خیبر ضلع کے علاقے لنڈی کوتل میں واقع افغان ڈیپورٹیشن کیمپ جو امیر حمزہ بابا کے مزار کے قریب قائم ہے، ان دنوں شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں افغانستان واپس بھیجے جانے والے افغانیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، جس نے انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کیمپ میں رجسٹریشن کا نظام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ مناسب عملے اور انتظامات کی کمی کے باعث لوگوں کو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے، جو پہلے ہی نقل مکانی کے کرب سے گزر رہے ہیں۔
کیمپ میں بنیادی سہولیات کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ واش رومز، صاف پانی، خوراک اور رہائش جیسی ضروری سہولیات ناکافی یا سرے سے موجود ہی نہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق افراد کو ٹرکوں میں کئی دن تک رکھا جاتا ہے، جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ ان حالات نے کیمپ کو ایک عارضی رہائشی مرکز کے بجائے ایک عقوبت خانے کی شکل دے دی ہے۔
یہ صورتحال انسانی وقار کے منافی ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
ضروری اقدامات:
سب سے پہلے کیمپ میں رجسٹریشن کے عمل کو تیز اور منظم بنانے کے لیے اضافی عملہ تعینات کیا جائے، تاکہ لوگوں کو غیر ضروری انتظار سے نجات مل سکے۔ جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کروا کر اس عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔
دوسری جانب بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ صاف پانی، عارضی رہائش، مناسب واش رومز، طبی امداد اور خوراک کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ خواتین اور بچوں کے لیے علیحدہ اور محفوظ جگہوں کا قیام بھی ناگزیر ہے۔
مزید برآں، ٹرکوں میں افراد کو طویل عرصے تک رکھنے کے عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور اس کے متبادل انسانی بنیادوں پر رہائش کا بندوبست کیا جائے۔ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ، فلاحی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ اس پورے عمل کی شفاف نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرے، تاکہ کسی بھی قسم کی زیادتی یا بدانتظامی کی فوری نشاندہی اور اصلاح بروقت ممکن ہو سکے۔
موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف متاثرہ افراد پر پڑے گا بلکہ ملکی ساکھ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔