ایران اسرائیل جنگ کے بعد بدلتی دنیا: کیا امریکہ کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے؟

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی نے دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کے ٹوٹنے کی علامت ہے جس پر گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کی بالادستی قائم تھی۔ آج یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی دنیا یکسر تبدیل ہونے جا رہی ہے؟ اور اگر ہاں، تو اس نئے عالمی منظرنامے کی شکل کیا ہوگی؟

امریکہ طویل عرصے تک دنیا کی واحد سپر پاور رہا، لیکن حالیہ واقعات نے اس کی طاقت اور اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مسلسل تنازعات، یوکرین جنگ، اور اب ایران اسرائیل کشیدگی نے امریکہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ ہر محاذ پر بیک وقت مؤثر کردار ادا کرنے میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال نے دیگر عالمی طاقتوں، خصوصاً چین اور روس کو مزید فعال ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ایران نے اس جنگ میں جس جرات اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل، جو ہمیشہ ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب دفاعی دباؤ میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کشمکش نے واضح کر دیا ہے کہ اب جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سائبر طاقت، اور پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں۔

بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال نہایت اہم ہے۔ بھارت، جو خود کو خطے کی ابھرتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس بدلتے عالمی نظام میں امریکہ کے قریب رہ کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہے گا۔ دوسری طرف پاکستان کو ایک نہایت محتاط اور متوازن خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان کے ایران، چین، اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں، لیکن یہی توازن اس کے لیے چیلنج بھی بن سکتا ہے۔

عالمی سطح پر اس جنگ کے بعد ایک کثیر القطبی (Multipolar) نظام کے ابھرنے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اب دنیا صرف ایک طاقت کے زیرِ اثر نہیں رہے گی بلکہ مختلف علاقائی اور عالمی قوتیں اپنے اپنے دائرہ اثر میں فیصلے کرتی نظر آئیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹے ممالک کو بھی اب زیادہ مواقع میسر آئیں گے، لیکن ساتھ ہی خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔

معاشی طور پر دنیا پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور سرمایہ کاری میں غیر یقینی صورتحال نے معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی معیشت ایک نئے بحران کی طرف جا سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر سب سے زیادہ پڑیں گے۔

ایک اور اہم پہلو مسلم دنیا کا کردار ہے۔ اس جنگ نے ایک بار پھر یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ مسلم ممالک سیاسی طور پر منقسم ہیں۔ اگر یہ ممالک متحد ہو جائیں تو عالمی سیاست میں ایک مضبوط بلاک کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں یہ خواب ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران اسرائیل جنگ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کی تمہید ہے۔ امریکہ کی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہو رہی، لیکن اس کی یکطرفہ برتری ضرور چیلنج ہو رہی ہے۔ آنے والے سالوں میں دنیا زیادہ پیچیدہ، غیر متوقع اور خطرناک ہو سکتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ عالمی قیادت جنگ کی بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ اگر یہی راستہ جاری رہا تو آنے والی دنیا میں امن ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے