پاکستان: گردِ ملال سے اٹھتا ہوا ایک ناگزیر ملک

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ لکھ رہی ہوتی ہے، مگر اہلِ وطن اپنے روزمرہ کے شور، سیاسی ہنگاموں اور داخلی الجھنوں میں اس فیصلہ کن منظر کو پوری طرح دیکھ نہیں پاتے۔ پاکستان اس وقت شاید ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک ایسا موڑ جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں، خطے کی ریاستیں، مشرق و مغرب کے ایوان، اور عالمی سفارتکاری کے بند دروازے اس حقیقت کو آہستہ آہستہ تسلیم کر رہے ہیں کہ اس خطے کے بڑے فیصلوں میں پاکستان کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

یہ کیسا عجیب منظر ہے کہ ایک طرف معاشی دباؤ ہے، سیاسی کشمکش ہے، داخلی بے یقینی ہے، عوامی اضطراب ہے، اور دوسری طرف یہی ملک عالمی بساط پر اپنی ایسی جگہ بنا رہا ہے جو محض حجم، دولت یا نعروں سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ مقام انہیں ملتا ہے جو بحرانوں کی آگ سے گزر کر فولاد بنتے ہیں، جو ٹوٹنے کے امکانات کے باوجود جڑے رہتے ہیں، اور جو شور سے نہیں بلکہ برداشت، حکمت اور مسلسل بقا سے اپنا قد بلند کرتے ہیں۔ پاکستان آج اسی کیفیت کا نام ہے۔

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں دنیا کا نقشہ صرف جغرافیے سے نہیں، ترجیحات سے بدل رہا ہے۔ اتحاد بدل رہے ہیں، مفادات نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں، طاقت کے مراکز سرک رہے ہیں، اور سفارتکاری اب محض رسمی بیانات کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ بقا، اثرورسوخ اور ناگزیریت کی جنگ بن چکی ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے، تمام تر مشکلات کے باوجود، اپنے لیے ایک ایسی جگہ پیدا کی ہے جسے اب محض جنوبی ایشیا کے ایک ریاستی کردار کے طور پر بیان کرنا ناانصافی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب ایک ضرورت بنتا جا رہا ہے؛ ایک ایسا ملک جس کی شرکت کے بغیر اس خطے میں امن کی کوئی سنجیدہ کوشش، تنازعات کے کسی دیرپا حل، یا بڑی حکمت عملی کی کوئی مضبوط عمارت مکمل نہیں ہو سکتی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس ملک کی طرف دنیا نئی نظر سے دیکھنے لگی ہے، اس کے اپنے لوگ ابھی تک اسے پرانی عینک سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنے بارے میں شکوہ بہت جمع کر لیا ہے، مگر شعور کم جمع کیا ہے۔ ہم نے اپنی کمزوریوں کا نوحہ خوب پڑھا ہے، مگر اپنی بقا کے معجزے کو کم سمجھا ہے۔ ہم نے اپنے زخم گنے ہیں، مگر ان زخموں کے باوجود زندہ رہنے والی قوت کو کم سراہا ہے۔ شاید اسی لیے اس ملک کی اصل اہمیت اگر کسی پر سب سے کم آشکار ہے تو وہ خود پاکستانی ہیں۔

یہ بات معمولی نہیں کہ جنوبی ایشیا اور اس کے اطراف گزشتہ چند برسوں میں شدید عدم استحکام کی زد میں رہے۔ ریاستی بحران، معاشی انہدام، سیاسی بھونچال، سماجی بے چینی اور حکومتی کمزوریوں نے کئی ملکوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ سری لنکا اقتصادی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن گیا، افغانستان سیاسی انہدام اور غیر یقینی کے ایک نئے باب میں داخل ہوا، بنگلہ دیش بھی اپنے داخلی تناؤ اور ہلچل سے محفوظ نہ رہ سکا۔ یہ پورا خطہ بے چینی، بحران اور غیر یقینی کے سائے میں کھڑا رہا۔ مگر انہی طوفانوں کے درمیان پاکستان، زخموں سے چور ہونے کے باوجود، اپنی جگہ قائم رہا۔ ڈگمگایا، مگر گرا نہیں۔ لڑکھڑایا، مگر بکھرا نہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ریاست کی اصل قامت سامنے آتی ہے۔
دنیا میں بعض اوقات زندہ رہ جانا ہی سب سے بڑی فتح ہوتا ہے۔ خاص طور پر ان خطوں میں جہاں ریاستیں اندر سے ٹوٹتی ہیں، باہر سے دبتی ہیں، اور پھر تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں۔ پاکستان اس انجام سے بچا نہیں، بلکہ اس نے اس خطرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر اپنی ریاستی ساخت، اپنے ادارہ جاتی تسلسل، اپنے جغرافیائی وزن اور اپنی سفارتی مہارت کے بل پر خود کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اپنے لیے نئی جگہ بھی پیدا کی۔ یہ کوئی معمولی داستان نہیں۔ یہ بقا کی وہ سیاست ہے جو کتابوں میں کم اور قوموں کے لہو میں زیادہ لکھی جاتی ہے۔
اگر یہی کردار کسی مغربی ملک نے ادا کیا ہوتا، اگر کوئی یورپی ریاست ایسے بحرانوں کے ہجوم میں اپنے توازن، اپنے اثر اور اپنی ناگزیر حیثیت کو منوا لیتی، تو اب تک یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے سیاسیات میں اس پر مقالے لکھے جا رہے ہوتے۔ پیس اینڈ کانفلیکٹ اسٹڈیز اسے بطور ماڈل پڑھا رہی ہوتیں، اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اسے ریاستی لچک، سفارتی ذہانت اور بحرانوں میں توازن کی عظیم مثال قرار دے رہے ہوتے۔ مگر چونکہ یہ پاکستان ہے، اس لیے دنیا ابھی اسے حیرت سے دیکھ رہی ہے اور ہم خود اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہیں کہ اس نے اپنے تمام مسائل حل کر لیے ہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مسائل اب بھی گہرے ہیں، پیچیدہ ہیں اور بعض حوالوں سے خطرناک بھی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اتنی ساری کمزوریوں کے باوجود پاکستان کو عالمی حساب کتاب سے خارج نہیں کیا جا سکا۔ اسے بائی پاس نہیں کیا جا سکا۔ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکا۔ اس کی سرزمین، اس کی پوزیشن، اس کے تعلقات، اس کی صلاحیت اور اس کی ریاستی مزاحمت نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ یہاں سے گزرے بغیر اس خطے کی بڑی کہانی مکمل نہیں ہوتی۔
ہمیں ماننا ہوگا کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں، یہ مفادات کے سنگم پر کھڑی ایک حقیقت ہے۔ یہ مشرق و مغرب کے بیچ ایک ایسا پُل ہے جو اگر کمزور بھی ہو تو توڑا نہیں جا سکتا، کیونکہ اس کے بغیر راستے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس نے بارہا ثابت کیا کہ حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں، اس کی ریاستی سانس مکمل طور پر بند نہیں کی جا سکتی۔ اس کے خلاف سازشیں ہوئیں، اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی گئیں، اسے غیر مستحکم دیکھنے کے خواب دیکھے گئے، مگر پاکستان پھر بھی قائم رہا۔ کچھ ملک اپنی آسائش سے پہچانے جاتے ہیں، پاکستان اپنی برداشت سے پہچانا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ایک تلخ سوال بھی سر اٹھاتا ہے: کیا ہم خود اپنے ملک کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ جس ریاست کو دنیا ناگزیر سمجھنے لگی ہے، ہم خود اسے کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا ہم محض تنقید، مایوسی اور باہمی نفرت کے گرداب میں اتنے دور نکل گئے ہیں کہ اپنے وجود کی اصل طاقت کو دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں؟ تنقید یقیناً لازم ہے، احتساب بھی ناگزیر ہے، مگر اپنے ہی وطن کی ہر کامیابی کو شک کی نذر کر دینا، ہر طاقت کو کمزوری سمجھ لینا، اور ہر مثبت امکان کا تمسخر اڑا دینا کسی زندہ قوم کی علامت نہیں۔

یہ ناشکری صرف مذہبی یا اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ سیاسی اور قومی کم فہمی بھی ہے۔ جو قومیں اپنی طاقت کو پہچانتی نہیں، وہ دوسروں کے بیانیے میں خود کو ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ پھر ان کے فیصلے بھی باہر لکھے جاتے ہیں اور ان کے خواب بھی دوسروں کی میزوں پر طے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ اس کے دشمن بعض اوقات اس کی اہمیت کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ملک اگر اپنے داخلی انتشار سے اوپر اٹھ گیا تو محض جنوبی ایشیا ہی نہیں، وسیع تر عالمی منظرنامے میں بھی ایک ایسا کردار ادا کر سکتا ہے جسے روکنا آسان نہیں ہوگا۔

یومِ پاکستان صرف ایک قومی تعطیل نہیں، نہ ہی یہ صرف جھنڈے لہرانے، نعرے لگانے اور رسمی مبارک باد کا موقع ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے وجود کی قیمت یاد دلاتا ہے۔ یہ دن بتاتا ہے کہ قومیں کاغذ پر نہیں، قربانیوں، فیصلوں، استقامت اور تاریخی شعور سے بنتی ہیں۔ پاکستان بھی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں تھا، اور نہ ہی اس کی بقا محض اتفاق ہے۔ یہ ایک نظریے، ایک جدوجہد، ایک اجتماعی خواب اور ایک مسلسل آزمائش کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا تازہ باب ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ کمزور دکھائی دینے والی ریاستیں بھی اگر اپنے اندر ارادہ، حکمت اور برداشت رکھتی ہوں تو عالمی منظرنامے میں اپنی جگہ خود بنا لیتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پاکستان کو محض شکایت کی نظر سے نہ دیکھیں، بلکہ اسے امکان کی نظر سے بھی دیکھیں۔ ہم اس کے مسائل کو ضرور سمجھیں، مگر اس کی قوت کو بھی تسلیم کریں۔ ہم اس کے زخموں پر بات کریں، مگر اس کے زندہ رہنے کے معجزے کو بھی مانیں۔ ہم اختلاف کریں، مگر اس حد تک نہیں کہ اپنی ہی ریاست کی بنیادوں کو شک کی دیواروں میں چن دیں۔

پاکستان اس وقت سفارتکاری کے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں، بلکہ معاملات کی سمت پر اثر انداز ہونے والی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، منزل ابھی دور ہے، چیلنجز بھی بڑے ہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ دنیا کے ایوانوں میں پاکستان کی موجودگی اب رسمی نہیں رہی۔ اب یہ ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

اور یہی احساس، شاید، یومِ پاکستان کا اصل پیغام ہے۔
کہ یہ ملک صرف باقی نہیں ہے —
یہ ابھر رہا ہے۔
یہ صرف زندہ نہیں —
یہ ثابت کر رہا ہے۔
یہ صرف خطے کا حصہ نہیں —
یہ خطے کی ناگزیر آواز بن رہا ہے۔
یومِ پاکستان مبارک۔
یہ مبارک باد صرف جذبے کی نہیں، شعور کی بھی ہونی چاہیے۔
کیونکہ جو قوم اپنے وجود کی قدر پہچان لے، دنیا بھی آخرکار اسی کی قدر کرنے لگتی ہے۔
پاکستان اب سوال نہیں رہا، جواب بنتا جا رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے