ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل

پچھلے تین دنوں میں پاکستان کے دو معروف کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل ساگر وفات پا گئے۔

ڈاکٹر صفدر محمود تاریخ پاکستان سے بہت دلچسپی رکھتے تھے اور انھوں نے کئی کتب بھی لکھی ہیں، اس سلسلے میں، جن میں سے بدقسمتی یا خوش قسمتی سے میں نے ایک بھی نہیں پڑھی۔ ہاں البتہ ان کے کئی کالمز پڑھے ہیں، جہاں وہ قائد اعظم کو ہمہ وقت فرشتہ ثابت کرنے کی سعی کرتے رہتے تھے۔

بھئی قائداعظم یقیناً ایک اچھے لیڈر اور انسان ہوں گے۔ جتنا ان کے بارے میں پڑھا ہے اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔

چونکہ وطن عزیز میں تنقیدی سوچ کا شروع سے ہی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور ہر لیڈر کو عقیدت کی نظر سے دیکھنا سکھایا جاتا ہے اس لیے قومی لیڈرز ہمیشہ ہی اچھے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر صفدر محمود سے بس اتنا ہی تعارف ہے اور انھیں پڑھنا بھی مشرف دور میں شروع کیا تھا اس سے پہلے ان سے کسی حوالے سے بھی کوئی شناسائی نہ تھی۔

دوسرے کالم نگار اور مصنف طارق اسماعیل ساگر سے البتہ بچپن سے ہی عقیدت و الفت کے رشتے تھے۔ آپ ماہنامہ حکایت میں لکھا کرتے تھے اور حکایت ہمارے ہاں ہر ماہ ہمارے ابا لایا کرتے تھے۔

میٹرک میں پہنچے تو ان کی کتابیں میں ایک جاسوس تھا، وطن کی مٹی گواہ رہنا، چناروں کی آگ، چناروں کے آنسو، آپریشن بلیو سٹار وغیرہ پڑھیں۔ پھر کالج دور میں ان کی مزید تصانیف نظر سے گزریں اور ابھی چار پانچ سال قبل ان کی آپ بیتی مجھے کھا گئے بھی پڑھی۔

طارق اسماعیل ساگر وطن سے محبت کا درس دیتے تھے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہاں البتہ مبالغہ آرائی سے کام نہیں لینا چاہیے مگر بدقسمتی سے طارق اسماعیل ساگر سمیت ہمارے اکثر تاریخ لکھنے والے مصنفین نے تاریخ کے ساتھ کافی کھلواڑ کیا ہے۔

جب انسان بچہ ہوتا ہے تو اس وقت یہ سب کچھ پڑھ کر بڑا جوش و جذبہ محسوس ہوتا ہے۔ مجھے بھی ہوتا تھا اور میں بھی چاہتا تھا کہ جلد جوان ہو جاؤں اور فوج میں بھرتی ہو کر دشمن کو نیست و نابود کر دوں۔ اور یہ سوچ پیدا کرنے میں طارق اسماعیل ساگر، عنایت اللہ، نسیم حجازی اور صادق حسین صدیقی کا کافی ہاتھ تھا۔

وہ تو میری خوش قسمتی کہ میں شادی کر کے برطانیہ چلا آیا، یہاں مزید تعلیم حاصل کی، اس معاشرے میں گھلا ملا تو عقیدت کی پٹی آنکھوں سے اتری اور حقائق کا تجزیہ غیرجانبداری سے کرنے لگا ورنہ میں شاید اس وقت کارگل کے محاذ پر شہید ہو چکا ہوتا اور آپ اس وقت ان دونوں کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی دعائے مغفرت فرما رہے ہوتے۔

بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کچھ باتیں و کہانیاں بچپن میں ہی بھلی اور سہانی لگتی ہیں۔ جب آپ بڑے ہوتے ہیں تو ان کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے مگر مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ اکثر لوگ بچپن کی کہانیوں کو مرتے دم تک سچ ہی سمجھتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر صفدر محمود اور طارق اسماعیل ساگر بھی اچھے مصنفین اور کالم نگار تھے۔ ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ یہاں شاید کوئی مجھے یہ بتائے کہ ایک انسان مر گیا ہے تو بس اس کی اچھائی ہی بیان کی جائے تو گزارش ہے کہ ان کی اچھائیاں بہت سے لوگوں نے بیان کی ہیں۔ مجھے بھی ان کی اچھائیوں سے کوئی انکار نہیں ہے البتہ ان کے نقطۂ نظر سے اب اختلاف ہے حالانکہ ایک طویل عرصہ تک میں ان کے نقطہ نظر کا حامی رہا ہوں۔

معروف شاعر اور کالم نگار ظفر اقبال صاحب مرزا غالب اور دیگر مرحوم شعرا کی شاعری پر اکثر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار ان سے کسی نے کہا کہ “آپ مرے ہوئے لوگوں کو تو بخش دیا کریں”۔

ان کا جواب تھا” میں مرحومین کی ذات پر تنقید نہیں کرتا بلکہ ان کے لکھے پر تنقید کرتا ہوں اور ویسے بھی انسان مرنے کے بعد ولایت کے درجے پر فائز نہیں ہو جاتا کہ اس کے لکھے ہوئے سے اختلاف نہ کیا جاسکے”۔

مجھے آپ اس سلسلے میں ظفر اقبال کا مقلد ہی سمجھ لیں۔ بہت شکریہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے