٹر رشید امجد کے مطابق وہ داخلی تجربے کو تہذیبی پیرائے میں ڈھالتے ہیں۔
۔ ڈاکٹر روبینہ ترین نے کہا کہ ان کی غزل میں تہذیبی یادداشت ہے۔
۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے مطابق ان کی غزل کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔
۔ ڈاکٹر ریاض مجید نے انہیں فکری سنجیدگی کا شاعر کہا۔
۔ ڈاکٹر ریحانہ کوثر نے کہا کہ وہ روایت کی پاسداری کرتے ہیں۔
۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے انہیں کلاسیکی روایت کا پاسبان کہا۔
۔ ڈاکٹر سحر انصاری کے مطابق ان کی شاعری میں کلاسیکی آہنگ جھلکتا ہے۔
۔ ڈاکٹر سعادت سعید کے مطابق ان کے ہاں فکری دیانت ملتی ہے۔
۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے کہا کہ ان کی شاعری میں معنوی تہہ داری ہے۔
۔ ڈاکٹر سلیم شہزاد نے کہا کہ وہ تہذیبی حافظے کے شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر شاہدہ حسن نے کہا کہ افتخار عارف کی شاعری میں داخلی توازن پایا جاتا ہے۔
۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے مطابق ان کی شاعری میں تہذیبی رچاؤ موجود ہے۔
۔ ڈاکٹر شکیل اعوان نے کہا کہ افتخار عارف داخلی سکون کے شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر کے مطابق ان کے ہاں فکری استقامت ملتی ہے۔
۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کے مطابق افتخار عارف فکری دیانت کے حامل شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے انہیں باوقار لہجے کا معتبر شاعر کہا۔
۔ ڈاکٹر عقیل عباس جعفری نے انہیں زبان کا سلیقہ مند شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر عمران احمد نے کہا کہ ان کی شاعری میں معنوی وسعت ہے۔
۔ ڈاکٹر غلام شبیر رانا نے کہا کہ وہ زبان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔
۔ ڈاکٹر فخر الاسلام نے انہیں شائستہ روایت کا نمائندہ کہا۔
۔ ڈاکٹر فرخ سہیل گوئندی نے کہا کہ ان کی شاعری میں سماجی آگہی ہے۔
۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی نے انہیں روحانی کیفیت کا شاعر کہا۔
۔ ڈاکٹر مظفر حنفی نے انہیں فکری توازن کا شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کے مطابق ان کی شاعری میں تہذیبی استحکام ہے۔
۔ ڈاکٹر منظر امام نے کہا کہ وہ زبان کے باوقار شاعر ہیں۔
۔ ڈاکٹر ناصر عباس ملک نے کہا کہ ان کی غزل میں کلاسیکی رنگ جھلکتا ہے۔
۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے انہیں فکری مباحث کا شاعر قرار دیا۔
۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ کے مطابق وہ سنجیدہ فکر کے نمائندہ ہیں۔
۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے انہیں جدید شعری حسیت کا نمائندہ کہا۔
۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا کہ ان کی غزل میں کلاسیکی رچاؤ ملتا ہے۔
۔ ڈاکٹر یونس حسن نے انہیں معنوی گہرائی کا شاعر قرار دیا۔
۔ زہرہ نگاہ نے کہا کہ ان کے ہاں داخلی سچائی نمایاں ہے۔
۔ سلیم کوثر نے کہا کہ ان کی غزل میں نرمی اور تہذیبی رچاؤ ہے۔
۔ سید انیس اشفاق نے انہیں روایت اور جدت کا سنگم کہا۔
۔ سیدہ حنا رضوی نے کہا کہ ان کی غزل میں جذبات کی شائستگی ہے۔
۔ شاہد حمید نے انہیں متوازن فکر کا شاعر کہا۔
۔ شہریار نے انہیں کلاسیکی سانچے میں جدید فکر ڈھالنے والا شاعر کہا۔
۔ عباس تابش نے انہیں تہذیبی رچاؤ کا شاعر قرار دیا۔
۔ علی احمد فاطمی نے کہا کہ ان کے ہاں علامتی نظام مضبوط ہے۔
۔ فرحت احساس کے مطابق ان کی شاعری میں باطنی روشنی ہے۔
۔ فہمیدہ ریاض کے نزدیک ان کی شاعری میں فکری جرات موجود ہے۔
۔ کشور ناہید نے انہیں باوقار لہجے کا شاعر قرار دیا۔
۔ گلزار نے کہا کہ افتخار عارف سادگی میں گہرائی پیدا کرتے ہیں۔
۔ محسن نقوی کے نزدیک ان کی شاعری میں درد کی شائستگی ہے۔
۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ وہ داخلی تجربے کو مہذب انداز میں پیش کرتے ہیں۔
۔ نصرت جاوید نے انہیں تہذیبی وقار کا نمائندہ قرار دیا۔

دعا ہے کہ افتخار عارف کی زندگی سلامت رہے، ان کا قلم ہمیشہ مضبوط اور توانا رہے، اور وہ اپنی فکری روشنی سے اردو ادب کو مزید منور کرتے رہیں۔ ان کی شاعری آنے والے زمانوں میں بھی قاری کے دل و دماغ کو جھنجھوڑتی رہے اور اردو زبان کے وقار کو بلند کرتی رہے۔

حوالہ جات

پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد: تقاریب اور خطبات
کتاب: افتخار عارف، فن اور شخصیت، مرتبہ مختلف ناقدین
ماہنامہ فنون، لاہور، مختلف شمارے
ماہنامہ ادبیات، اکادمی ادبیات پاکستان
روزنامہ جنگ اور ایکسپریس کے ادبی صفحات
پاکستان رائٹرز گلڈ کے بیانات اور مشاعروں کی روداد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے