حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص کسی مسلم سے دنیا کی تنگیوں میں سے کوئی تنگی دور کرے گا ، اللہ تعالی اس سے آخرت کی تنگیوں میں سے کوئی تنگی دور فرمائے گا اور جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے گا ، اللہ تعالی اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائیں گے اور جو شخص کسی مسلم کے عیب پر پردہ ڈالے ،اللہ تعالی اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالیں گے اور اللہ تعالی بندے کی مدد میں رہتے ہیں ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے” ۔(مسلم)
"من ستر مسلما” جو شخص کسی مسلمان کی کسی لغزش یا غلطی پر مطلع ہو اور پھر اس پر پردہ ڈال دے تو اسے یہ اجر ملے گا کہ اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کی غلطیوں پر پردہ ڈال دیں گے، دنیا میں اس طرح کہ اسے ایسی غلطی سے ہی محفوظ رکھے گا، یا اگر ایسی کوئی غلطی کر بیٹھے تو کسی کو معلو م نہیں ہو گی اور آخرت میں اس کے گناہ معاف فرمائے گا، اس کے برے اعمال ظاہر نہیں کرے گا۔
پہلی دفعہ اس بات کی مجھے اطمینان ہوا کہ ہم سب نے بحیثیت مسلمان ایک ماں اور عورت کو اور اسکے خاندان کو روز روز کی اذیت سے بچا لیا، کیونکہ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے، جب کسی کی تصویر روز شئیر کی جائے ، ایک تو پہلے ہی وہ خاندان تکلیف میں ہوتا ہے اور ایک ہم روز ایک تازیانہ اسکی روح پر مار کر جینے بھی نہیں دیتے، اللہ تعالی ہمیں معاف رکھے۔
1)پولیس نے اسکی پہچان پر ردا ڈالی
2)میڈیا نے اسکی تشہیر پر
3) ہم سب نے تجسس پر ردا ڈال کر
ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں ، ہم الحمداللہ ایک مسلمان قوم ہیں
عورتوں کو ذمہ داری سمجھتے ہیں، موقع نہیں
بچوں کی تربیت پر خود نظر رکھنا ہمارا فرض ہے، بلا امتیاز صرف بیٹیوں کو نہیں بیٹوں کوبھی حیا کی ضرورت ہے، ماں باپ اور بزرگ جب بچوں کو اسلامی واقعات، قصے کہانیاں سناتے تھے تووہ ان واقعات کے ذریعے بچوں کی تربیت اور کونسلنگ بھی کر رہے ہوتے تھے اور اس کے ذریعے ان کو ان میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی ادراک ہو جاتا تھا ۔بچوں کے پاس بیٹھنا بہت ضروری ہے ۔انکی سب ضروریات پر ہماری نظر ضروری ہے۔اس لئے اپنے بچوں کو وقت دیں ،اس سے پہلے کہ وقت نہ رہے۔
اللہ سب کو آسانیاں بانٹنے والا بنائے اورسب کو حفظ و امان میں رکھے آمین