معاشرہ خواجہ سرا کو قبول کیوں نہیں کرتا؟

ایک ٹرانس جینڈر ھونے میں میرا کیا قصور؟

کیا میرا ٹرانس جینڈر ھونا میرے والدین کی کوئی غلطی ھے؟

معاشرہ ہمیں قبول کیوں نہیں کرتا؟

یہ چبھتے ھوئے اور دل کو بےچین کرنے والے وہ سوال ہیں جو ہمیں روز مرہ زندگی میں نظر آتے ہیں اور ان سوالوں کا جواب شائد ہم بھی درست انداز میں نہیں دے پاتے۔

آج ہم نے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے اور انہیں مطمئن کرنے کے لئے ایک ادنیٰ کوشش کی ہے اور مسجد امام سے گفتگو کی ہے۔

مسجد سلمان فارسی کے امام عبدالرؤف سے پوچھا کہ "میرے خواجہ سرا ہونے میں میرا کیا قصور ہے؟ تو امام صاحب کا کہنا تھا کہ

"الحمداللہ والصلوتہ والسلام علی رسول اللہ”

اگر کسی میں خواجہ سرا والی صفات موجود ہیں تو اس میں انکے والدین کا کوئی قصور نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آ زمائش ہے۔

اللہ تعالیٰ چاہتے تو ان میں کوئی اور عیب بھی بنا سکتے تھے یعنی وہ کسی اور طرح سے بھی معذور ہو سکتے تھے۔ جیسے کہ لنگڑا، بھینگا یا کان کٹا وغیرہ۔

امام صاحب کا کہنا ہے ایسا ہونا ایک خواجہ سرائوں کیلئے ایک آ زمائش ہے انکو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں صبر سے کام لیں اور اپنے لیے دعا کریں۔

جب مفتی صاحب سے استفسار کیا گیا کہ خواجہ سرا کہتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی غلطی کی سزا ہیں؟

اس پر مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ آ پ والدین کی غلطی نہیں بلکہ آپ ان کے لیے ایک آزمائش ہو اور یہاں والدین کو بھی صبر سے کام لینا ہے۔

مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی خوجہ سرا موجود تھے مگر انکی حرکات و سکنات درست ہوتی تھیں وہ صحابہ کرام کے ساتھ نمازیں ادا کرتے تھے اور ان کے ساتھ جہاد پر بھی جاتے تھے۔

امام مسجد کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی حرکات درست نہیں ہوتیں تو اسے علاقہ بدر کر دیا جاتا تھا۔ خواجہ سرا والدین کی آزمائش ہیں۔

جب سوال کیا کہ معاشرہ ہمیں کیوں نہیں قبول کرتا تو امام مسجد کہتے ہیں کہ اس دور میں خواجہ سراؤں کی تعلیم و تربیت پر کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی پہچان بنانے کے لیے ایک الگ طریقہ اختیار کیا اختیار کیا ہے۔

اسی لیے معاشرہ ان کو الگ نظر سے دیکھتا ہے حالانکہ یہ بھی ہم عام انسانوں کی طرح ہیں اور انکو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

ان کو ناچنے گانے اور دوسرے کام کرنے کے بجائے تعلیم حاصل کرنی چاہئیے اور علم و ہنر سیکھنا چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا نام پیدا کر سکیں، تب معاشرہ انہیں ضرور قبول کرے گا۔

مفتی صاحب بتاتے ہیں، حدیث کا مفہوم ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خواجہ سرا آیا جس نے عورتوں کی طرح اپنے ہاتھوں کو مہندی لگا رکھی تھی۔ آپؐ نے فرمایا یہ خود سے عورتوں جیسی چال ڈھال پسند کرتا ہے اور اسے علاقہ بدر کر کے نقیع بھیج دیا، جہاں سرکاری اونٹوں کی چراگاہ تھی۔ استفسار ہوا کہ کیا اسے قتل کر دیا جائے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے نمازیوں کو قتل کر نے سے منع کیا گیا ہے۔

خواجہ سرا کے طبی حوالے سے جب جاننے کی کوشش کی تو ڈاکٹر فاروقی کا کہنا تھا کہخواجہ سرا کی جسامت میں فرق پیدائشی تولیدی مادے میں جینٹک پرابلم کی وجہ ایمبراے میں سیل ڈویژن کے نامکمل ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس کی بڑی وجہ ہارمونک ڈسٹربنس ہوتی ہے۔ جس میں سیل ڈویژن 48=48 فیمیل کے لیے ہوتے ہیں اور میل کے لیے عموما 48=1 ہوتے ہیں مگر بعض اوقات قدرتی طور پر اس سیل ڈویژن میں پوانٹس کی کمی ہونے کی وجہ سے جینز کی ساخت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جو کہ عموما 9 اور 11 سال کی عمر میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس وقت انسان کی حرکات و سکنات کی بنا پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت سیل ڈویژن بنائے گے تناسب کے مطابق درست طریقے سے مردانہ بنانے کے قابل نہیں رہتا اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ اپنے خواہشات بھی زنانہ محسوس کرتا ہے

کیونکہ جو مردانہ صلاحیت قدرت نے رکھی ہے وہ اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے اندر جو خواہش پیدا ہوتی ھے تو وہ عورت والی ہوتی ہے اور وہ عورتوں والی حرکات کرنا شروع کرتا ہے۔

یوں اسے بننا سنورنا اور عورتوں کی طرح رنگین کپڑے پہنا اچھا لگتا ہے۔ڈاکٹر فاروقی کا کہنا ہے کہ ایک وجہ یہ بھی ہوتی ھے۔

اس صورت حال میں کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اسے تمام صلاحیتیں دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور وہ شادی کے قابل نہیں رہتا۔

اس لیے معاشرہ ان کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کے انکے والدین اور بہن، بھائی بھی انکو قبول نہیں کرتے اور سب انکا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

یہی سوال جب مسیحی مذہبی راہنما تنویر چوھدری سے کیا تو انکا کہنا تھا کہ تمام ابراہیمی مذاہب یہودیت کی جڑ سے نکلے ہیں اور الہامی کتابوں اور صحیفوں پر مبنی ہیں۔

جو خدا کی تخلیق کو مرد اور عورت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ جسکا اکثر اس موضوع پر بحث کے دوران حوالہ دیا جاتا ہے۔

تاہم کچھ مسیحی فرقوں بشمول چرچ آف انگلینڈ، ایسکول چرچ، امریکہ میں ایو نینجکل لوتھرن چرچ اور پریسٹیرینچتچ نے مقررہ خواجہ سرا پادریوں کو اجتماعات میں خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی ہے اور خواجہ سراؤں کو خوش آمدید کہا ہے۔

قارئین آج ہم بات کریں گے اس صنف کی جس کو معاشرے میں قبول نہیں کیا اور ہم سبھی ان لوگوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے حالانکہ اس پیدائش میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے نہ ہی ان کےوالدین کا کوئی قصور ہے مگر ہمارے معاشرے کی تنگ نظری ہے کی ان کو دل سے قبول نہیں کرتے وہ کہیں بھی جائیں ان کو چھبتی ہوئی نظروں کا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنی اس بے بسی اور بے چارگی پر وہ بہت دکھی نظر آتے ہیں اور ہم نے ان سے اس سلسلے میں بات کی کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹرانس جینڈر ہونے میں ہمارا کیا قصور ہے؟

کیا ہم اپنی اس حالت کے خود زمہ دار ہیں؟

یا ہم انے والدین کے کسی گناہ کی سزا ہیں؟

قاریئن اسی سوال کے جواب کے لیے ہم پہنچے اسلامک اسکالر نوشابہ غنی کے پاس اور ہم نے ان سے یہی سوال کیا کیا کسی کا ٹرانس جینڈر ہونا ان کے والدین کی کوئی خطا ہے؟

تو محترمہ کا کہنا تھا یہ بات کہنا ماں باپ کے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ انکے ٹرانس جینڈر بچے انکے گناہوں کی سزا ہیں ۔

انہوں نے کہا کوئی والدین یہ نہیں چاھتے کہ ان کہ ایسی اولاد ہو جو ان کے لیے آزمائش بن جائے ان کا کہنا تھا کہ جب بچے دنیا میں آنے والے ہوتے ہیں تو ماں باپ اتنے خوش ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو ایک بہت بڑی نعمت سے نوازنے والے ہیں ۔ اور انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ انہیں اللہ تعالی کون سی نعمت عطا کرنے والے بیٹی یا بیٹا مگر جب ہمارے ہاں اس قسم کے بچے کی پیدائش ہوتی ہے یعنی ٹرانسجینڈر کی تو ہم ایک تماشا بن کر رہ جاتے ہیں اور دنیا کے سوالوں کے جواب دیتے دیتے تنگ آ جاتے ہیں۔

مذہبی سکالر نوشابہ غنی کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم کے دور میں حرم میں خواجہ سرا صفائی کا کام سر انجام دیتے تھے ایک مرتبہ اسی طرح ایک خواجہ سرا نے اپنے ہاتھوں پر مہندی لگائی اور وہ حرم کے کام کے لیے اندر داخل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار گزرا اور آپ نے فرمایا کہ اس کو در بدر کر دو اس پر صحابہ کرام نے فرمایا آپ کہں تو اس کو قتل کر دیں اگر آپ کا حکم ہو تو آپ نبی کریم نے فرمایا نہیں نمازی کو قتل کرنا منع ہے ۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی ان سے کام لیا جاتا تھا تو ان کو روز گار کے مسائل نہی ہوتے تھے اور ان کی گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔مگر اس دور میں ان کے پاس کام اور روزگار نہیں ہے تو انہوں نے ناچ گانے کو اپنا روز گار بنا لیا جس کی وجہ سے انکو معاشرے میں اچھا نہیں سمجھتے ۔

اس طرح ہم نے بات ایک مسیح خاتون فلمینا مسیح سےجنکا روز گار لوگوں کے گھروں میں کام کرنا ہے اور اس طرح وہ اپنے گھر کا سسٹم چلا رہی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صبح سے اپنے گھروں سے روزگار کے لیے نکلتے ہیں ہم اتنی محنت کرتے ہیں لوگوں کے گھروں کو صاف کرتے ہیں ان کے میلے کپڑوں کو دھوتے ہیں ان کے گھر کو سجا سنوار کر رکھتے ہیں مگر ہمیں پھر بھی وہ مقام اور وہ عزت نہیں ملتی وہ جو اور لوگوں کو ملتی ہے فلمینا نہ کہنا تھا کہ ہم جس گھر میں کام کرتے ہیں اور ان کے گھر کو صاف کرتے ہیں مگر جب وہیں پر کھانے کا وقت آتا ہے تو انہوں نے ہمارے لئے کھانے کے برتن علیحدہ رکھے ہوئے ہیں اور یہاں فرق واضح رکھا ہوا ہے کہ ہمارے کھانے کے برتنوں کو الگ رکھا ہوا ہے ہم ان برتنوں میں نہیں کھا سکتے جس میں وہ خود کھانا کھاتے ہیں تو فرق کی وجہ سے ہمیں بہت احساس اور تکلیف ہوتی ہے ان رویوں کی وجہ سے فلمینا کا کہنا تھا کہ پڑھے لکھے باشعور لوگ جو ہیں وہ بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چائیے ۔ یہ ہی سوال ہم نے برگیڈیئر نادر سلطانہ سے کیا۔

[pullquote]کیا میں اپنے ماں باپ کے گناہوں کی سزا ہوں؟[/pullquote]

تو ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا تھا کہ کی پیدائشی طور پر تولیدی مادے میں جینٹک پرابلم کی وجہ سےاسکی ساخت اور جسمانت پر فرق آ جاتا ہےاور اسکی بڑی وجہ ہارمونک ڈسٹربنس ہے جس میں سیل ڈویزن 48، 48میل کے لیے ہوتے ہیں اور 48،1 فیمیل کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر بعض اوقات قدرتی طور سے اس سیل ڈویزن مین پوائنٹ کی کمی ہونے کی وجہ سے جینز کی ساخت میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور یہ تبدیلی نو اور گیارہ سال کی عمر میں محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس وقت انسان کی حرکات و سکنات کی بنا پر محسوس کیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت سیل ڈویزن بنائے گئے ریشو کے مطابق صیح طریقے سے مردانگیت بنانے نہی رہتا اور اس تبدیلی کی وجہ سے وہ اپنے اندر خواہشات بھی فیملی کی طرح محسوس کرتا ہے کیونکہ جو میل سسٹم قدرت نے رکھا ہے وہ اس میں ناپید ہو جاتا ہے کیونکہ اسکے اندر جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ فیمیل والی حرکتیں کرتا ہے اسے میک اپ کرنا رنگین کپڑے پہننا جیولری وغیرہ استمعال کرنا اچھا لگتا ہے۔

آخیر میں اس سسٹم میں کوئی دوائی وغیرہ اثر نہی کرتی ،اسکی تمام صلاحیتن دم توڑتی نظر آتیں ہیں اور وہ شادی کے قابل نہیں رہتا اس لیے پھر انکو انکے گھر والے اور معاشرہ بھی قبول نہیں کرتا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے