سیمی پلاٹنسک میں زمانۂ طالبِ علمی بھی کیا زمانہ تھا۔ برفیلی ہواؤں میں ایک الگ ہی رومانویت گھلی ہوئی تھی۔ ہم جیسے سادہ لوح پاکستانی طالب علم جب پہلی بار وہاں پہنچے تو کتابوں سے زیادہ ہمیں کیمپس کی کلچرل اسٹڈیز نے متاثر کیا، اور ان کلچرل اسٹڈیز میں سرفہرست تھیں روسی لڑکیاں—ایک الگ ہی آن، بان، شان، رکھ رکھاؤ اور نخرہ۔
ایک دن میں نے دل ہی دل میں ٹھان لی کہ شادی کرنی ہے تو یہیں کرنی ہے۔ وطن واپسی کا ٹکٹ بعد میں دیکھیں گے، پہلے دل کی امیگریشن مکمل کریں۔
دوستوں کی محفل میں میں نے نہایت سنجیدہ انداز میں یہ اعلان کیا تو دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر مجھے دیکھا۔ ڈاکٹر افنان، جو ہم سے سینئر تھے، نہایت سنجیدگی سے بولے:
"دھیان کر میرے دوست، یہ روسی لڑکیاں بلیاں ہوتی ہیں۔”
کامران قدیر بولا:
"ہاں، بلیاں! بہت پیاری، بہت معصوم… مگر بلیاں!”
یہ فلسفہ میری سمجھ سے باہر تھا۔ حیرانی سے پوچھا:
"یہ کیسی اصطلاح ہے؟ ایک اچھی بھلی لڑکی کو بلی کیوں کہتے ہو؟”
جوابی مشورے یہاں بیان کرنے کے قابل ہی نہیں۔ میں کوڑھ مغز اُس اصطلاح میں ہی اٹک گیا کہ آخر بلی کیوں؟
ماشا سے میری دوستی بڑی تاریخی نوعیت کی تھی۔ وہ بظاہر معصوم، مگر اندر سے شیطان کی نانی! مگر ماننا پڑے گا کہ اس کی حسِ مزاح اور بات کو کھول کر بیان کرنے کی صلاحیت ایسی تھی کہ بندے کے دماغ کے بند دریچے بھی کھل جائیں۔
ایک شام ہم دریائے ارتش کے کنارے واک کر رہے تھے۔ موقع دیکھ کر پوچھ لیا:
"ماشا، یہ جو تم لوگ لڑکیوں کو بلی کہتے ہو… آخر اس میں فلسفہ کیا ہے؟”
وہ چلتے چلتے رکی، مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر ہلکا سا مسکرائی۔ اس مسکراہٹ کا مطلب ہوتا تھا کہ اب تمہاری کلاس لگنے والی ہے۔ کہنے لگی:
"اگر شادی کرنا چاہتے ہو تو میرا مشورہ ہے کہ شادی سے پہلے کم از کم ایک مہینہ بلی پالو۔”
میں چونکا:
"یہ کیسی پری میرج ٹریننگ ہے؟”
وہ ہنسی:
"سنو! اگر تم ایک مہینہ بلی پال لو اور پھر بھی ذہنی طور پر متوازن رہو، تو سمجھو کہ تم شادی کے لیے تیار ہو۔”
میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا:
"دلائل دو، محترمہ!”
وہ انگلیاں گن گن کر بولنے لگی:
"پہلی بات—جگہ جگہ گرے ہوئے بالوں کی عادت ہو جاتی ہے۔ صوفہ، قالین، کوٹ، حتیٰ کہ تمہاری کتابوں میں بھی! اگر سکون سے جھاڑتے رہو اور فلسفہ نہ بگھارو تو سمجھو کہ پاس ہو گئے۔”
بات کسی حد تک سمجھ آ رہی تھی۔ میں نے سر ہلایا تو ماشا نے بیان جاری رکھا:
"دوسری بات—دن ہو یا رات، کسی بھی پہر ناقابلِ فہم آوازیں۔ بلی کبھی اچانک رونا شروع کر دیتی ہے۔ اگر تم نیند سے اٹھ کر یہ سوچنے کے بجائے کہ یہ کیا قیامت ہے، یہ سوچو کہ اسے کیا چاہیے؟ تو اگلے درجے پر پہنچ گئے۔”
میرے نہ سمجھنے پر اس نے وضاحت کی:
"اسے خیال رکھنا کہتے ہیں۔”
میں نے معصومیت سے پوچھا:
"اور بلاوجہ غراہٹ؟”
وہ فوراً بولی:
"وہ بھی ٹیسٹ ہے! اگر بلی بلاوجہ غرائے اور تم دفاعی تقریر شروع نہ کرو بلکہ خاموشی سے سمجھنے کی کوشش کرو تو برداشت پیدا ہو رہی ہے۔”
پھر اس نے آنکھیں سکیڑ کر کہا:
"اور سب سے اہم بات—جب بلی خاموشی سے تمہیں گھورتی رہے!”
میں نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ وہ ہنس کر بولی:
"اگر تم اس گھورنے کا مطلب سمجھ جاؤ کہ اب وہ بھوکی ہے، پیاسی ہے، ناراض ہے یا صرف توجہ چاہتی ہے، تو تم آنکھوں کی زبان سیکھ چکے ہو۔ شادی میں الفاظ کم اور آنکھیں زیادہ بولتی ہیں۔”
میں واقعی متاثر ہو چکا تھا۔ وہ مزید بولی:
"اگر تم بلی کو دلجمعی سے پالو، اس کی خراشیں برداشت کرو، اس کی آزادی کا احترام کرو، اور پھر بھی اسے پیار دو، تو اس کا مطلب ہے کہ تم جان گئے ہو کہ رشتہ حکم سے نہیں، سمجھ سے چلتا ہے۔”
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
"تو مطلب بلی اصل میں استاد ہے؟”
وہ قہقہہ لگا کر بولی:
"بالکل! بلی انسان کو صبر، برداشت، خاموشی کی زبان اور غیر مشروط محبت سکھاتی ہے۔ اگر بلی کی خراشیں برداشت کر لو، اس کے موڈ سوئنگز سمجھ لو اور پھر بھی اسے پیار کرو، تو مطلب تمہارے اندر وہ صلاحیت موجود ہے جو شادی کے نظام کے لیے ضروری ہے۔”
حسبِ وعدہ میں ماشا کو آئسکریم کھلانے لینن پارک لے گیا۔ سوشلسٹ درختوں کے نیچے آئسکریم تھامے ہم دونوں زندگی کے نجی فلسفے ترتیب دے رہے تھے۔
میں نے فخر سے کہا:
"ماشا! آج تم دو آئسکریم کھا سکتی ہو۔”
وہ ہنسی:
"وہ تو میں تم سے کسی بھی وقت، بغیر کسی تقریب کے، کھا سکتی ہوں۔”
شام ڈھلنے لگی تو وہ اچانک سنجیدہ ہو گئی۔ شرارتی آنکھیں، مگر لہجہ نصیحت آمیز۔ کہنے لگی:
"دیکھو ایش، ہر رشتہ—چاہے والدین کا ہو، میاں بیوی کا، بہن بھائی کا یا دوستی کا—اس میں باہم احترام اور برداشت سب سے اہم ہیں۔”
میں نے مذاق میں کہا:
"اور آئسکریم؟”
وہ مسکرائی:
"وہ بونس ہے، اصل بنیاد احترام ہے۔”
پھر بولی:
"اگر احترام اور برداشت نہ ہو تو رشتے ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ اگر انسان ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھ لے تو رشتے دیرپا ہو جاتے ہیں۔”
میں نے کہا:
"تم تو شیطان کی نانی ہو… یہ دانائی کہاں سے آ گئی؟”
ماشا کھلکھلائی:
"شیطان کی نانی ہونا اور سیانی ہونا ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہوتے!”
واپسی پر میں سوچ رہا تھا کہ شاید رشتوں کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ کوئی ہمیں ہنسائے بھی، چھیڑے بھی، مگر وقت آنے پر سچ بھی آئینے کی طرح سامنے رکھ دے۔
لینن پارک کی وہ شام آج تک یاد ہے۔ آئسکریم تو کب کی ہضم ہو چکی، مگر ماشا کی باتیں اب تک دل میں ٹھنڈی مٹھاس کی طرح محفوظ ہیں۔
میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ شادی سے پہلے بلی پالوں یا نہ پالوں، مگر ماشا کی یہ نصیحت ضرور یاد رکھوں گا کہ رشتہ تب چلتا ہے جب آپ سامنے والے کو پالتو بنانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں۔
مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ بعض اوقات اصطلاحیں نہیں، ہماری سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔