سریاب کے دوستوں کا نئے سال کے حوالے سے کتاب میلہ حوصلہ افزا بات ہے، نواب حاجی لشکر رئیسانی
2022 کے پہلے دن سال نو کے حوالے سے’’ پڑو ادبی کچار ی ‘‘اور’’ نشت‘‘ کی جانب سے منیر احمد چوک پے کتاب میلہ لگایا گیا جس میں مختلف سیاسی ، سماجی ، قبائلی و مذہبی حکمرانوں کے علاوہ سٹودنٹس ، شاعر ، ادیب اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی اوراپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع پر بلوچستان کے سیاسی و قبائلی راہنما نواب حاجی لشکر رئیسانی نےاپنے ساتھیوں سمیت کتاب میلے کا دورہ کرتے ہوئے پڑو ادبی کچاری کے چئیرمین سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سریاب کے ساتھیوں نے یہاں ایک سٹا ل لگایا ہے جو ہم سب کے لئے حوصلہ افزا بات ہے کہ آج 2022 نیو ئیر کے حوالے سے انہوں نے سٹال لگایا ہے تاکہ نئے سال کا آغاز علم ادب تہذیب و کتاب خوانی سے ہو سکیں .انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے لوگ کتاب کی طرف زیادہ توجہ دیتے تو آج ہمارے قدرتی وسائل لوٹ مار کے شکار نہیں ہوتے بلکہ آج ہم خود اس پے کام کر رہے ہوتےہمارے پاس اتنے ٹیکنیکل اور پروفیشنل لوگ ہوتے جو بین الاقوامی معیار کے ہوتے اور ریکوڈک ، گوادر اور سیندک کو خود چلانے کا صلاحیت رکھتے ۔
انہوں نے کہ بلوچستا ن انتہائی اہم سر زمین ہے اس کے لوگوں کو علم کے حوالے سے اہم ہونا پڑے گا۔ کتاب ایک ڈائیلاگ کا ذریعہ ہے دو نقطہ نظر کے لوگ جب کتاب لکھتے ہیں تو وہ دو نقظہ نظر کے سماج کے ساتھ ایک ڈائلاگ کا زریعہ کرتے ہیں۔ جہا ں تنازعہ نہیں ہوتا بلکہ علمی ادبی باتوں کا ایکسچینج ہوتا جہاںلوگ ایک دوسرے کے ساتھ کتاب کے ذریعے باتیں کرتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر مدلل طریقے سے بیان کرتے ہیں ۔ہمارے ساتھیوں نے سریاب پے جو یہاں کتابوں کا اسٹال لگایا ہے یہ ایک حوصلہ بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صبح جب میں نے سوشل میڈیا پے دیکھا کہ ہمارے بچو ں نے جو یہ کام نیو ہئیر پے کیا ہے تو میں نے یہ سمجھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے ان کے سٹال پے آئیں اور اپنا نقطہ نظر بھی بیان کریں ۔ ہم بھی کتاب دوست مومنٹ چلارہے ہیں بلوچستان پیس فور م کے ذریعے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں میں لائبریروں میں پچاس ہزار پہنچائی ہیں۔ مزید بھی ہمارے پاس لوگ کتابیں پہنچاتی ہے اور ہم ان کو ایسے اداروں میں لے جائینگے جہاں لوگ اجتماعی طور پے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کتاب دوستی کی طرف جو رجحان بڑ رہا ہے وہ حوصلہ افزا ہیں آج اس سٹال اور سوشل میڈیا کے حوالے سے بلوچستان کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں وہ اپنے بچو ں کا اور خود کو کتاب کی طرف متوجہ کریں تاکہ بلوچستان بہت تیز ی سے بدلتے ہوئے حالات کتاب اور علم کے ساتھ منسلک ہوگا تو ہم ان بحرانوں اور بد بختیوں سے بد حالیوں سے نکلیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ اپنے آپ کو کتاب کے ساتھ جوڑے تاکہ بلوچستان محکومی اور بے روزگاری سے جلد نکل سکیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے کہ پڑو ادبی کچار ی اور نشت ا ٓ ن لائن کی جانب سے سال نو کی مناسبت سے لگائے گئے کتاب میلے کا دورہ کرتے ہوئے کتاب میلہ منقعد کرنے والو ں کےکتاب دوستی ،جزبہ اور حوصلوں کو سراتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں اور کتاب دوستی کو مد نظر رکھتے ہوئے منیر احمد چوک کا نام بدل کر کتاب چوک رکھا جائے۔
تفصیلات کے مطابق سال 2022 کی آمد کے مناسبت سے سال2020 اور 2021 کی طرح پڑو ادبی کچاری کے چئیرمین سعید نور اور ساتھیوں کی جانب سےبلوچستان کے کتاب میلہ لگا کر کیا گیا جس میں مختلف سیاسی ، مذہبی ، قبائلی کارکنوں کے علاوہ سٹوڈنٹس اور مختلف مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے کہا کہ ان ساتھیوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی کتاب میلہ لگاکر اپنے کتاب دوستی کا ثبوت دیا ہے قومی شعور کو اجاگر کرنے اور بلوچ قوم کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لانے کیلئے ان کی کاوشوں کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس سال نو کے مناسبت سے لگائے کتاب میلے میں بلوچستان کے نامور شخصیات نے شرکت کی جن میں نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی، بزرگ سیاستدان ڈاکٹر حئی بلوچ، بی این پی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری، پروفیسر حسین بخش ساجد ، لالا موسیٰ، کامریڈ حمید ریڈ سریاب کے سٹوڈنٹس اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنان نے شرکت کی ۔ پڑو ادبی کچاری کی جانب سے لگائے گئے سال نو کے مناسبت سے لگائے گئے بک میلےمیں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ پڑو ادبی کچاری کے چئیرمین سعید نور،نشت اور ان کے ساتھیوں کی کاوشیں بلوچستان کے مثبت چہرے کو دنیا بھر میں نمایاں کر رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو کتاب کلچر کی اشد ضرورت ہے ہمیں کتاب بینی کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ اگر ہم میں مطالعہ کی کمی ہوگی توہم پر اسمبلیوں میں نالائق افراد حکمرانی کرتے رہینگے ، انہوں نے کہاں کہ آج بلوچستان کے سائل وسائل سب ہم سے چینا جارہا ہے گوادر ہو یا سیندک ،سوئی ہو یا ریکوڈک ان کو اپنا حقوق جاننے کے لیئے ہمیں پڑھنا ہوگا اور ان سے استحصالی قوتوں سے لینا ہوگا۔
انہوں نےکہا کہ پڑو ادبی کچاری جو کہ مسلسل پچھلے تین سالوں سے سال کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لئے جدوجہد کر رہی یہ ان کی ہمت ہے گو کہ ان کی افرادی قوت زیادہ نہیں مگر انہیں حوصلہ اور ہمت سے اس کام کو آگے بڑھانا ہوگا جس کے لئے ہم ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے کتاب میلے کے توسط سے تمام بلوچستان کو یہ پیغام دیا کے وہ سعید نور اور ان کے ساتھیوںجیسے نوجوانوں کی ہر حوالے سے مدد کریں کیونکہ ایسے افراد ہمارے لئے قابل قدر ہیں انہی دوستوں کی وجہ سے بلوچ قوم اور بلوچستان کا مثبت چہرہ سامنے آرہا ہیں جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہیں۔