ایف بی آر کی جانب سے نکاح کے عوض دس لاکھ روپے لینے کے دعوے پر مولانا طارق جمیل نے اپنا موقف دے دیا .

معروف یوٹیوبر عالم دین مولانا طارق جمیل نے اپنی ایک ٹویٹ میں آئی بی سی اردو پر معروف صحافی اسد علی طور کی خبر پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” اللہ کی توفیق سے تبلیغ دین کیلئے پچھلے 45 برس سے چھ برّاعظم پھرا ہوں اور اک طویل مدت سے نبی(ص)کی زندگی کے گیت امت کو سنا رہا ہوں”

انہوں نے کہا کہ ” ہماری ترقی میں رکاوٹ ہماری اخلاقی پستی ہے، نکاح پڑھانے پر پیسے لینے کا بہتان لگانے والوں کی خدمت میں گزارش ہے كہ تبلیغ دین کے اس طویل سفر میں اللہ کی توفیق سے ہزاروں بچیوں اور بچوں کا نکاح اللہ کی رضا کی خاطر پڑھایا ہے”

انہوں نے کہا کہ ” شیخ محمودصاحب سے میری دیرینہ دوستی ہے انکی دعوت پر بیٹی کا نکاح پڑھانے پر کیسے پیسے لے سکتا ہوں؟ اللہ ہم سب کو بد گمانی اور الزام تراشی سے محفوظ رکھے۔

تاہم مولانا طارق جمیل نے نہیں‌ بتایا کہ وہ ایف بی آر کے اس بیان کے خلاف کیا عدالت میں جا کر ہتک عزت کا دعوی کریں گے یا نہیں .

خبر پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں .

ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کی فہرست جاری کردی. فنکاروں میں راحت فتح علی خان، مولانا طارق جمیل، ابرارالحق اور عاطف اسلم کا نام شامل

صحافی اسد علی طور نے کہا ہے کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہیں . ٹویٹر پر بیان انہوں نے اپنے مداحوں کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے . اگر وہ اپنے موقف میں درست ہیں تو انہیں ایف بی آر کے خلاف کارروائی کی درخواست دینی چاہیے .

اسد علی طور نے مولانا طارق جمیل کو ٹویٹر پر اپنے جواب میں کہا کہ "مولانا کہتےہیں ہماری ترقی میں رکاوٹ ہماری اخلاقی پستی ہے۔۔ مولانا ہر حُکمران کا درباری اور ہر امیر شخص کےدسترخوان کا چمچہ ہونا ہونا اعلیٰ اخلاقی اقدار میں آتا ہے؟ کیا ٹیکس چوروں کے نکاح پڑھانا اور اُن سے روٹیاں کھانا جائز ہے؟ یہ آپ کی تبلیغِ دین ہےکہ آپ کے پیروکار ٹیکس چوری کریں؟

اسد علی طور نے اپنی دوسری ٹویٹ میں مولانا طارق جمیل کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ "اپنےدیرینہ مالدار دوست سےپوچھاوہ کتناٹیکس دیتے ہیں؟ شادی پر اِس طرح پیسےکیوں لُٹا رہےہیں؟ تبلیغ کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن تبلیغ تو یہ تھی کہ دوست کو سمجھاتے اللہ کی راہ میں لگا دیں یہ پیسہ اُڑائیں نہیں۔ بہرحال آپ کا نام اور رقم ایف بی آر کی رپورٹ کا حصہ ہے یہ صفائی اُنکو جاکر دیں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے