خیبرپختونخوا : ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بدترین صورتحال

خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بدترین صورتحال،20فیصدیعنی ایک ہزار232سرکاری تعلیمی ادارے غیرفعال ہیں جن میں سے سب سے زیادہ سکولزدہشتگردی کے باعث تباہ ہوئے ہیں اس کے علاوہ علاقائی تنازعات اور سرکارکے سرخ فیتے کے باعث بھی کئی تعلیمی ادارے عمارت مکمل ہونے کے باوجود تاحال غیرفعال ہیں ۔ملک کے 60فیصدسے زائد شرح خواندگی کے مقابلے میں قبائلی اضلاع کے صرف33فیصدافرادلکھنایاپڑھناجانتے ہیں اورآئے روز شرح خواندگی میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے اسوقت خیبرپختونخواکے ضم شدہ سات قبائلی اضلاع میں پانچ لاکھ سے زائد بچے کسی بھی قسم کے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل نہیں کررہے۔

[pullquote]قبائلی اضلاع میں غیرفعال تعلیمی اداروں کی کل تعدادکتنی ہے ۔۔؟[/pullquote]

محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ قبائلی اضلاع کے دس سالہ حکمت عملی کے پہلے سال کی رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اسوقت قبائلی اضلاع میں چھ ہزار50تعلیمی ادارے ہیں جن میں پرائمری سکول سے لیکر کالجزاورکمیونٹیزسکولزشامل ہیں ۔قبائلی اضلاع میں 532لڑکیوں کے تعلیمی اداروں سمیت کل ایک ہزار232تعلیمی ادارے غیرفعال ہیں ڈیڑھ ہزارسے زائد تعلیمی ادارے دہشتگردی کے باعث جزوی یامکمل طور پر تباہ ہوئے تھے تاہم ان میں سے پانچ سوسے زائد تعلیمی اداروں کو تعمیرکیاجاچکاہے لیکن ابھی بھی سینکڑوں تعلیمی ادارے علاقائی تنازعات ،نوکری نہ ملنے اوردیگرمسائل کے باعث بندپڑے ہیں ۔غیرفعال تعلیمی اداروں میں 785پرائمری سکول ،56مکتب سکول،125مڈل سکول،45ہائی سکول ،ایک ہائرسکینڈری سکول اور181کمیونٹیزسکولز شامل ہیں اس وقت قبائلی اضلاع میں لڑکوں کے مجموعی طور پر24فیصداورلڑکیوں کے28فیصدتعلیمی ادارے غیرفعال ہیں۔قبائلی ضلع خبیرسب سے زیادہ 44.5فیصد تعلیمی ادارے علاقائی تنازعات اور دہشتگردی کے نذرہوچکے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں باجوڑ میںصرف1.32فیصدتعلیمی ادارے غیرفعال ہیں۔محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کے مطابق قبائلی اضلاع تعلیم کے لحاظ سے ملک کا پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں 2.6فیصدبچے مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں68.6فیصدسرکاری سکولوں اور29.1بچے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔

[pullquote]قبائلی اضلاع میں کتنے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔۔؟[/pullquote]

محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کی رپورٹ کیمطابق اس وقت خبیرپختونخواکے بندوبستی اضلاع میں19لاکھ اورقبائلی اضلاع میں پانچ لاکھ سے زائد 15سال سے کم بچے کسی بھی قسم کے تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہیں قبائلی اضلاع میں سکولوں سے باہر بچوں میں 55فیصدلڑکے اور45فیصدلڑکیاں ہیں قبائلی اضلاع میں سکولوں سے باہربچوں کی سب سے بڑی وجہ تعلیمی اداروں کو غیرفعال ہونا ،اساتذہ کی کمی ،غربت اوردیگرعلاقائی مسائل ہیں جس کیلئے خصوصی توجہ دینے پر زوردیاگیاہے۔

[pullquote]قبائلی اضلاع کے پرائمری سکولزسب سے زیادہ متاثرکیوں ہیں۔۔؟[/pullquote]

پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ محکمے کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ قبائلی اضلاع میں تعمیرکئے گئے چھ ہزار50سکولوں میں چارہزار506پرائمری سکول ہیں تقریباً سات لاکھ قبائلی طلبہ میں سواپانچ لاکھ کے قریب بچے یعنی80فیصد سرکاری پرائمری سکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں محکمہ تعلیم میں جتنے ملازمین ہیں ان میں 55فیصدملازمین صرف پرائمری سکولوں میںہیں قبائلی اضلاع میں 79فیصدلڑکیاں پرائمری سکول کے دوران ہی تعلیم کوخیربادکہہ دیتی ہیں جب کہ 32فیصدلڑکے قبائلی پرائمری سکولوں کے بعدتعلیم چھوڑدیتے ہیں ۔محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی کمی کے علاوہ وہاں کلاس رومز کی بھی شدیدقلت ہے کم تعدادمیں پڑھنے کے باوجود بھی 47فیصدسکول اوورکرائوڈڈیعنی گنجائش آبادہیں رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جتنے تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعداد ضرورت سے زائد ہے ان میں63فیصدلڑکوں کے سکولز اور37فیصدلڑکیوں کے ہیں ۔

[pullquote]سفارشات کیاہیں۔۔؟[/pullquote]

محکمہ تعلیم کو خصوصی سفارش کی گئی ہے کہ قبائلی اضلاع میں ضرورت کے تحت نئے سکولوں کی تعمیر کوممکن بنایاجائے نئے سکولوں میں 70فیصدلڑکیوں کے اور30فیصد لڑکوں کیلئے تعمیرکئے جائیں فوری طور پر قبائلی اضلاع میں دس ہزار سے زائد اساتذہ کی تعیناتی کی جائے اسکے علاوہ کمروں کی کمی کوپوراکرنے کیلئے پی ٹی سی فنڈکوخصوصی طور پر بڑھایاجائے اور ہر آنیوالے سال میں ہرسکول میں ایک ایک کمرہ تعمیرکیاجائے ابتدائی طور پر کمیونٹی سکولوں کے ذریعے شرح خواندگی کوبڑھانے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے مفت کتابوں کی ترسیل کے علاوہ قبائلی اضلاع میں طلبہ کیلئے ماہانہ امدادی رقوم کاسلسلہ بھی شروع کیاجائے تاکہ شرح داخلہ میں اضافہ ممکن ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے