راولپنڈی: مسلح ملزمان کی مخالفین کے گھر میں گھس کر فائرنگ، 9 افراد جاں بحق

راولپنڈی کے نواحی علاقے میال میں دو گروہوں کی پرانی دشمنی نے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کی زندگیاں نگل لیں۔

پولیس کے مطابق مسلح افراد نے جمعے کی شب مخالفین کے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 خواتین اور 4 بچے جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سے تین سال کے درمیان ہیں۔

پولیس کے مطابق چند روز پہلے بھی اظہر اور رب نواز گروپ کے درمیان فائرنگ سے رب نواز گروپ کی ایک خاتون چل بسی تھی۔

ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے جب کہ مرکزی ملزم اور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چونترا تھانے کی حدود کے علاقے میال میں قتل ہونے والے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کی میتوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا اور پھر پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو ایمبولینسوں کے ذریعےگاؤں منتقل کیا گیا۔

سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونترا تھانے کی حدود میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے، یہ بات غلط ہے کہ پولیس کا رسپانس نہیں تھا، اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس 4 لوگ ہیں جن سے ہم تفتیش کر رہے ہیں، ہمارے پاس 120 لوگوں کی لسٹ ہے جو سرچ آپریشن کے دوران بنائی گئی۔

سی پی او راولپنڈی نے کہا کہ اس واقعے سے پچھلے واقعات کو نہ جوڑا جائے، ہماری مختلف ٹیمیں اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں، رب نواز کے گھر فیاض کا قتل ہوا، یہ پہلی ایف آئی آر تھی، پھر رب نواز کی بیوی کا قتل ہوا جو دوسری ایف آئی آر تھی۔

[pullquote]راولپنڈی واقعہ: چارپائی کے نیچے چھپ کر جان بچانے والی بچی کی روداد[/pullquote]

مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کی 5 خواتین اور 4 بچے بھی شامل تھے، مرنے والے بچوں کی عمریں ایک سے تین سال کے درمیان تھیں، فائرنگ سے تین بچے زخمی بھی ہوئے، اسی خاندان کی ایک بچی نے چارپائی کے نیچے چھپ کراپنی جان بچائی۔

واقعے کی عینی شاہد بچی تک رسائی حاصل کرکے واقعے سے متعلق اس کی معلومات حاصل کرلیں، لیکن عینی شاہد کی حفاظت اور صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے جیو نیوز عینی شاہد بچی کی شناخت ظاہر نہیں کررہا۔

اعلی حکام کو چاہیے کہ واقعے کی انتہائی اہم ترین گواہ بچی کی حفاظت یقینی بنائی جائے تاکہ اس بہیمانہ واردات کی درست خطوط پر تفتیش کی جاسکے۔

واقعے کی عینی شاہد بچی کا کہنا ہے کہ ‘جب ملزمان نے گھر پر حملہ کیا تو گھرپرکوئی مرد موجود نہیں تھا، سب سے پہلے ملزم کے بڑے بیٹے نے ہمارے گھر کے دروازے توڑ دیے،گھر کے اندر فائرنگ کی گولیاں والدہ اور دیگر افراد کو لگیں’۔

بچی نے بتایا کہ اس کے بعد دانش،عاقب، رب نواز، اشرف، اکرام آگے آئے، اس دوران وہ چارپائی کے نیچے ہی چھپی رہی، عاقب اس کی باجی کے گھر بھی گیا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھی۔

عینی شاہد بچی نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد جب ملزمان چلے گئے تو وہ چارپائی سے نکلی اور دیکھا گھر کے کئی افراد خون میں لت پت پڑے ہیں، وہ فورا ڈاکٹر کے پاس بھاگی، فائرنگ کے بعد پولیس آئی اور محلے والے بھی اکٹھے ہوگئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے