پاکستان میں متعین فلسطینی سفیر ولید ابو علی کو گذشتہ روز لیاقت باغ میں دفاع پاکستان کونسل کے جلسے میں شرکت کرنے کی وجہ سے فلسطین نے واپس بلا لیا .

فلسطین کی وزارت خارجہ کے بیان میں حافظ سعید کا نام لیے بغیرکہا گیا ہے کہ’وزارت خارجہ یہ سمجھتی ہے پاکستان میں ہمارے سفیر نے ریلی میں یروشلم سے یک جہتی کے لیے شرکت کی تھی اور وہاں دہشت گردی کے مبینہ حامی کسی شخص کی موجودگی میں شرکت غیر ارادی غلطی تھی لیکن اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی ‘۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ‘فلسطینی ریاست کے صدر کے احکامات کی روشنی میں’ سفیر کو پاکستان سے واپس بلانے کے فیصلے کا اطلاق فوری ہوچکا ہے۔
فلسطینی سفیر ولید ابوعلی نے گزشتہ روز راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے منعقدہ ‘تحفظ بیت المقدس کانفرنس’ میں شرکت کی تھی جہاں حافظ سعید بھی موجود تھے .
اقوام متحدہ، امریکہ اور انڈیا جماعت الدعوۃ کو شدت پسند تنظیم قرار دے چکے ہیں جبکہ انڈیا کے مطابق حافظ سعید 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
فلسطین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہ انڈیا کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پورا ساتھ دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ انڈیا کی عالمی فورم پر فلسطین پر کی جانے والی اسرائیلی جارحیت کے خلاف حمایت کے شکر گزار ہیں‘

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی جانب سے سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ بھارت کی جانب سے دفاع پاکستان کونسل کی ریلی میں موجودگی پر شدید تشویش کے بعد کیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ” فلسطین نے’واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے سفیر کی ریلی میں موجودگی کا سختی سے نوٹس لے رہے ہیں’۔
انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی سفیر کی حافظ سعید کی موجودگی میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘ناقابل قبول’ قرار دیا اور اس کی شکایت انڈیا میں مقیم فلسطینی سفیر عدنان ابو الحیجا سے کی۔
اس بارے میں عدنان ابو الحیجا نے انڈین اخبار دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو ولید ابو علی نے کیا وہ ہماری حکومت کو بالکل قبول نہیں ہے، ہمارے انڈیا کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات ہیں اور ہم نے ہمیشہ انڈیا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کی ہے۔’
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈیا نے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود اس فلسطین کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

دفاع پاکستان کونسل نے کانفرنس میں کشمیر اور فلسطین کی آزادی ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔حافظ سعید نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ امریکی کی سرپرستی میں بھارت اور اسرائیل نے ایک اتحاد تشکیل دیا ہے . ‘ٹرمپ نے نہ صرف فلسطین بلکہ اسلام کے خلاف بھی جنگ چھیڑ دی ہے.
[pullquote]فلسطینی سفیر ولید ابو علی کی دفاع پاکستان کے جلسے میں شرکت کا معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کردیا[/pullquote]
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق متنازع امریکی فیصلے کے بعد پاکستان میں متعدد ریلیاں نکالی گئیں اور فلسطینی سفیران عوامی اجتماعات میں کئی بار شرکت کر چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز منعقدہ اجتماع بھی فلسطینیوں کی حمایت کا مظہر تھاجس میں مختلف مکاتب فکر کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور وہ یکجہتی کے اس اجتماع میں فلسطینی سفیر کی شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جہاں حافظ سعید سمیت50سے زائد مقررین نے اجتماع سے خطاب کیا۔ ترجمان کے مطابق حافظ سعید کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
فلسطینی سفیر کی واپسی کے فیصلے کے بعد پاکستان میں مختلف لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی سفیر کو متنازع اجتماع میں نہیں جانا چاہیے تھا تاہم وہ ایک بڑے مقصد کے لئے گئے تھے .فلسطینی سفیر اس سے قبل کئی جماعتوں اور اداروں کے ہاں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کر چکے تھے جہاں انہوں نے یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر فلسطینیوں کے خدشات کا اظہار کیا تھا .