سوگ مناؤ!! اب ہم تمہارے نہیں رہے

اگر آپ کا اپنا کوئی پیارا قتل ہوگیا تو ٹہریے!
کیا آپ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟
کیا آپ میں طاقتوراور بااثر قاتل سے لڑنے کا حوصلہ نہیں؟
کیا آپ پاکستان کے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتےہیں؟
کیا انصاف ملنے کے باوجود’’جان کو درپیش خطرے‘‘ کا بہانہ بنا کر آپ ’’کچھ اور‘‘ کی طلب میں ہیں؟
تو گھبرائیے نہیں! آپ ایک بہترین ملک میں کے شہری ہیں جہاں آپ کا متوسط طبقے کا ہونا اورکسی سفاک، ظالم او ربگڑے ماں باپ کی اولاد کے ہاتھوں قتل ہوجانا آپ کے لیے کسی فائدے سے کم نہیں بس اِس کے لیے آپ کو کچھ اہم کام کرنا ہوں گے جن میںسے کچھ تو فطرتاً آپ کر سکتےہیں اور کچھ آپ کو اِس ’’عمداًقتل پر عمداً کرنا ہوں گے ۔۔

ٓٓٓآپ کو اپنے بیٹی یا بیٹی کے قتل پر دھاڑیںمار مارکے اِس قدر رونا ہوگا کہ معاشرہ جاگ اُٹھے (اِس میں تمثیلی انداز اختیار کرنے کی ضرورت نہیں یہ قدرتاً ممکن ہے کیونکہ بہرحال مرنے والا آپ کا ’’فی الحال اپنا‘‘ تھا)

معاشرے کے جاگنے کے بعد موم بتیاں جلانے والوں سے آپ کا رابطہ انتہائی مؤثر ہونا چاہیے کیونکہ بین الاقوامی سطح پر اِن کی گرفت ایک ہزارپاکی طرح ہے اور ایسے کھوجی ایجنڈوں پرانصاف دلاؤ مال کماؤ کی بنیاد پر یہ آپ کا ایسے ساتھ دیں گے جیسے مقتول کی روح غائبانہ آپ کا ساتھ دے رہی ہو ۔۔۔ اُس کے بعد ایک منظم انداز میں مہم چلائیے، سڑکوں پر نکلیے ،ہر کونے کھدرے کو موم بتیوں اور دو منٹ کی خاموشی کا مرکز بنادیجیے ، قاتلوں جواب دو، خون کا حساب دو جیسے فلک شگاف نعروں سے آسمان سر پہ اُٹھالیجیے۔۔۔۔ میڈیا، سماجی کارکنان، تصاویر کھنچوانے اور رہنما بننےکے خواہشمندوں سے اِتنا چیخ چیخ کر بلوائیے کہ کم و بیش دو ہفتے یہ معاملہ میڈیا میں زندہ رہے ۔۔۔ قاتلوں کے ورثا پر پریشر بڑھتا جائے اور پھر عدالت انصاف، شواہد اور حقائق کی بنیاد پر سخت ترین فیصلہ سنا دے۔۔۔۔ بس یہاں آپ کا اور اُن سب ساتھی و ہمنوا اداکاروں کا کام ختم جو انسانی ہمدردی یا واقعے کی ہولناکی کی بنیاد پر خوف کی اندوہناکی کو شکست دینے کےلیے آپ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے ہوئےتھے۔۔۔

اب آہستہ آہستہ مذاکرات شروع کیجیے، پہلے نہیں، پھر سوچنے کا وقت ، پھر نہ ملنے کے بہانے،پھرواقعے کی تکرار،حادثے کا مسلسل تذکرہ،پلے پلائے بچے کا جنازہ اُٹھانے کی تکلیف کا اظہار۔۔۔ گھر میں موجود کچھ گم سم چہروں کی وقتا ً فوقتاً رونمائی اور پھر ایک معینہ وقت گذر جانے کے بعد غیر محسوس انداز میں ’’ڈیل ‘‘ کی یہ کہہ کر شرگوشیاں شروع کرنا کہ’’جانے والا تو چلا گیا ، اور پھر اللہ کو بھی معاف کرنا پسند ہے، شاہ زیب زندہ ہوتا تو درگذر کردیتا‘‘ دل موہ لینے والےیہ الفاظ جذبات کا بہاؤ خواہشات کی جانب موڑنے کے بعد’’دیت‘‘ کی آڑ میں ریاست کو اُس کی ذمےداریوں سے سبکوش کرتے ہوئے ۲۳ کروڑ ، آسٹریلیا کی شہریت اور دیگر مراعات کے بدلے سفید پوشی کو اِس بُری طرح پچھاڑیے گا کہ وہ لرز اُٹھے ۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے غلطی کی ہے ، دباؤ پر گناہ یا بے گناہ کے لہو سے زیادتی ۔۔۔ مگر میں اتناضرور جانتا ہوں کہ غلطیوں کی تلافی ہوتی ہے ،گناہوں کی سزا ہوتی ہے اور زیادتیوں کا صرف اور صرف عذاب۔۔۔بہرحال فاتح جتوئی کے چہرے پر گناہ کے بعد کی مسکراہٹ دیکھ کر دور کہیں آسمانوں سے ایک شناسا سی آواز آرہی ہے ، لوگ کہتے ہیں کہ یہ آواز شاہ زیب کی ہے اوروہ اپنے والدین سے بس اتنا ہی کہہ رہی ہے کہ ’’سوگ مناؤ، اب ہم تمہارے نہیں رہے ‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے