اسامہ بن لادن کی والدہ نے والدہ علیا غانم نے پہلی بار انٹرویو میں اسامہ بن لادن سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ ایسا نہیں تھا بلکہ فلسطینی مجاہد عبد اللہ بن عزام نے اسامہ بن لادن کا برین واش کیا اور وہ ہی اسامہ کو اس مقام تک لانے کا ذمہ دار ہے .
اسامہ کی والدہ کا تعلق شام کے مشہور علوی فرقے سے ہے .
عالمی شہرت یافتہ عسکری تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی والدہ نے سترہ برس کی طویل خاموشی توڑتے ہوئے پہلی مرتبہ میڈیا کو انٹرویودیا ہے جواس وقت عالمی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔۔اسامہ بن لادن کی والدہ علیا غانم اس وقت برطانیہ میں اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر ہیں ۔۔
علیا غانم سعودی نہیں بلکہ شامی خاتون ہیں ۔۔وہ 1934 میں شام کے مشہور علاقے اللاذقیہ میں پیداہوئی تھیں اور50 کی دہائی میں سعودی عرب چلی گئیں ، اسامہ کی والدہ کا خاندان غیرسنی ہے ۔وہ شامی صدربشارالاسد کے خاندان علوی فرقےسے تعلق رکھتی ہیں ۔اگرچہ خود ان کا کہنا ہے کہ وہ سنی المسلک ہیں ۔
علیا غنیم کی محمد بن عواد بن لادن سے چودہ برس کی عمرمیں شادی ہوئی اسی طرح سے وہ محمد بن لادن کی گیارہویں اہلیہ بنی تھیں، محمد لادن سے ان کے تین بیٹےاسامہ ،احمد اورحسن اورایک بیٹی پیدا ہوئی ۔محمد بن لادن نے اسامہ کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد علیا غانم کو طلاق دے دی ۔ بن لادن کے22 بیویوں کل 54 بیٹے اوربیٹیاں تھیں ۔
محمد لادن سے طلاق کے بعد علیاغانم نے محمد عطاس نامی شخص سے شادی کی جو ساٹھ کی دہائی میں بن لادن کمپنی میں مینجیر تھا ۔
اسامہ بن لادن کی والدہ حمیدہ العطاس کے نام سے بھی مشہور ہیں ۔اسامہ بن لادن کا لاذقیہ میں اپنے علوی ننھیال میں زیادہ آناجانا رہتا تھا ۔۔ یہی وجہ تھی کہ اٹھارہ برس کی عمرمیں انہوں نے اپنی والدہ کی بھتیجی نجوی غانم کے ساتھ شادی بھی کی تھی.
علیا غانم اپنے بیٹے اسامہ بن لادن سے آخری مرتبہ 1999 میں افغانستان میں ملی تھیں ۔۔جہاں اسامہ بن لادن نے ان کے اعزاز میں ایک فاخرانہ روایتی عرب دعوت کی تھی اور ان کے لئے بطورخاص شکار کیا تھا ۔ اسامہ علیا کو بے حد محبوب تھا ۔