لوگوں کو ترجیح اور کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں عالمی ہم آہنگی وقت کی ضرورت

انسانی حقوق کے حوالے سے منعقدہ چین-یورپ سیمینار 2021 میں شریک متعدد یورپی ممالک کے نمائندگان نے گزشتہ ہفتے ہونیوالے پروگرام میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے چین کے جانب سے جاری عوام تحفظ پر مبنی طرز عمل اور حکمت عملی کی بھر پور انداز میں تعریف و توسیع کی۔

کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال میں چین نے ایک تسلسل کے ساتھ لوگوں اور ان کی زندگی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے اور لوگوں کے زندگی اور صحت کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کو یقینی بنایا گیا ہے ، چین کی جانب سے جاری ان کوششوں کو انسانی تاریخ میں وبائی امراض سے لڑنے اور زندگی اور صحت کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کوششوں کو ایک نئے باب کا آغاز کیا گیا ہے۔

سیمینار کے شرکاء نے "کوویڈ 19 کی بیماری اور بنیادی صحت کے حقوق اور زندگی کی ضمانت” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں، وبائی امراض پر کنٹرول اور عالمی سطح پر اہمیت اس حوالے سے چین کو کو کوششوں کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے ۔

سیمینار میں شریک دنیا بھر کے ممالک کے مندوبین نے کہا کہ چین نے وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے سلسلے میں دنیا میں سب سے زیادہ قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ چینی حکومت نے COVID-19 کے تدارک کے حوالے سے جو ذمہ داری اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ انتہائی متاثرکن ہے۔

کسی ملک کی جانب سے اختیار کردہ نقطہ نظر سے ہی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور اس کے ممکنہ محرکات کے اثرات کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

چین نے جس کامیابی سےانسانی حقوق کے تحفظ میں عوامی مفادات اور تحفظ پر مبنی حکمتِ عملی کی پاسداری کرتے ہوئے ، چین نے تمام مریضوں کو یکساں انداز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں اور وبائی امراض کے خلاف اپنی جنگ میں مریضوں کے علاج اور جان بچانے کے لئے بھرپور کوششوں کو یقینی بنایا یے۔

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں چینی حکومت نے ملک میں بنا کسی تفریق ہر ایک کی زندگی اور وقار کے تحفظ کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی، خواہ وہ 30 گھنٹے کا بچہ ہو یا صد سالہ بزرگ، غیر ملکی طالب علم ہو یا چین میں غیر ملکی شہری، بزرگوں ، معذور افراد ، بچوں ، غریبوں اور کم آمدنی والے افراد سمیت خصوصی گروہوں کی زندگی اور صحت کا تحفظ خصوصی توجہ سے محفوظ بنایا گیا۔

مزید برآں ، چین نے سائنس پر مبنی پالیسیز کے تسلسل کو قائم رکھا اور کرونا وائرس کے خاتمے کے حوالے سےہدف شدہ روٹین، پروٹوکول اور ہنگامی اقدامات کے ساتھ ساتھ وبائی مرض پر قابو پانے اور معاشرتی اور معاشی ترقی کو متوازن اور سماجی ردعمل کو کامیابی سے یقینی بنایا یے ،

اس طرح لوگوں کی معمول کی پیداوار اور روز مرہ زندگی کے عوامل کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا ہے۔

ان تمام کاوشوں سے بشمول عوام کی بھلائی کے حوالے سے جاری خدمات اور عوام کی بھلائی کے حوالے سے کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ چینی عوام کی زندگی کے تحفظ اور احترام کی اولین ترجیح کے ساتھ یقینی بنانا ہے۔

وبائی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے لئے انتہائی سخت ، جامع اور بھرپور اقدامات کے ساتھ ، چین انفیکشن اور اموات کی شرح کو کم سطح پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے)کے انسانی حقوق کے حوالےسے سے منعقدہ کنونشنز میں لوگوں کے حقوق زندگی اور صحت کے تحفظ کی ذمہ داری کو فعال طور پر چین نے پورا کر کے دکھایا ہے اور وبائی مرض کے حوالے سے اپنی زمہ داریاں احسن انداز میں پوری کی ہیں۔

زندگی اور صحت کا حق لوگوں کے حقوق انسانی کا ایک جامع اور بنیادی حصہ ہے۔ یہ انسان کے وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی بنیادی ضمانت ہے۔ جیسا کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 3 میں کہا گیا ہے: "ہر شخص کو زندگی ، آزادی اور فرد کی سلامتی کا حق ہے۔”

کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ، چین نے اپنی طاقت کو بھرپور انداز میں فراہم کیا ہے اور لوگوں کی زندگی اور صحت کے تحفظ کے لئے پورے ملک کو متحرک کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او چین مشترکہ مشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ، COVID-19 پر چین کی تمام حکومت اور تمام معاشرتی نقطہ نظر نے ملک میں سینکڑوں ہزاروں COVID-19 کے واقعات کو ناصرف تدارک یقینی بنایا یے بلکہ موثر اقدامات اور حکمت عملی سے چین نے اسے مزید پھیلنے سے بھی روکا ہے۔

چین کے تجربے نے پوری طرح سے ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق کا مطلب انفرادی اور اجتماعی حقوق کا انضمام ہے ، اور اجتماعی حقوق کے تناظر میں انفرادی حقوق کو ہی زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکتا ہے۔

جیسا کہ قدیم چینی فلسفی کنفیوشس نے بجا طور پر نشاندہی کی ، "کامل فضیلت والا آدمی وہ ہے جو ، اپنی خوبیوں کو حساب کتاب میں تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے ، اور دوسروں کو اپنا محاسبہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔”

وبائی امراض کے خلاف غیر معمولی جنگ میں ، لوگوں کی زندگی اور صحت کے حقوق کے تحفظ کے لئے چین کی کوششوں نے قومی حدود کو عبور کیا۔ اس نے اس امر کی پوری کوشش کی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو وبائی مرض سے لڑنے کی کوششوں میں انسانی ہمدردی کی بناء ہر امداد فراہم کرے ، اور سب کے لئے صحت کی عالمی برادری کی تعمیر کو فعال طور پر فروغ دیا۔

چین نے 150 سے زائد ممالک اور 13 بین الاقوامی تنظیموں کو طبی سامان فراہم کیا ہے ، کوایکس ایک بین الاقوامی پروگرام جس کے تحت تمام ممالک کو یکساں انداز میں کرونا وائرس کے تدارک کے لیے ویکسین فراہم کی گئی۔

،اس پروگرام کے تحت چین نے تمام ممالک کو بنا کسی تفریق ویکسین کی رسائی کو یقینی بنانا ہے ، جس کے تحت چین نے ہنگامی استعمال کے لئے ابتدائی 10 ملین خوراکیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ترقی پذیر ممالک ، اور دنیا کو COVID-19 ویکسین کی 350 ملین سے زیادہ خوراکیں فراہم کی جا چکی ہیں۔جن میں 80 سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو فوری ضرورت میں فراہم کی جانے والی مفت ویکسین شامل ہیں اور 40 سے زائد ممالک کو ویکسین برآمد کی گئی ہے۔

2021 چین-یورپ سیمینار میں شریک ایک فرانسیسی نمائندے کا کہنا تھا کہ کوویڈ ۔19 وبائی مرض کے جواب میں ، جس طرح سے چین نے لوگوں کی صحت اور ترقی دونوں کو اہمیت دیتے ہوے مناسب انداز میں آگے بڑھا ہے، دوسرے ممالک کو بھی اس تجربے کی قدر کرنی چاہئے ،اور انسانی حقوق کے بارے میں صرف اس طرح سے آگے بڑھا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کو صحت کی کثیرالجہتی گورننس پر صحت کی عالمی انتظامیہ کو اس پر یقین کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

کورونا وائرس کے کثرت کیساتھ پھیلاؤ اور تغیرات کو ، دنیا بھر میں COVID-19 کی صورتحال پیچیدہ اور سنگین نوعیت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

دنیا کے ممالک لوگوں کو زندگی اور صحت کے حق کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ، یکجہتی اور تعاون کے ذریعہ اس آزمائشی وقت کو آگے بڑھاتے ہوئے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور وبائی مرض کی سیاست کرنے یا وائرس کا لیبل لگانے کی کسی بھی کوشش کو مضبوطی سے مسترد کرنے کے ساتھ ہی ، وبائی مرض کے خلاف ایک طاقتور ہم آہنگی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جیسے خود غرضی کی کارروائیوں کا مقصد ویکسین پر قومی پرستی کو آگے بڑھانے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

چین انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اپنے عوام پر مبنی طرز عمل پر مستقل طور پر عمل پیرا رہے گا اور چین اور پوری دنیا میں لوگوں کے زندگی اور صحت کے حقوق کے تحفظ کے لئے بلا روک ٹوک کوششیں کرے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے