ہمارے معاشرے میں کوئی بیمار پڑ جائے ہے تو لوگ اس کی عیادت کے لیے فروٹس لے کر پہنچ جاتے ہیں، جو مریض تک نہیں پہنچ پاتے وہ فون پر خیر خیریت پوچھتے اور دعائیں دیتے ہیں۔ لیکن اگر انہی تیمارداروں کے ہاتھ کوئی نفسیاتی مریض لگ جائے تو نہ صرف اس کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ جتنی اذیت اسے پہنچا سکیں پہنچاتے ہیں۔ وہ مریض اپنے علاقے کے لیے ایک کھلونا بن کر رہ جاتا ہے۔
اسی مائنڈ سیٹ کا نتیجہ ہے کہ اگر کوئی خودکشی کرے، خوابوں میں روحانیت کا ذکر کرے، نیند کی حالت میں مقدس ہستیوں کے احکامات پر اپنے بچوں یا دوسروں کو قتل کرے تو ان واقعات کی وجوہات اس انسان کے اندر تلاش کرنے کے بجائے سماج یا مذہب میں ڈھونڈی جاتی ہے۔
یہ رویہ سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا تک پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے رپورٹرز ہوں، ایڈیٹرز ہوں یا سوشل میڈیا لکھاری ہوں، ان سب کی ترجیحات میں عموماً حقیقت تک پہنچنا نہیں ہوتا۔ رپورٹر کو چینل میں جاب برقرار رکھنے کے لیے سنسنی خیزی پر مبنی خبریں دینی ہوتی ہیں، ایڈیٹر کا مسئلہ اخبار کی سرکولیشن یا ویب سائیٹ ٹریفک ہوتی ہے اور سوشل میڈیا پر لکھنے والے لائیکس اور شیئرز کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق کی روشنی سنسنی خیزی کی دھول میں چھپ کر رہ جاتی ہے۔
حال ہی میں ایک ہی ایچ ڈی کی طالبہ کی خودکشی کی خبر آئی تو حسب معمول اس خاتون کی ذات میں اس کی وجوہات ڈھونڈنے کے بجائے سماج میں انہیں تلاش کیا گیا اور ایک معزز پروفیسر سب کے ہتھے چڑھ گیا جس پر میڈیا سمیت فیس بک پر تحریر اور لائیو سیشن کے ذریعے خوب گفتگو ہوئی۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے کچھ صبر کیا جائے اور اس کے بعد قلم اور زبان کو حرکت دی جائے۔ یا کم از کم پروفیسر صاحب کا نام اور علاقہ ہی چھپا لیا جائے۔
انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے خود کشی کرنے والی طالبہ کے بھائی نے بتایا ہے کہ ان کی بہن شیزوفرینا کی مریضہ تھیں اور دو سال پہلے بھی خودکشی کی کوشش کر چکی تھیں۔ ان کی موت سے پی ایچ ڈی کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ پروفیسر صاحب کا بہت احترام کرتی تھیں اور انہیں اپنے والد کی طرح سمجھتی تھیں۔
سوال یہ ہے کہ اخبار کی سرکولیشن، ویب سائیٹس کی ٹریفک اور فیس بک لائیکس کے جنون میں پروفیسر صاحب کی کردارکشی کرنے کا حساب کون دے گا؟
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اگر کسی کی نیکی کا ذکر کیا جائے تو وہ بات چند دنوں میں سب بھول جاتے ہیں لیکن کسی کی برائی سامنے لائی جائے تو اسے برسوں یاد رکھا جاتا ہے۔ معزز پروفیسر کو پورے ملک میں بدنام کرنے کی سزا کسے ملے گی؟
ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ اس کی سزا بھی پروفیسر صاحب کو ہی ملے گی کیونکہ سنسنی خیزی کے پیچھے بھاگنے والوں کو جلد نیا شکار مل جائے گا اور یہ گدھوں کی طرح اسے نوچنے میں مصروف ہو جائیں گے۔