عدلیہ کی تاریخ کا اک عہد تمام، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آج ریٹائر ہوجائیں گے

عدلیہ کی تاریخ کا اک عہد تمام ہونے کو ہے اور آج چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ریٹائرہوجائیں گے۔

چیف جسٹس کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے عشائیہ دیا گیا جس میں نامزد چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی شریک ہوئیں۔

عشائیہ میں جسٹس نعیم افغان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین خان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال حسن ،جسٹس عرفان سعادت خان بھی شریک تھے۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید عشائیہ میں شریک نہیں ہوئے جب کہ جسٹس منصور علی شاہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔

تقریب میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، ججز ، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین فاروق ایچ نائیک، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہزاد شوکت، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کے علاوہ سینئر وکلا نے بھی شرکت کی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ آج آخری دن چیمبر ورک کریں گے اور ان کے لیے فل کورٹ ریفرنس آج ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیرئیر پر ایک نظر

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 15 سال تک جج اور 13 ماہ تک بطور چیف جسٹس آف پاکستان ذمے داریاں ادا کرنے کے بعد آج اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

قاضی فائز عیسیٰ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھی قاضی محمد عیسیٰ کے بیٹے ہیں، قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے والد کی طرح برطانیہ کے قدیم ترین تعلیمی ادارے مڈل ٹیمپل سے بار ایٹ لا کی سند حاصل کی۔

قاضی فائز عیسیٰ کوعدلیہ بحالی وکلا تحریک کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں 2009 میں براہ راست بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔

قاضی فائز عیسیٰ 5 ستمبر 2014 کو سپریم کورٹ کے جج بنے، وہ فوجی عدالتوں کے قیام کی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کا اقلیتی فیصلہ دینے والے ججوں میں شامل تھے۔

قاضی فائز عیسیٰ میمو کمیشن کے سربراہ بھی رہے اور اس وقت کے صدر آصف زرداری کو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات سے بری کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیا تو اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس دائرکیا، سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ نے کثرت رائے سے یہ ریفرنس کالعدم قراردیا۔

بطور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے4 سال سے نہ ہونے والی فل کورٹ میٹنگ بلائی، 9 سال بعد سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دیا جس نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی توثیق کی، اس قانون کے تحت بینچوں کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار 3 رکنی ججز کمیٹی کو سونپ دیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں شفافیت کیلئے عوامی مفاد کے مقدمات کی براہ راست نشریات جیسا اہم فیصلہ کیا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے جنرل پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ پر ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا لگا دھبہ صاف کیا اور اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا۔

قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں عوامی نمائندوں کی 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا، ارکان پارلیمنٹ سے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے نام پر ووٹ کا حق چھیننے سے متعلق آئین ری رائٹ کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قراردیا۔

قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے دور میں معطل شریعت اپیلٹ بینچ بحال کیا اور 21 سال سے زیر التوا مقدمات کے فیصلے دیے، خواتین کو وراثت میں حق دینے کا اہم ترین فیصلہ دیا، ڈیم فنڈ اور 190 ملین ڈالر کیس میں سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع تقریبا 90 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کے فیصلے دیے۔

عدلیہ میں احتساب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف کرپشن الزامات پر جوڈیشل کونسل کے ذریعے تادیبی کارروائی کی، شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ کالعدم کیا اور عدلیہ میں مداخلت کا ازخود نوٹس لیا۔

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف فیصلے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور ان کے خلاف ایکسٹینشن کا پروپیگنڈہ کیا گیا۔

قاضی فائز عیسیٰ وہ پہلے جج تھے جنہوں نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے اثاثے رضاکارانہ طور پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ڈالے، حکومت سے نہ تو کوئی پلاٹ لیا، نہ گاڑی اور نہ کوئی پروٹوکول ہی لیا۔

بطور چیف جسٹس پیدل بھی سپریم کورٹ آتے رہے، انہوں نے زیارت میں اپنی آبائی زمین قائد ریزیڈینسی اور بلوچستان حکومت کو عطیہ کر دی۔

حجامت کرانے گیا تو نوجوان فیشل کرارہا تھا جس وجہ سے تقریب میں دیر ہوئی: جسٹس فائز کی بات پر قہقہے

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز تقریب میں تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا حجامت کروانے کیا جس کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔

گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا مجھے تقریب میں جلدی پہنچنے کی عادت ہے لیکن جسٹس نعیم افغان نے کہا تقریب میں حجامت کروا کر آئیےگا، حجامت کروانے گیا تو ایک نوجوان فیشل کروا رہا تھا جس سے تاخیر ہوگئی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا فاروق ایچ نائیک کو تب سے جانتاہوں جب میں نے وکالت شروع کی تھی، فل کورٹ سے متعلق ٹاک شو دیکھ رہا تھا، سب کہہ رہے تھے چیف جسٹس یہ کریں گے فلاں جج وہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا ٹاک شو میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا پوچھا گیا تو تجزیہ کار نے کہا ان کا کسی کو معلوم نہیں، تجزیہ کار بولا جسٹس یحییٰ آفریدی جو بھی کریں گے آئین کے مطابق کریں گے، لوگ ہمیں سمجھ گئے لیکن جسٹس یحییٰ آفریدی کو نہیں سمجھ پائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا میں 1982 سے کام کر رہاہوں، 42 سال سے مسلسل کام کر رہا ہوں، ایک ماہ کی چھٹیاں لیتا تھا لیکن اب تو کافی عرصہ ہوگیا چھٹیاں لیے ہوئے، بلوچستان ہائیکورٹ میں جتنے بھی ججز کی نامزدگی کی سب کی تعیناتی ہوئی۔

خیال رہے کہ بطور چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا آج آخری روز ہے، اگلے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی ہوں گے جن کی منظوری خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے ججز نے دی تھی اور پھر وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے بطور چیف جسٹس پاکستان تعیناتی کی منظوری بھی دے دی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے