رمضان کا مہینہ ختم ہوا اور یہ مہینہ ایسے گزرا کہ پتہ ہی نہیں چلا

ہم جو رمضان کی راتوں میں جاگتے تھے اب نیند آنکھوں پہ طاری رہتی ہے
زندگی کا پہیہ ایسا گھوما ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ وقت کیسے گرمیوں سے ہوتے ہوتے سردیوں میں داخل ہو گیا ۔
تیسرے عشرے کے آخر میں ایسے لگتا کہ ہر رات شب قدر ہے
عبادتیں تو بس ٹوٹی پھوٹی سی تھی نہ جانے ہم کب اپنے رب کی مانے گے ہم اپنی موج اور مستیوں میں ایسے گم ہے کہ جیسے موت تو اس دوسرے کو آنی ہے .

اور کھبی کبھار اپنے آپ سے یہ سوال کہ ہمارے دل ایسے کیوں ہوگئے ہم تو بچپن میں روٹی کا ٹکڑا اٹھا کر اس کو بوسہ دے کر رکھتے تھے کہ اللہ ناراض نہ ہو جائے ،اذان ہوتے ہی سر پہ دوپٹہ ٹھیک کرنا،بات نہ کرنا اور ٹی وی کھلا ہوتا تو ہم جلدی سے بند کر دیتے اب یہ دل سُن سا کیوں ہوگیا ہے وہ ڈر کدھر چلا گیا ہے ؟
احساس اس طرح کیوں نہیں ہوتا ہم تو بڑے دل والے ہوتے تھے اب اتنے بیزار کیوں ہو گئے ہیں؟
شاید ہم بڑے ہوگئے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد یہ ایک مرحلہ بھی ہوتا ہوں جس میں آپ کچھ نہ محسوس کرنے والی حالت میں ہوں اور آپ چاہتے ہوں کہ محسوس ہوں، یا پھر ہماری انرجی کہیں سوگئی ہے اور اسے جگانے کے لیے ملکوں ملکوں سفر کر کے ،راستے میں شیر،لومڑی،سانپ ،گھوڑا ہرن کو بتا کے پھر غار میں جانا ہوگا اور جب جائے گے تو اس کو جھنجھوڑ کے اٹھانا ہوگا جب مشکل سے اٹھ جائے گی پھر وہ ہمیں نہ سونے کا بھر پور یقین دلائے گی اور ہم تب وہاں سے نکلے گے۔۔۔

اور غار سے نکلنے کے بعد والی کیفیت ہمیں پہلے سے بھی بہتر بنا دے گی۔۔
اللہ ہمارے دلوں کو احساس والا بنائے۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے