متاثرین دیامربھاشہ ڈیم کی خصوصی پیکیج میں 8 کروڑ 93 لاکھ کی مبینہ کرپشن،سابق ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد ملوث قرار!

یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنردیامر(کلکٹردیامربھاشہ ڈیم) فیاض احمد نے اپنے دو سالہ پیرئڈ میں دیامر کے اندر لوٹ مار،کرپشن اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے 19 چولھوں کی غیرقانونی ادائیگی کی ہے، جس کی رقم 8 کروڑ 93 لاکھ روپے بنتی ہے۔

واضح رہے کہ متاثرین دیامربھاشہ ڈیم کو "چولھا پیکیج” جنرل پرویز مشرف نے متاثرین کی ملک کے روشن مستقبل کیلئے دی جانے والی لازوال قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلان کیا تھا۔یعنی جن متاثرین کے گھر ڈیم کے زد میں آچکے ہیں وہ چولھا پیکیج کا حقدار ہوگا۔

19 چولھوں میں مبینہ کرپشن کی بات پہلی مرتبہ اس وقت منظرعام پر آئی جب متاثرین ڈیم کو انکے حقوق دینے میں سابق ڈی سی ہر قسم کے منفی حربے استعمال کررہا تھا تو متاثرین دیامربھاشہ ڈیم کے مطالبے پر اس وقت کے ڈویژنل کمشنر دلدار احمد ملک نے کمیٹی تشکیل دے کر 8 جنوری 2023 کو تفصیلی رپورٹ پیش کرکے سابق ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد کی جانب سے کی جانے والی 8 کروڑ 93 لاکھ روپے کی مبینہ کرپشن پر مہر ثبت کردی۔

بعد ازاں عوامی شکایت پر وزیراعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے ڈپٹی کمشنر فیاض احمد کا تبادلہ گلگت کرکے انہیں نہ صرف انکی کرپشن پر خاموش ہوئے بلکہ انہیں مزید ترقی دے کر اپنا ڈی ایس بنا دیا۔

دوسری مرتبہ کمشنر دیامر استور ڈویژن التمش جنجوعہ نے پھر سے مذکورہ کیس کی تحقیقات شروع کرکے رپورٹ پیش کی جس میں مذکورہ ڈی سی فیاض کو بدعنوان قرار دے کر اس وقت کے چیف سیکریٹر محی الدین احمد وانی کو ارسال کی لیکن تاحال کاروائی نہیں کی گئی۔

اس کے بعد موجودہ وزیراعلی حاجی گلبر خان اور صوبائی مشیرجنگلات حاجی شاہ بیگ نے ایک مرتبہ پھر مذکورہ ڈپٹی کمشنر کو دیامر تعینات کرنے کی کوشش کی تو اکیس فروری 2023 کو غلام دستگیر نامی شخص نے ڈپٹی کمشنر فیاض احمد کے خلاف نیب،ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں بمعہ ثبوت درخواست دائر کی تاہم اب بھی تک کاروائی سردخانے کی نظر ہوئی ہے۔

غلام دستگیر نامی شخص نے اپنے درخواست میں یہ بھی کہا تھا کہ دیامر کے علاقے نیاٹ روڈ معاوضات میں فیاض احمد نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے کروڑوں کرپشن کی۔بعد ازاں نیاٹ روڈ میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر اے سی داریل خالد انور کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تو مذکورہ ڈی سی نے ایک سیاسی مشیر کے ڈیکٹیشن پر سر تحقیقاتی رپورٹ کو سردخانے کی نظر کردی۔

دیامربھاشہ ڈیم تعمیر کرنے والی مختلف کمپنیوں میں رینٹ پر لگایا جانے والی پرائیویٹ گاڑیوں کے مد میں کروڑوں کمیشن ہڑپ لی گئی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اب پھر سے موجودہ وزیراعلی گلگت بلتستان حاجی گلبرخان سابق ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد کو دیامر اس لیئے تعینات کرنا چاہتا تاکہ تانگیر کے علاقے میں کئی کنال زمین ڈیم کی زد میں آچکی ہے اور تاحال واپڈا کی جانب سے ادائیگی نہیں ہوئی میں کروڑوں غیرقانونی زمین اپنے نام لکھوا کر قومی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگانے کا پلان تیار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے