گزشتہ چند سالوں سے سحر و افطار کے کچھ ایسے نقشے سامنے آ رہے ہیں جن میں انتہائے سحر کے اوقات غلط درج ہیں جس کا اثر ان کے مطابق روزہ بند کرنے والوں کے روزوں پر پڑ رہا ہے۔ایسا ہی ایک نقشہ فیصل مسجد اسلام آباد سے بھی تقسیم کیا جا رہا ہے اور چونکہ فیصل مسجد کا انتظام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے پاس ہے اس لیے یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کے محققین اور سکالرز کی اس نقشے کو تائید حاصل ہے۔
مذکورہ متنازعہ نقشہ ترتیب دینے والے بزرگ انجینئر بشیر بگوی صاحب ہیں جو اسلامی یونیورسٹی کی لائبریری میں ایک قاری کی حیثیت سے جاتے رہتے ہیں لیکن ان کا اسلامی یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے،جس طرح ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری میں کسی بھی محقق کو مطالعہ کی غرض سے بیٹھنے اور استفادہ کرنے کی اجازت ہے ایسے ہی بگوی صاحب کو بھی ہے،لیکن بگوی صاحب نے اپنے نام کے ساتھ ,ریڈر ڈاکٹر حمید اللہ لائبریری ادارہ تحقیقات اسلامی،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی،اسلام آباد جیسا ذومعنی لفظ لکھنا شروع کیا ہوا ہے جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آنجناب یونیورسٹی سے ہی منسلک ہیں،یاد رہے کہ ماضی میں یونیورسٹی میں ,ریڈر, کی بھی سیٹ ہوا کرتی تھی جس میں باقاعدہ بھرتیاں ہوتی تھیں، لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے۔
انجینئر بشیر بگوی صاحب نے اپنے تیار کردہ نقشے میں صبح صادق اور عشاء کے لیے ۱۵ درجہ زیر افق کا اصول اپنایا ہے،اور اس کی تائید میں جامعۃالرشید کراچی کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانوی مرحوم کی تحقیق پیش کرتے ہیں،رمضان کی آمد پر بگوی صاحب ایک مرتبہ پھر متحرک ہو گئے ہیں اور اپنا متنازعہ نقشہ ادارہ تحقیقات اسلامی اور اسلامی یونیورسٹی کے نام سے پھیلا رہے ہیں اس لیے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی ادارے شریعہ اکیڈمی اور المعھد العالی للفتوی نے مفتیان کرام کے لیے جاری تربیتی ورکشاپ جس میں ملک کے طول و عرض سے ۷۵ مفتیان کرام شریک ہیں کے سامنے صبح صادق اور صبح کاذب پر تحقیقی گفتگو کرنے کے لیے معروف ماہر فلکیات اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن جناب سید شبیر احمد کاکاخیل کو دعوت دی اور ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا تاکہ اس بابت پھیلائے گئے شبھات کا ازالہ کیا جا سکےاور مفتیان اور علما کرام کے سامنے وہ موقف بیان کیا جائے جو جمہور علما کا ہے اور اسلامی یونیورسٹی کے مستند ادارے بھی اسی کو ہی اختیار کرتے ہوئے کسی بھی متنازعہ نقشے سے اظہار برات کرتے ہیں۔
ماہر فلکیات جناب شبیر احمد کاکاخیل نے ۱۰ مئی کو اسلامی یونیورسٹی میں اپنی گفتگو کے دوران مذکورہ مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:
یہ مسئلہ ستر کی دہائی میں کراچی میں اس وقت اٹھا تھا جب جامعۃ الرشید کراچی کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانوی ؒصاحب نے اپنی تحقیق پیش کی تھی،اس وقت مولانا عاشق الہیؒ،مولانا یوسف بنوریؒ ،مفتی محمد شفیع اور مفتی تقی عثمانی جیسے حضرات نے مشاہدات کیے اور ان سب حضرات کو سرسری مشاہدات میں مفتی رشید صاحب کا موقف درست نظر آیا اس لیے نقشے اسی کے مطابق کرنے کا اعلان کر دیا گیا،مفتی شفیع صاحب نے خود اس مسئلے کی تحقیق کا فیصلہ کیا اور ایک ٹیم بنائی جس نے یہ موقف اختیار کیا کہ ۱۸ درجے زیر افق کے مطابق نقشے ہی درست تھے نہ کہ ۱۵ درجے والے،اور اس طرح ان تمام حضرات نے اپنی رائے سے رجوع کرتے ہوئے پہلے سے رائج نقشوں کو ہی معتبر قرار دیا سوائے مفتی رشید صاحب کے۔
میں (کاکاخیل) نے بھی مفتی رشید صاحب کی تحقیق کے مطابق نقشے اپنے علاقے میں تقسیم کر رکھے تھے اس لیے میں نے بھی اپنے طور پر چند دوستوں کے ساتھ صبح صادق کے مشاہدات کا فیصلہ کیا اور یہی نتیجہ اخذ کیا کہ پندرہ درجے زیر افق والا موقف درست نہیں،اسی غرض سے میں نے ۱۹۸۴ میں کراچی کا سفر کیا تاکہ مفتی رشید صاحب کو ساری تفصیلات سے آگاہ کروں،اس ملاقات میں آپ نے میرے دلائل سننے کے بعد خاموشی اختیار کی لیکن تین دن بعد جب میں ان کی تصوف کی مجلس میں گیا تو مجھے دیکھ کر کہا کہ میں نے تمہاری بات پر غور کیا ہے اس لیے اب میں اپنی رائے پر سختی کرنے سے رجوع کرتا ہوں، اور یوں مفتی رشید صاحب نے اسے ایک علمی اختلاف پر چھوڑ دیا۔
کاکاخیل صاحب نے صحیح مسلم کی روایت(جسے بگوی صاحب بڑی شد و مد کے ساتھ پیش کرتے ہیں) اور سورہ بقرہ کی انتہائے سحر سے متعلق آیت کا انتہائی جامع مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا:
اذان بلال اور مستطیل روشنی اگر ہوں تو اس سے دھوکہ نہ کھائیں اور کھانا پینا جاری رکھ سکتے ہیں حتی کہ افق کی سیاہ اور سفید دھاری میں تبین ہو جائے یعنی مستطیر(قوس نما) روشنی ظاہر ہو جائے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ روشنی کا کم یا زیادہ ہونا معیار نہیں بلکہ مستطیل کے بجائے مستطیر ہونا معیار ہے۔
شبیر احمد کاکاخیل صاحب کی اس گفتگو کے بعد ورکشاپ میں شریک ۷۵ مفتیان کرام نے ۱۸ درجہ زیرافق پر شرح صدر کا اظہار کیا اور مولانا یوسف بنوریؒ و مفتی شفیع ؒ کے فتوی کی تائید کی۔یاد رہے کہ ۲۰۰۸ء میں بھی راولپنڈی اسلام آباد کے جید علما و مفتیان نے ادارہ غفران راولپنڈی میں اسی موضوع پر ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس کے بعد انہوں نے متفقہ فیصلہ جاری کیا تھا کہ جو نقشے ۱۸ درجہ زیر افق کے مطابق ہیں وہی صحیح ہیں،انہی پر تعامل اور توارث چلا آرہا ہے اور عصر حاضر میں مختلف مواقع پر علما و ماہرین اہل فن کی طرف سے بارہا کیے جانے والے مشاہدات بھی انہی کے موید ہیں۔لہذا سترہ مئی ۲۰۱۸ کو اسلام آباد کے جن نقشوں میں صبح صادق اور انتہائے سحر کا وقت ۳:۲۸ بتایا گیا ہے انہیں پر عمل کیا جائے،ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر پہلے سے ہی اسی کے مطابق انتہائے سحر بتایا جاتا ہے اور اہل تشیع کے لیے دس منٹ کی تقدیم و تاخیر بھی انہیں نقشوں کے مطابق ہے،اس لیے کسی متنازعہ نقشے کو معیار بنا کر اپنے روزوں کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ۱۸ درجہ زیر افق کے مطابق پہلے سے رائج نقشہ اوقات کے مطابق ہی روزے رکھیں اور افطار کریں۔