پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء سے لے کر ایندھن تک، ہر چیز کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول بھی 378 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسا بوجھ ہے جس نے غریب اور مزدور طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وہ طبقہ جو پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہا تھا، اب مزید مشکلات میں گھر چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ عالمی حالات کا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے، لیکن یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ مشکل وقت میں ریاست اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایسے مواقع پر حکومتیں سبسڈی اور ریلیف پیکجز کے ذریعے عوام کو سہارا فراہم کر رہی ہیں تاکہ وہ اس دباؤ کو کسی حد تک برداشت کر سکیں۔
پاکستان میں عالمی بینک کے ذیلی اداروں اور آئی ایم ایف کا شکنجہ اتنا مضبوط ہے کہ وفاقی حکومت کے وزراء تو آئی ایم ایف کی ہر شرط کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ البتہ صوبائی حکومتوں نے عوامی ریلیف کے لیے کچھ مختصر اقدامات کیے ہیں۔ جیسا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لیے پیٹرول پر سبسڈی کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ جس میں ہر رجسٹرڈ موٹر بائیک کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی، اور اس سہولت کے حصول کے لیے ہیلپ لائن 1000 بھی متعارف کروائی گئی ہے۔ اسی طرح پنجاب کے تمام شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو فری کیا گیا ہے، بلاشبہ یہ اقدام عام آدمی کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کی ایک نا کام کوشش ہے۔
تاہم زمینی حقائق اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں موٹر سائیکلیں، گاڑیاں، بسیں اور ٹریکٹر ایسے ہیں جو اپنے اصل مالکان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ بالخصوص 2015 سے پہلے خریدے گئے ٹریکٹرز اور پرانی بائیکس کی بڑی تعداد ایسی ہے جو مختلف ہاتھوں سے گزرتی ہوئی موجودہ صارف تک پہنچی ہے، مگر کاغذات میں ابھی بھی کسی اور کے نام پر ہیں۔ ان میں سے کئی گاڑیاں ایسی بھی ہیں جن کے اصل مالکان کا سراغ لگانا مشکل ہو چکا ہے، بعض کا انتقال ہو چکا ہے اور کچھ دوسرے شہروں یا صوبوں میں ہیں۔
ایسے حالات میں صرف “رجسٹرڈ” گاڑیوں کو سبسڈی دینا ایک محدود دائرہ اختیار رکھتا ہے، جس سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی دستاویزات مکمل اور اپ ڈیٹ ہیں۔ جبکہ اصل مستحق طبقہ، جو زیادہ تر دیہی علاقوں اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے، اس سہولت سے محروم رہ جائے گا۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ماضی میں حکومت کی جانب سے ایک محدود مدت کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے گاڑیوں کی ملکیت کی منتقلی کو آسان بنایا گیا تھا، جس میں خریدار کی بائیومیٹرک تصدیق سے گاڑی کو اس کے نام پر منتقل کر دیا جاتا تھا۔
اگر اسی طرز کی سہولت کو دوبارہ متعارف کروایا جائے، اور اسے ایک یا دو ماہ کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے، تو لاکھوں غیر رجسٹرڈ یا غیر منتقل شدہ گاڑیاں قانونی دائرے میں آ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کی سبسڈی اسکیم زیادہ مؤثر ہو جائے گی بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ریلیف پروگرامز کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالے، ان میں لچک پیدا کرے اور ایسے طریقہ کار اپنائے جو زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچ سکیں۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں آسانی پیدا کریں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مہنگائی کا طوفان اگرچہ عالمی عوامل کا نتیجہ ہے، مگر اس کے اثرات کو کم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا تقاضا یہی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے کمزور طبقات کا سہارا بنے، نہ کہ انہیں پیچیدہ نظام اور کاغذی رکاوٹوں میں الجھا دے۔ اگر نیت اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کرے گا بلکہ ریاست کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔