بھارت میں مسلح افراد نے مسلمان ممبر قانون ساز اسمبلی اور ان کے بھائی کو پولیس حراست میں قتل کردیا، آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے قتل کی شدید مذمت۔
ایم ایل اے عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کا پولیس کی حراست کے دوران مسلح افراد کے ہاتھوں قتل اور قانون کی دھجیاں اڑانے والا یہ واقعہ ریاست اترپردیش میں دن دیہاڑے پیش آیا۔
قتل کے مقدمے میں ایم ایل اے عتیق اور دیگر دو افراد کوعمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اشرف کو مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔
There is no law, there is no order – Only Encounter! UP, India. pic.twitter.com/8aNoM8D23M
— Ashok Swain (@ashoswai) April 15, 2023
دونوں بھائیوں کو پولیس حراست میں میڈیکل چیک اپ کیلئے اسپتال لائے جانے کے بعد واپسی پرمیڈیا سے گفتگو کے دوران گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
ایک روز قبل ہی ایم ایل اے عتیق کے بیٹے کو بھی ایک مبینہ مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔
عتیق اور ان کے بھائی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ہتھکڑی لگے بھائیوں کا قتل اور ہندو انتہا پسندی پر مبنی نعرے ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ کی امن وامان کے قیام میں ناکامی کا بڑا ثبوت ہیں۔