خانہ بدوش : ہم وہ مسافر ہیں جن کی کوئی منزل نہیں کوئی گھر نہیں

قارئین آج ہم بات کریں گے کچھ اپنے ایسے ہم وطنوں کی جو مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں ۔جی ہم بات کررہے ہیں اپنےان ہم وطنوں کی جن کو عام زبان میں خانہ بدوش کہا جاتا ہے اور ہم خود بھی ان کو اسی نام سے پکارتے ہیں ۔

جی یہ خانہ بدوش لوگ ہیں جو ہمیشہ سفر کی حالت میں رہتے ہیں ان کا کوئی اپنی ذاتی ملکیت کا گھر بار نہیں ہوتا، ان کا کہنا ہے کہ نہ ہی ہماری کوئی زمین ہے اور نہ کوئی چھت ہمارے سروں پر ہے ہم کہیں بھی جائیں وہاں ہم چاہے دس دن رہیں یا ایک ماہ ہم مسافر ہی رہیں گے، یہ مسافت کتنے دن کا ہے؟ کب تک ہے ہمیں معلوم نہیں ۔

ہماری کیا ضروریات ہیں کبھی کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی ۔ہمارے خاندان میں کتنے لوگ ہیں؟ ہمارہ ذریعہ معاش کیا ہے؟ اس سے بھی کسی کو کوئی سروکار نہیں ، ہم کتنی مشکلات سے اپنے بچوں کے ساتھ ایک مشکل زندگی گزار رہے ہیں ، یہ بھی کبھی کسی نے جاننےکی کوشش نہیں کی…! آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم کس طرح مشکل سے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ بات یقینا آپ کے علم میں بھی ہو گی کہ خانہ بدوش دنیا کے زیادہ تر ممالک میں اس وقت بھی موجود ہیں اور بہت سے ممالک میں حکومت ان کی سرپرستی بھی کرتی ہے وہ اس طرح کہ اگر کسی خانہ بدوش خاندان نے کسی ایسی جگہ پر جہاں سبزہ اور پانی موجود ہے اور انہوں نے وہاں اپنی جھگیاں ڈال لیں ہیں تو ان کو حکومت کی جانب سے وہاں رہنے کی اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ وہاں جب تک رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں اور اس جگہ پر کوئی تعمیراتی کام نہیں کروا سکتے کیونکہ ان کے ساتھ ان کے سفر میں ان کے مددگار جانور بھی ہوتے جیسے گھوڑے خچر وغیرہ جو ان کا ضروریات کا سامان لاد کر ان کے ساتھ چلتے ہیں اور جانوروں کا اور ان کا ہمیشہ کا ساتھ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ ان کے گھر کے باورچی خانے کو چلانے کے لیےان کے بھیڑ بکریاں وغیرہ ہوتی ہیں اور یہ ان کا دودھ بیچ کر گزارہ کرتے ہیں اور مقامی لوگوں پر تازہ دودھ اور مکھن بھی فروخت کر کے اپنا گزارہ بھی کرتے ہیں ۔اور اسی طرح اپنے جیون کی گاڑی کو رواں دواں رکھتے ہیں ۔

مگر اس خانہ بدوش والی زندگی میں بے شمار محرومیوں کا شکار بھی ہوتے ہیں جیسے تیسے کر کے یہ اپنے بچّوں کو خوراک اور کپڑے تو مہیا کر دیتے ہیں مگر زندگی کی بہت سی بنیادی چیزوں سے محروم رہتے ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے ۔

ہمارے ہاں خانہ بدوش کی آ بادی جو کہ تین سے چار سو لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ان کو ہمیشہ گندے نالوں کے قریب آباد دیکھا گیا ہے جہاں یہ رہ رہے ہوتے ہیں اور یہ ان جگہوں پر رہنے پر مجبور ہیں جو قوانین کے سخت خلاف ہے ۔جس سے انکی صحت خراب رہتی ہے اور یہ وہی گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں ڈاکٹر بھی ان کو میسر نہیں ہوتا وہیں ان کے جانور ہوتے ہیں جو ایک ہی فضا میں سانس لے رہے ہوتے ہیں ۔

اس کے علاوہ ان کی تعلیم کا بھی کوئی سسٹم نہیں ہوتا جو کہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کے شناختی کارڈ بھی بنوائے جاتے ہیں تو اس حساب سے ان کا حق بھی زندگی کی تمام سہولیات پر ہونا چاہیے تاکہ ان کے بچے بھی تعلیم حاصل کر کے پاکستان کے باعزت شہری بن کر ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزار سکیں ۔

یہاں ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک میں جہاں بھی خانہ بدوش آ باد ہوں حکومت کی طرف سے ان کے بچوں کو کتابیں اسکول بیگ اوراسکول کے یونیفارم مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اسٹوڈنٹس کی ڈیوٹیز لگائی جائیں تاکہ یہ جہاں بھی ہوں وہی پر یہ تعلیم کے ساتھ کچھ ہنر بھی سیکھتے جائیں ۔پڑھنا لکھنا ہر ایک کا حق ہے اور یہ بھی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں جس میں ہم سب کو مل کر ان کا ساتھ دینا ہو گیا اور یہ وقت کی ضرورت ہے ۔

ایک ایسی ہی مثال گجر خان کی نازنین کی ہےجنہوں نے تین مضامین میں ماسٹرز کر کے اپنا ایک منفرد مقام حاصل کیا جو کہ سب کے لیے اور خانہ بدوشوں کے لیے قابل فخر بات ہے اور انہوں نے کتنی مخالفت کا سامنا کیا ان کو اور ان کے والدین کو ساری خانہ بدوش برادری نے چھوڑ دیا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کامیابی حاصل کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔یہ سب کے لیے ایک بہت بڑی مثال ہے۔

وہ اب یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی زندگی بہترین گزارنےکے لیے حکومتی سطح پر تمام سہولیات میسر ہونی چاہیں کہ یہ ہمارہ حق ہے اور دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں حکومت کی طرف سے گھر مہیا کیے جائیں تاکہ ہم بھی بہتر زندگی گزار سکیں ۔ کیونکہ ہمارے مسائل زیادہ ہیں ہمیں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم راتوں کو سکون کی نیند بھی سو نہیں سکتے کیونکہ ہمارے ساتھ خواتین اور بچیاں بھی ہوتیں ہیں ۔جن کی حفاظت کی خاطر ہم رات رات بھر جاگتے ہیں کیونکہ یہ کپڑوں کی بنی جھگیاں ہمارے خاندان کی حفاظت لیے کافی نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم وہ مسافر ہیں، جن کی کوئی منزل نہیں کوئی گھر نہیں مگر اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک پاکستانی شہری ہوتے ہوئے ہمارے لیے ان تمام سہولیات کا ہونا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے ہم حکومت وقت کے انتظار میں ہیں کب کوئی ہماری آ واز پر لیبک کہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے