وہ دسمبر کی ایک صبح تھی، ہم ٹیکسلا کی جانب محو سفر تھے. ٹیکسلا جو قدیم تہذیب کا خزینہ اور آثار قدیمہ کا نگینہ ہے.ہم نے دیکھنا تھا، اڑھائی ہزار برس قدیمی شہر کا طرز زندگی، وہ شہر سرکپ تھا. Indo greeks کا بسایا، سرکپ.
ٹیکسلا کا یہ دوسرا قدیمی شہر ،ایک دیو مالائی لوک کہانی کے کردار کی نسبت سے سرکپ کہلاتا ہے.
باختریوں کا بسایا سرکپ
یہ فصیل دار شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا. مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو ایک طرف، کنویں اور دوسری طرف دربان کے کمرے کے آثار نظر آتے ہیں.تھوڑا آگے چلیں تو عوام کی رہائش گاہوں، بازار اور مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کے آثار موجود ہیں، جن میں جین مت، بدھ مت، ہندو مت اور عیسائیت شامل ہیں. ان کے علاوہ منتی سٹوپا اور سورج دیوتا کے پجاریوں کے مندر کے آثار بھی موجود ہیں. سورج دیوتا کا مندر، عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ، گھڑیال کے طور پر استعمال ہوتا تھا. اس عمارت میں تکون شکل کی آٹھ بنیادیں ہیں، یعنی اس عمارت کے آٹھ حصے، دن کے آٹھ پہر کو ظاہر کرتے ہیں.
سرکپ میں چھوٹا گول سٹوپا، اس شہر کی قدیم ترین عمارت ہے، کیونکہ یہ سٹوپا، سرکپ کی تیسری تہہ سے دریافت ہوا. 2 سروں والے عقاب کا مندر بھی موجود ہے جس میں دو تہذیبوں کے رنگ نظر آتے ہیں. اس کے ستون اور اندرونی بناوٹ یونانی طرز کی ہے جبکہ بیرونی خد و خال ہندوستانی طرزِ تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں. دو سر والے عقاب کا تصور بابل کی قدیم تہذیب میں بھی ملتا ہے. اس کے علاوہ عقاب دنیا کے ایک بڑے حصے میں طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا.
سرکپ میں سینٹ تھامس محل بھی موجود ہے. سینٹ تھامس، حضرت عیسٰی علیہ السلام کے شاگرد اور صحابی تھے جو عیسائیت کی تبلیغ کے لیے ہندوستان آئے، ٹیکسلا میں اس مقام پر قیام کیا، آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر، یہاں کے بادشاہ Gonda phoras نے جو پہلے زرتشت تھا، عیسائیت قبول کی.
آج بھی پاکستان بھر سے عیسائی کمیونٹی، جولائی میں سینٹ تھامس فیسٹ منانے یہاں آتی ہے. یہاں دو حوض بھی بنائے گئے ہیں جہاں Baptism بپتسمہ کی رسم ادا کی جاتی ہے. ہم نے سرکپ میں، ان پتھروں کے بیچ، تقریباً ایک گھنٹہ گزارا.
یہاں مذہبی عمارتوں کے آثار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی شہر میں، ایک ہی محلے میں ایک ہی بازار میں اپنی زندگی کے شب و روز پرامن طریقے سے گزارتے تھے. یہاں ہر کوئی اپنی مرضی سے، آزادی کے ساتھ اپنے خدا کی پوجا اور عبادت کرتا تھا. کسی کے مذہب کو، کسی کے مذہب سے کوئی خطرہ نہیں تھا.
مجھے سرائیکی شاعر، قربان کلاچی صاحب کا ایک شعر یاد آ گیا
کہتے ہیں کہ
کوئی تاں حوالہ حیاتی دا باقی بچا
ول نئیں لدھا کتھائیں، وقت جے کوں مٹائے.
یہ محبت، یہ اتحاد، یہ یگانگت، یہ ایک دوسرے کو قبول کرنے اور برداشت کرنے کا رویہ یہ سب کچھ قدیم اہل سرکپ کی زندگی کا حوالہ ہے جو آج تک باقی ہے. یہ خاموش پتھر آج بھی اُن کی برداشت اور امن کی داستان سنا رہے ہیں.
آج کے دور کا انسان زیادہ ترقی پسند، زیادہ باشعور اور زیادہ تہذیب یافتہ کہلاتا ہے لیکن ہم مانیں یا نہ مانیں، آج کے دور میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے، دو مختلف مسالِک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے، دو مختلف ثقافتوں اور قوموں کے لوگوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے. اگر مجبوراً رہنا پڑ بھی جائے تو ایسے نتائج سامنے آتے ہیں کہ حیوان بھی اشرف المخلوقات سے شرما جائیں. اگر میری بات ماننے کو جی آمادہ نہ ہو تو ماضی قریب کی چند ایک مثالیں اٹھا کر خود ہی دیکھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا. اگر میں کوئی مثال دوں گا تو شاید کسی کو برا لگ جائے.
جب مثالیں یاد آ جائیں اور ان کا جائزہ لے لیں تو پھر سوچیے گا کہ ہزاروں سال بعد اگر کوئی سیاح ہمارے گلی محلوں میں آ گیا اور وہ ہمارے حیوانوں کو شرما دینے والے رویوں سے کسی بھی زریعے سے آگاہ ہو گیا تو اس کے ہاں ہمارا تعارف کیا اور کیسا ہو گا؟ ہماری زندگی کا حوالہ کیا ہو گا؟؟؟
کچھ عرصہ قبل، ٹیکسلا میوزیم سے تقریباً تین کلو میٹر دور، سینٹ تھامس کیتھولک چرچ تعمیر کیا گیا ہے، جہاں مقامی عیسائی کمیونٹی اپنی عبادات کرتی ہے.سرکپ کے دورے کے بعد ہم نے اُس چرچ کا بھی دورہ کیا. جہاں کرسمَس 2024 کی تیاریاں جاری تھیں.