وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انتشار کے کارکنان نے سوچی سمجھی سازش کے تحت قیدی وینز پر حملہ کر کے ملزمان کو فرار کروانے کی ناکام کوشش کی، حملہ کرنے والوں میں ملوث پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے بیٹے سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
سنگجانی ٹول پلازہ پر قیدیوں کی گاڑیوں پر حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کچھ دیر قبل ٹول پلازہ پر قیدیوں کی وینوں پر حملہ کیا گیا، حملہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا، گرفتار ملزموں کو فرار کروانے کی کوشش ناکام کی گئی مگر پولیس نے بہادری اور دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا اور 19 ملزمان کے فرار کی کوشش ناکام بنادی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انتشار کے کارکنان نے یہ حملہ اُس وقت کیا جب ملزمان کو اٹک جیل منتقل کیا جارہا تھا، پولیس وینز پر حملہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے، حملہ کرنے والے خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کے ایم پی اے لیاقت کے صاحبزادے سمیت پانچ چار افراد کو گرفتار کر کے دو گاڑیاں اور دو پستول قبضے میں لے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انتشار کی ایک تاریخ رہی ہے، 9 مئی کو فوج پر حملہ اور شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی، پی ٹی وی پر انہوں نے حملہ کیا، پارلیمنٹ پر دھاوا بولا اور قبریں بھی کھودی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ قیدی وین میں 82 ملزمان سوار تھے سنگجانی کے مقام پر جیسے ہی گاڑیوں کی رفتار آہستہ ہوئی تو جرائم پیشہ افراد اور گینگ کی صورت میں حملہ کیا گیا۔
وزیر اطلاعات نے تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات کے حملے سے متعلق ردعمل کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ انہیں سنگین جھوٹ بولتے ہوئے شرم آنی چاہیے، فلمی انداز سے سب کچھ بیان کر کے مکر اور فریب کرنے والوں نے جھوٹ بولا۔
انہوں نے بتایا کہ فرار ہونے والے 19 قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ گرفتار افراد کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جارہا ہے اور باقی گاڑیوں و ملزمان کا تعاقب بھی کیا جارہا ہے جبکہ باقی افراد کی شناخت بھی ہوچکی ہے، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو مثال بنائیں گے تاکہ دوبارہ کسی کی ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملہ کرنے والوں کی تعداد 25 سے 30 تھی، شواہد کی بنیاد پر سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں گے۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ٹول پلازے کی ساری سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، پی ٹی آئی کے ترجمان کو اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہوئے شرم آنی چاہیے، جھوٹ، مکر اور فریب کے علاوہ ان کا دوسرا کوئی کام نہیں ہے، جرائم پیشہ افراد اور گینگ کی طرح قیدیوں کی وین پر حملہ کر کے ملزمان کو فرار کروایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت اگر 9 مئی کے ملزمان کو سزا دیتی تو ایسے حملے کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔
قیدیوں کی وین پر حملہ: ترنول کے ایس ایچ او نے اپنے ہاتھ سے وین کے شیشے توڑے، علی امین کا الزام
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے سنگجانی ٹول پلازہ پر پیش آنے والے واقعے کو ڈرامہ قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ جعلی حکومت اور اسلام آباد پولیس آئے روز جعلی ڈرامے کر رہی ہے، یہ ڈرامے بند کرنے پڑیں گے، بار بارتنبیہ کر رہا ہوں، ملک کے اندر لاقانونیت کا راج قائم کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں تو آپ کو پتا ہوگا کہ ہماری صوبائی حکومت بھی ہے، ہمارے ایک وزیر، ایم پی اے اور ورکرز، سرکاری اہلکاروں کی آج ضمانت ہوئی تھی۔
علی امین گنڈا پور نے الزام لگایاکہ جیل لے جاتے ہوئے ترنول کے ایس ایچ او نے اپنے ہاتھ سے وین کے شیشے توڑے، ڈرامہ رچا کر پریزن وین کے تالے توڑ کر سب کو نیچے کھڑا کیا گیا، ایک ڈرامہ رچایا گیا کہ یہ لوگ فرار ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ وارننگ دے رہا ہوں اس طرح کے ڈرامے نہ کریں، اگر گرفتار کیا ہے تو ان لوگوں کو خیریت سے پہنچائیں، کسی کو کچھ بھی ہوا تو ایس ایچ او ترنول اور ڈی پی او ذمہ دار ہوں گے، ڈی آئی جی، آئی جی اور پھر وزیر داخلہ ذمہ دار ہوں گے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے سنگجانی ٹول پلازہ پر قیدیوں کو لانے والی 3 گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ڈی چوک احتجاج میں گرفتار ہونے والے پی ٹی آئی کے 3 ایم پی ایز سمیت متعدد قیدی فرار ہوگئے تاہم بعدازاں پولیس نے تمام قیدیوں کو گرفتار کرلیا۔
حملے میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 4 حملہ آوروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
اسلام آباد میں قیدیوں کی وینز پرحملہ، 2 مفرور پی ٹی آئی ایم پی ایز سمیت تمام قیدی دوبارہ گرفتار
اسلام آباد میں سنگجانی ٹول پلازہ پر 3 قیدیوں کی وینز پرنامعلوم ملزمان کے حملے میں فرار ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے 2 ارکان صوبائی اسمبلی سمیت تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈی چوک احتجاج کے 82 ملزمان کو عدالت پیشی کے بعد اٹک جیل منتقل کیا جارہا تھا۔
ذرائع نے بتایاکہ سنگ جانی ٹول پلازہ پر 3 قیدیوں کی وینز پرنامعلوم ملزمان نے حملہ کردیا اور حملے مں پی ٹی آئی کے تین ایم پی ایز سمیت متعدد قیدی فرار ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا تھاکہ قیدیوں کی وین میں ایم پی اے انور زیب، لیاقت، یاسر قریشی بھی موجود تھے جبکہ وین میں گرفتار سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکار بھی تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی وینز کے سنگ جانی ٹول پلازہ پہنچنے پر پہلے سے موجود ملزمان نے فائرنگ کی اور حملے میں ملزمان نے فائرنگ کرکے پرزن وینز کے ٹائر برسٹ کیے۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ ملزمان کی فائرنگ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق پولیس نے فرار ہونے والے متعدد ملزمان کو دوبارہ گرفتار کرلیا ہے، دوبارہ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک ایم پی اے کا بیٹا بھی شامل ہے۔
فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا: آئی جی اسلام آباد
دوسری جانب جیو نیوز سے گفتگو میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھاکہ تین قیدی وینز میں 82 ملزمان موجود تھے جنہیں پیشی کے بعد اٹک جیل منتقل کیا جارہا تھا، سنگجانی ٹول پلازہ کے پاس نامعلوم ملزمان قیدی وین پر حملہ آور ہوئے اور حملے کے بعد کچھ قیدی وین سے فرار ہوگئے۔
انہوں نے بتایاکہ فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے، انہیں اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے اور پولیس نے قیدیوں کو فرار کروانے کی کوشش ناکام بنادی۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھاکہ فرار ہونے والوں میں 2 ایم پی اے بھی شامل تھے جنہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، حملہ آوروں کی تعداد 18 سے 20 تھی جن میں ایک ایم پی اے کا بیٹا بھی شامل تھا اور پولیس نے چار حملہ آوروں کو بھی گرفتار کیا ہے جن میں ایم پی اے کا بیٹا، ایک پولیس اہلکار اور 2 دیگر ملزمان شامل ہیں۔