نا تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور نا ہی اس کے کردار انوکھے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں سے تواتر کے ساتھ ذرائع ابلاغ بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو رپورٹ کر رہے ہیں۔ اور اب تو یہ بات بھی کھلم کھلا تسلیم کی جا رہی ہے کہ صرف بچیاں غیرمحفوظ نہیں بلکہ لڑکے بھی نشانے پر ہیں۔
بچے گھروں سے لیکر درس گاہوں تک، اور سڑکوں سے لیکر کام کی جگہوں تک ہر جگہ جسمانی، جنسی، نفسیاتی استحصال کے خطرے سے نبرد آزما ہیں۔ دینی مدارس ہوں یا جدید درس گاہیں ہر جگہ کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو بچوں سے ان کا بچپن چھیننے کے درپے ہیں
ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی ملزم کو عدالت کے کٹہرے میں لانے سے پہلے میڈیا ٹرائیل کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس قبیح فعل کی وڈیو شئیر کرنے میں اگر اگے رہے تو دیگر معلومات دینے میں بھی ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہیے ہیں۔ مرکزی میڈیا بھی اسی بھیڑ چال کا شکار ہے۔
لیکن اس مسئلے کے دیگر پہلوؤں پر پر بھی بات ہونی چاہیے۔ جیسا کہ سب مدرسے کا اندرونی انتظامی ڈھانچہ، والدین کا کردار، اس طرح کی ذہنیت والے افراد کی نفسیاتی صحت اور اور ہیجان پیدا ہونے کی وجوہات کا ۔ ایسے معاملات میں میڈیا کی اخلاقی تربیت، قانونی،طبی، نفسیاتی مدد کے لئے کس محکمہ سے رجوع کیا جائے وغیرہ۔
بچوں کی حفاظت کا اولین فریضہ ان کے والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن پے در پے کئی ایک واقعات میں والدین کو فریق نہیں بنایا گیا بلکہ انہیں عمومی طور پرمظلوم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں۔
کیا والدین اپنے بچوں کی گھر میں اور گھر سے باہر سرگرمیوں سے آگاہ ہیں؟
کیا بچوں کے گھروں سے باہر جن لوگوں سے تعلقات ہیں ان کے بارے میں والدین جانتے ہیں؟
بہت چھوٹے بچے اکیلے گھر سے باہر کیوں بھیج دیے جاتے ہیں؟
اقامتی درس گاہوں میں داخلہ کا مطلب یہ ہے کہ اب والدین بچوں کی دیکھ بھال کے فرض سے سبکدوش ہو گیے ہیں؟
مہینوں تک اگر بچے ہوسٹلز سے گھر واپس نا آئیں، تو کیا ان سے مسلسل رابطہ رکھا جاتا ہے؟
بچوں کے رویے میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیا جاتا؟
کیا بچے کی شکایت کو دھیان سے سنا جاتا ہے؟
اگر بچہ کسی ایک شخص یا کچھ افراد سے ڈرتا ہے، یا ان سے نالاں ہے تو اسے زبردستی ان کے ساتھ ملنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟
بچے کو علم سکھانے کے لئے جن لوگوں پر والدین اعتبار کر رہے ہیں، کیا ان کی مکمل معلومات حاصل کی گئی ہیں؟
بچوں کو نوعمری میں خود سے دور کرنے کے فیصلے میں ماں اور باپ دونوں کی رائے لی گئی ہے؟
کیا بچوں کو ذہنی،جسمانی طور پر اس طرح کے خطرات سے نبٹنے کی تربیت دی کر باہر بھیجا گیا ہے؟
آئے روز کے ان چشم کشا واقعات کے بعد بھی اگر والدین ان باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے اور بچوں کے معاملے میں غفلت کے مرتکب ہیں تو اس حوالے سے قانون میں گنجائش نکالنا ہوگی تاکہ والدین کو آئندہ ایسے کیسز میں مظلوم نا سمجھا جائے بلکہ انہیں بھی جوابدہ قرار دیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے جہاں یہ زیادتی ہوئی اور ثبوت موجود ہیں، ان کو انتظامیہ کو بھی شامل تفتیش کیا جانا چاہئے۔
بچپن میں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جذباتی توڑ پھوڑ ان کی شخصیت کو ہمیشہ کے لئے گہنا دیتی ہے۔ ان کے دماغوں میں کمیائی مادوں کا خراج الٹ پلٹ جاتا ہے۔ وہ آئندہ آنے والی زندگی میں بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور بجائے ایک فعال شہری بننے کے بعض اوقات ایسے عناصر میں ڈھل جاتے ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلا لیں، یا اس کے اثر میں اپنی توانائیاں کھو بیٹھیں اور ترقی نا کرسکیں۔
ہمیں بطور سماج اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔