اعلیٰ تعلیم کی بڑھوتری کےنام پر ،اربوں روپے کی بندر بانٹ کا منصوبہ تیار

اسلام آباد( ڈیسک نیوز) ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ترمیمی آرڈیننس 2021 کے نفاذ کا پردہ فاش، وفاقی حکومت نےچہیتے کرپٹ مشیر و اقرباء میں اعلیٰ تعلیم کی بڑھوتری کے نام پر اربوں روپےکی بندر بانٹ کا منصوبہ بنا لیا۔ وزیر، مشیر، سیکرٹریز کی فوج ظفر موج بروز بدھ اعلیٰ تعلیم کے نام پر قومی وسائل کو لوٹنے سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم و فنی تربیت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن میں وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم، سیکرٹریز، مشیر وزیراعظم، و دیگر کچھ اداروں کے سربراہان کو آن لائن اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق وفاقی و صوبائی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے لئے وسائل بڑھانے، ترقیاتی فنڈز میں اضافہ، جاری ترقیاتی منصوبوں کے پورٹ فولیو رپورٹس و دیگر امور زیر بحث آئیں گے۔
نامور ماہرین تعلیم و سول سوسائٹی کے ممبران نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بدنیتی پر مبنی حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ایچ ای سی چیئر ڈاکٹر طارق بنوری فنڈز کے ہوتے ہوئے فنڈزکی بندربانٹ کا موقع میسر نہ تھا اور ڈاکٹر بنوری کی جانب سے احتساب کا عمل شروع کیے جانے پر ہی ان کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ اس دورِ حکومت میں ایچ ای سی کے بجٹ فنڈ میں تاریخی کمی کی گئی کیونکہ دیانتدار شخص عہدے پر براجمان تھا اور اب غیر قانونی آرڈیننس کے ذریعے ایچ ای سی چیرپرسن کو ہٹا کر اپنے مشیر و دیگر ثابت شدہ کرپٹ و تعلیم فروش مافیا کو مالی فائدہ پہنچانے کے لئے اعلیٰ تعلیم کے نام پر لوٹ مار سیل کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عطاءالرحمن کے تین تحقیقی سنٹرز میں گزشتہ 20 سال کے دوران 40 ارب سے زائد کے فنڈز جھونکےگئے جس سے قومی معیشت کو ایک پائی کا بھی فائدہ نہ ہوسکا جبکہ ڈاکٹر عطاء الرحمن اپنے ریسرچ سنٹرز کیلئے سالانہ ایک ارب روپے کے بغیر احتساب مزید فنڈز کا تقاضہ کر رہے ہیں اور ڈاکٹر طارق بنوری کیجانب سے غیرقانونی کام سے انکار پر ہی ان کو عہدے سے ہٹایا گیا تاہم اب اس کرپٹ مافیا کو مالی فائدہ پہنچانے کے لئے ملکی تاریخ کے ایک اور مالی اسکینڈل کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ماہرین تعلیم و سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے حکومت سے ہوش کے ناخن لینے اور اپنے تعلیمی منشور پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے