23 مارچ : یومِ پاکستان

تاریخ کے اوراق میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض ہندسوں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ قوموں کی روح میں اتر کر ان کی تقدیر کا عنوان بن جاتے ہیں۔ 23 مارچ بھی ایسا ہی ایک دن ہےایک ایسا دن جس کی بازگشت وقت کے دریچوں سے گزر کر آج بھی ہمارے دلوں میں امید، حوصلہ اور عزم کی شمع روشن کرتی ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غلامی کی سیاہ رات میں امید کا پہلا چراغ روشن ہوا، جب ایک محکوم قوم نے اپنی پہچان کو لفظوں میں ڈھالا اور اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دن قراردادِ لاہور پیش ہوئی، جو دراصل ایک خواب کی تحریری صورت تھی ایک ایسا خواب جسے دیکھنے کی جرات بھی ہر کسی میں نہیں ہوتی۔

لاہور کی فضاؤں میں اس دن ایک عجیب سی سرگوشی تھی، جیسے ہوائیں بھی کسی بڑی تبدیلی کی نوید سنا رہی ہوں۔ منٹو پارک لاہور کا میدان انسانوں کے ایک بے کراں سمندر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ہر چہرہ امید کا استعارہ تھا، ہر آنکھ میں ایک نئے سویرا کا خواب تھا۔ اس مجمع میں جب قائداعظم محمد علی جناح مائیک کے سامنے آئے تو گویا تاریخ خود ان کے لبوں پر آ بیٹھی۔ ان کے الفاظ میں وہ جادو تھا جو مردہ دلوں میں بھی زندگی کی رمق پیدا کر دے۔ انہوں نے نہایت وقار، استدلال اور عزم کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، اور انہیں ایک ایسی سرزمین چاہیے جہاں وہ اپنی تہذیب، اپنے عقیدے اور اپنی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

یہ اعلان بظاہر چند جملوں پر مشتمل تھا، مگر اس کے پسِ پردہ صدیوں کی محرومی، بے بسی اور جدوجہد کی داستان چھپی ہوئی تھی۔ یہ صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی بقا کی جنگ تھی۔ علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر تھی، جنہوں نے اپنے اشعار میں ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا۔ ان کے افکار میں جو روشنی تھی، وہی روشنی اس قرارداد کی صورت میں حقیقت کا روپ دھار رہی تھی۔

23 مارچ کا دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومیں محض زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں بلکہ نظریات، قربانیوں اور اجتماعی شعور سے وجود میں آتی ہیں۔ جب ایک قوم اپنے مقصد کے لیے یکجا ہو جائے تو پھر ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، انہیں ایک آواز دی، اور انہیں ایک منزل کی طرف گامزن کیا۔

لیکن اس منزل تک پہنچنے کا سفر کانٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب 1947 میں آزادی کی صبح طلوع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی درد، جدائی اور قربانیوں کی ایک طویل داستان بھی جڑی ہوئی تھی۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے، اپنے پیاروں سے بچھڑے، اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہر دکھ سہہ لیا۔ یہ وہ داستان ہے جسے لفظوں میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس میں آنسو بھی ہیں، خون بھی ہے، اور امید کی ایک چمکتی ہوئی کرن بھی۔

آج جب ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں تو ہمیں صرف ماضی کی عظمت پر فخر کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے حال کا بھی بے لاگ جائزہ لینا چاہیے۔

کیا ہم نے اس خواب کی صحیح تعبیر پیش کی؟ کیا ہم نے اس امانت کی حفاظت کی جو ہمیں ہمارے بزرگوں نے سونپی تھی؟

بدقسمتی سے ہمارا آج کئی چیلنجز کی گرفت میں ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لی ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کے خوابوں کو دھندلا دیا ہے، اور بدعنوانی نے نظام کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ معاشرتی ناانصافی، اخلاقی زوال اور انتشار نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا پڑتا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔

مگر تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ مشکلات کبھی دائمی نہیں ہوتیں۔ قومیں جب جاگتی ہیں تو حالات بدل جاتے ہیں۔ 23 مارچ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور امید ایمان کا حصہ۔ اگر ایک غلام قوم اپنے لیے آزاد وطن حاصل کر سکتی ہے تو ایک آزاد قوم اپنے مسائل پر قابو بھی پا سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور ان کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہم خود دیانت دار بن جائیں، اگر ہم سچائی کو اپنا شعار بنا لیں، اگر ہم اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کریں تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔

ہماری نوجوان نسل اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو اگر صحیح سمت میں استعمال ہو تو پاکستان کو ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا نوجوان کئی الجھنوں کا شکار ہے۔ اسے صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے، اسے ایک مقصد کی ضرورت ہے، اسے یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس ملک کا مستقبل ہے اور اس کی تقدیر اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

تعلیم اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا، اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اور اس میں اخلاقی تربیت کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

یومِ پاکستان ہمیں اتحاد کا درس بھی دیتا ہے۔ آج ہم لسانی، مسلکی اور گروہی اختلافات میں بٹے ہوئے ہیں، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں ایک قوم بنا کر چھوڑا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اختلاف رائے تو ہو سکتا ہے، مگر اختلافِ دل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے مشترکہ مفادات کو ترجیح دینی ہوگی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

معاشی خودمختاری بھی ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہوگا، اور خود انحصاری کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ جب تک ہم دوسروں پر انحصار کرتے رہیں گے، ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتے۔

23 مارچ کا دن ہمیں اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواب دیکھنا ضروری ہے، مگر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محنت، قربانی اور استقامت بھی ضروری ہے۔

آج کے دن ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھنا ہوگا۔ ہمیں یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جہاں انصاف کا بول بالا ہو، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں تعلیم عام ہو، اور جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔

یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اگر ہمارے بزرگ مشکلات کے پہاڑ عبور کر کے ہمیں یہ ملک دے سکتے ہیں تو ہم بھی اپنے حصے کی جدوجہد کر سکتے ہیں۔ ہمیں بس اپنے مقصد کو واضح رکھنا ہوگا اور اپنی کوششوں میں اخلاص پیدا کرنا ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یومِ پاکستان صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے—ایک ایسا پیغام جو ہمیں جھنجھوڑتا ہے، ہمیں بیدار کرتا ہے، اور ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا تو ہم نہ صرف اپنے حال کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کو بھی روشن کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے، اور ہمیں اس کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے