پاکستان میں مہنگائی کا طوفان اس قدر شدت اختیار کر چکا ہے کہ اب یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ہر گھر کی کہانی بن چکا ہے۔ خصوصاً جب عید الفطر جیسے خوشیوں بھرے دن قریب آتے ہیں تو یہی مہنگائی ایک کربناک حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ عید جو کبھی خوشیوں، مسکراہٹوں اور اپنائیت کا پیغام لے کر آتی تھی، آج بہت سے گھروں میں ادھوری خواہشات اور بجھی ہوئی امیدوں کی علامت بنتی جا رہی ہے۔
عید الفطر کا تصور آتے ہی ذہن میں نئے کپڑے، میٹھی سوغاتیں، بچوں کی ہنسی اور گھروں میں رونقوں کا خیال آتا ہے۔ مگر آج کا عام پاکستانی جب بازار کا رخ کرتا ہے تو قیمتوں کا طوفان اس کے حوصلے پست کر دیتا ہے۔
کپڑوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جوتے، چوڑیاں، کھلونے، حتیٰ کہ مٹھائی تک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کی خواہشات بھری نگاہوں کو دیکھتا ہے اور اپنی خالی جیب پر نظر ڈالتا ہے تو اس کا دل کس قدر ٹوٹتا ہوگا، اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے۔
مہنگائی نے سب سے زیادہ متاثر متوسط اور غریب طبقے کو کیا ہے۔ ایک مزدور جو پورا مہینہ محنت کرتا ہے، عید کے قریب آ کر بھی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ بھی کسی بہتر حالت میں نہیں۔ مہینے کے آخر تک جیب خالی ہو چکی ہوتی ہے اور عید کے اخراجات ایک اضافی بوجھ بن کر سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں عید کی خوشیاں کہاں باقی رہتی ہیں؟ خوشی کا تہوار فکر اور پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔
بازاروں کی چکاچوند روشنیوں کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ دکانیں سجی ہوتی ہیں، ہر طرف خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے، مگر اس ہجوم میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو صرف دیکھنے آتے ہیں، خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بچے شیشوں کے پار کھلونوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مائیں کپڑوں کو چھو کر واپس رکھ دیتی ہیں، اور باپ خاموشی سے سب کچھ دیکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ مناظر ہمارے معاشرے کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔
مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں جن میں عالمی معاشی حالات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور مقامی سطح پر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری شامل ہیں۔ لیکن ان تمام وجوہات کا بوجھ آخرکار عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے، اور عید جیسے مواقع بھی اس سے محفوظ نہیں رہتے۔
عید الفطر دراصل خوشی، شکر اور ہمدردی کا پیغام دیتی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے مہنگائی نے اس جذبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ لوگ خود مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے دوسروں کی مدد کرنے کی استطاعت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم تھوڑی سی بھی کوشش کریں تو کسی کی عید کو خوشیوں میں بدل سکتے ہیں۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ عید کی حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فطرانہ اسی لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں موجود نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور دل کھول کر ضرورت مندوں کی مدد کریں تو یقیناً بہت سے گھروں میں خوشیوں کے چراغ روشن ہو سکتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنا، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان عوام کی زندگیوں کو مزید مشکلات سے دوچار کر دے گا۔ عید جیسے مواقع پر خصوصی ریلیف فراہم کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ عام آدمی سکھ کا سانس لے سکے۔
معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی ضروریات کو محدود کرنا ہوگا اور فضول خرچی سے بچنا ہوگا۔ عید کی اصل خوشی سادگی اور اپنائیت میں ہے، نہ کہ صرف مہنگے کپڑوں اور قیمتی اشیاء میں۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو شاید مہنگائی کے باوجود بھی عید کی خوشیوں کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مشکلات ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ ہر اندھیری رات کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔ اگر ہم صبر، شکر اور باہمی تعاون کا دامن تھامے رکھیں تو یقیناً یہ مشکل وقت بھی گزر جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور اپنے معاشرے کو مضبوط کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مہنگائی نے جہاں زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، وہیں عید کی خوشیوں کو بھی ماند کر دیا ہے۔
لیکن اگر ہم اپنے اندر ہمدردی، ایثار اور بھائی چارے کے جذبات کو زندہ رکھیں تو ہم اس مشکل صورتحال میں بھی خوشیوں کے چراغ جلا سکتے ہیں۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر اور خوشحال معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔